عید کا دن تھا ۔ میں ڈیوڑھی کے پاس کھڑی تھی ۔ کنڈی بجی ، صحن میں اس دم کوئی نہ تھا ۔ مجید اندر آگیا ۔ وہ ہمارے گھر کے بزرگوں سے عید ملنے آیا تھا ۔ عید مبارک کہتے ، اس نے مجھے اس انداز سےچھوا کہ غصے سے بھبھک اٹھی ۔ وہ میرا سرخ چہرہ بھانپ کر جلدی سے آگے بڑھ گیا ۔ کچھ دن غصہ برقرار رہا ، پھر دل و ذہن میں ایک انجانی کسک جاگی ، یہ کسک بڑھتے بڑھتے گھائو ہوتی گئی ۔ تبھی بارشوں کا موسم آگیا ۔ کوئل کی کوک کے ساتھ یہ کسک بھی برہا کی ہوگ بن کر کانوں کو چھیدنے اور دل کو کریدنے لگی ۔ روح کو بے کل اور تن کو انگارہ کرنے لگی ، پھر تو من پاگل نے میری ایک نہ مانی ۔ ارمانوں کی بھیگی چادر اوڑھ کر میں ، رات کی سیاہی میں چھپتی چھپاتی ، مجید کی بیٹھک کے در پر ستک دینے جا پہنچی ۔ اس کا گھر ہمارے گھر سے ملا ہوا تھا اور اس کی بیوی میکے گئی ہوئی تھی ۔ وہ گھر میں اکیلا تھا اور میں اس وقت سارے جہاں میں اکیلی تھی ۔

ہم دونوں ملے ، وہ بھی شاید اسی دن کی راہ دیکھ رہا تھا ۔ اس نے اپنی شادی سے پہلے مجھ سے شادی کی قسم کھائی تھی مگر ماں کے دبائومیں ان کی بھانجی سے بیاہ رچالیا ، قسم بھلا دی اور میری محبت لولی لنگڑی ہوگئی ۔آج مگر جیسے میری معذور محبت کو پر لگ گئے تھے ۔ آخر اس قسم کا ایک بار تو اسے طعنہ دیتی جس کو اس نے خود کھایا اور پھر خود جھوٹا کر دیا ۔ پہلے تو میں نے اس کو خوب جلی کٹی سنائیں اور بے وفائی کے طعنوں سے کلیجہ چھلنی کیا۔ وہ چپ سنتا رہا ، پھر جب آنسوئوں کی دھارا میں سب شکوے ٖڈھل گئے تو ہم نے عالم بیداری میں ہی عالم بالا کی سیر کر لی ، ہماری محبت کا قصہ دوچار دن کا نہیں دس برس کا تھا ۔ اب میں نہ چاہتے ہوئے  بھی اس کے پاس جانے لگی ۔اپنے قدموں پر اختیار نہ رہا ، بجھی ہوئی راکھ کو کرید کرید  کر ہم چنگاریوں کو پھر سے  پھونکیں ماریں تو محبت کا شعلہ جاگ اٹھا ۔

قصہ مختصر اپنے وجود کی تمام تر            رعنائیوں اور چاہتوں کے ہاتھوں پاکیزگی کی بے داغ چادر کو پرے ڈال کر میں        اس کی ہوگئی ۔ ملاقاتیں روز     ہونے لگیں ۔       گھر والوں کا خوف اور دنیا کا دھڑکا جاتا رہا ۔ ہم ان حدوں کو چھو آئے کہ جس کی اجازت معاشرہ نہیں دیتا، وہ میری محبت میں سیانا بن گیا اور میں اس کی چاہت میں اندھی ہوگئی ۔محلے میں وہ ایک شریف نوجوان سمجھا جاتا تھا ۔ مگر اسی شرافت کے لبادے کو اوڑھ کر وہ اب راتوں کو بھی ملنے لگا ۔ میں اسی کو الزام کیوں دوں ؟دل ناداں پر کس کا اختیار بھیگی راتوں ، برستی بارشوں میں یہ میں ہی تھی  ۔ جو اس کا در کھٹکھٹایا کرتی تھی ، اس کی ماں دوا کھا کر مدہوش پڑجاتی اور بیوی روٹھ کر میکے جابیٹھی تھی ۔ اپنے جلتے وجود کی تپش کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ برستی بارش میں            گلی میں نکل آتا تو میں بھی آخر انسان تھی ، محبت کے جذبات جب الائو کا روپ دھار لیں     تو خود کو سنبھالنا محال ہوتا ہے ، میں ہی سلگتی ہوئی گھر کی دہلیز پار کر لیتی تو وہ کیا کرتا۔

مجھے دھکا دے کر تو واپس نہ کر سکتا تھا ۔ انجام سے نظریں چرالیں ۔ میں نے بہت بار باپ کی عزت اور خود کو جان پر کھیل کر رات کے اندھیرے میں سرحد پار کی ، جس کو بابل کی دہلیز کیا جاتا ہے اور اس نے ایک پھر قسم کھالی کہ کچھ دن ٹھہرو میں بیوی سے طلاق کے فیصلہ کو نمٹالوں ۔ یہ برادری کا معاملہ ہے اور میری گردن اس حصے سے بری طرح پھنسی ہوئی ہے ۔ تم سے جلد شادی کر لوں گا ۔ ایک بار پھر اس نے سنہرا خواب دکھایا اور ایک بار پھر میں اس خواب کے سنہرے پن میں جکڑی گئی ۔ انجام سے ہم غافل تھے ، انجام ہم سے غافل نہ تھی ۔ جب اس نے آنکھیں دکھائیں میں      تھرتھر  کانپنے لگی ۔ مجید سے منت کی کہ اس نے آنے والی                         گھٹنا سے نجات نہ ملی تو مر جائوں گی ۔ کیا ماں باپ کو منہ دکھائوں گی ؟اس نے کہا ڈرو نہیں میں نے قسم کھائی ہے ۔ اعتبار کرو اور ممتا کا دل نہ کچلومیں تم سے شادی کرنے پر تیارہوں اور پھر کیوں خون ناحق اپنےسر لیتی ہو، رازآشکار ہوتا ہے تو ہونے دو۔

ہرطر ح کے حالات کا میں ذمہ دار ہوں۔ اس کہانی میں میرا نام آنے دو،تمہارے گھر والوں کو مجھ ہی سے شادی کرنی پڑے گی ۔نہیں کریں گے تو کیا کریں گے ۔ وہ تعلیم یافتہ ہیں ، ان کو تمہاری جان اور اپنی آن پیاری نہیں ؟ اب یہ کام تو تم ہی کو کرنا ہے ، اپنی ماں کو اعتماد میں لو ، ورنہ میں تو تمہارے باپ کا در کھٹکھٹا کر یہ نہیں  کہنے والا کہ جلدی سے لبنی کی شادی مجھ سے کر دو، ورنہ تمہارے ناموس کا تاج محل تمہارے سر پر گرنے والا ہے ۔ اف کیسی مشکل میں ڈال دیا تھا مجید نے مجھے ۔دل تو میرابھی یہی چاہتا تھا کہ خود کو حالات کے حوالے کردوں ۔ تقدیر کے ہاتھوں میں دکھوں کا مگر بہت بھاری خنجر بھی تھا ، اور میں دکھوں کے خنجر کو دل میں اتار کر بھی محبت کی مالا گلے میں ڈالنا چاہتی تھی ۔ اپنے دامن میں چاہت کا پھول ڈال کر دل کے  تال پر رقص کناں آرزوئوں کی پینگ میں جھولنا چاہتی تھی ۔ ہمت کر کے ماں کو راز بتادیا ۔ وہ کلیجہ تھام کر رہ گئی ۔ اب وہ موڑ آچکا تھا کہ تدبیر سے بھی تقدیر کی سیاہی نہ ڈھل سکتی تھی ۔

والد کو ہم راز کرنے کاحوصلہ ماں میں نہ تھا اور خاندان کے ماتھے پر میرا یہ راز داغ  کا ٹیکہ بن کر لگنے والا تھا ۔ ایسے میں دادی نے ہمت کی اور میرے والد کے غصے کو قابو کر کے ان کو راہ جھائی کہ حل موجود ہے، خواہ مخواہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے، کالک لگ چکی اب ہر صورت سورج نکلنے سے پہلے اس کو دھونے کی کوشش کرو۔ ہوش مندی کا تقا ضا یہی ہے کہ مجید کا گلا جا پکڑو اور وہ تمہاری بیٹی کو قبول کرنے پر راضی ہے تو قاضی بلالو۔والد صاحب نے ایسا ہی کیا اور اعلان کر دیا کہ نکاح میں نے مجید سے کر دیا تھا ۔ اب رخصتی ہوگئی ۔ یہ سن کر سبھی عزیز سکتے میں آگئے ۔ مجید کی بیوی کو بھی اس کے میکے خبر ہوگئی ۔ وہ اپنے روٹھے رہنے پر لعنت بھیج کر بلکنے      لگی ۔ اب وہ آٹھ آٹھ آنسو روتی تھی اور میں نئی نویلی دلہن بن کر اس کی مہکتی سیج پر چڑھ بیٹھی تھی ۔

وقت مقررہ پر چاند سا بیٹا پالنے میں آگیا تو ساس بھی ہر غم بھلا کر پوتے کے پالنے کو چائو سے جھلانے لگی ۔ اب مجید کی پہلی بیوی کے میکے والوں کو تائو آیا، جو منتوں    سے نہ مانتے تھے خود ہی بیٹی کو مجید کے در پر لا ئے اور گھر میں دھکیل کر پہنچا دیا ۔ بیٹی سے کہہ گئے کہ مرو یا جیو اب تمہرا گھر یہی ہے اور مجید ہی شوہر ہے ۔ ایک اور شادی کرلے یا تین کر لے ۔ مرد کو چار کی اجازت تو ہے جو مرتی کیا نہ کرتی ، جو رانی تھی وہ رعایا بن کر رہنے لگی اور میرا حکم گھر پر مہارانیوں کی طرح چلنے لگا کیوں کی جس کو پی ا چاہے وہی سہاگن ۔مجید کے گھر والے اب میرے سامنے دبی زبان سے بات کرتے تھے اور سر جھکا کر چلتے تھے ،اس کی بیوی ٹھنڈی آہیں بھرتی تھی ، پھر ان آہوں کو مجید کے ڈر سے دل ہی میں گھونٹ لیتی تھی ۔

مجھ سے مگر زیر لب کہتی تھی ۔ گھر کی مالکن بن گئی ہے تو کام بھی سنبھال ۔تب میں جواب دیتی کہ تونے تو خود اپنے راج پاٹ کو لات ماری ، کیوں اتنے دنوں روٹھ کر میکے جابیٹھی تھی اور اپنے میاں کو اکیلا چھوڑ گئی تھی ۔اب میں ہوں مالکن ، میں راج پاٹ سنبھالا ہے تو راج کو کاج سے کیا نسبت؟ تب ساس کو دکھ ہوتا، کہتی مل جل کر شرافت سے رہو ورنہ ۔۔ورنہ کیا ۔ یہ سانجھے کی ہنڈیا ہے ، یونہی رہی تو بیچ چورا ہے میں پھوٹے گی ۔ بہتر ہے کہ اپنی بھانجی کو میکے بھجوادو ۔مجھ سے اس کا یہاں رہنا برداشت نہیں ہوتا۔بیٹی لبنی ، کیا تم کو خوف خدا   نہیں ، مگر اس کی لاٹھی بے آواز ہے ۔غرض اس تو تو میں میں ، میں گھر کا وہ حال ہوا کہ تو بھی رانی ، میں بھی رانی ، کون بھرے پنگھٹ کا پانی؟

وہ گھر کا کام نہ کرتی تو مجید سے پٹتیر ورو کر فریاد کرتی ، یہ موری کی اینٹ کیوں چو با رے لگی ۔تو اپنی کرنی آپ ہی بھوگی میں کیوں تیرا کیا بھگتوں ۔ میں جواب دیتی تو وہ گرہ لگاتی تب مجید پائوں سے جوتا کھینچ اس کو دے مارتا کہ کہاں تو میرے دل سے اتری ہوئی اترن اور کہاں یہ میرے من کی رانی ۔کہاں راجہ بھوج کہاں گنگوا تیلی   کہ تو خود کو لبنی سے ملاتی ہے ۔ اب تو اس کے منہ کو آئی تو چٹیا سے پکڑ کر چلتا کر دوں گا ، گھر سے جب مجید میری سوتن کو پھٹکارتا میں پھول جاتی اور اپنی کامیابی پر کھل اٹھتی ۔ اب نیلی چھتری والے کو تائو آیا۔ اس سے یہ ظلم کا تماشہ دیکھا نہ گیا ۔ مجید لاہور  جا رہے تھے کہ سکھر کے پاس ریل کے حادثے میں فوت ہوگئے ۔ موت نے اس ہستی کو ہم دونوں عورتوں کے درمیان سے اچک لیا جو وجہ عناد بنی تھی ۔ مجھ کو میری سوتن اپنی سیج پر سے دھکا نہ دے سکی مگر موت نے یہ وار کاری کر دکھایا ۔

ہمارے علاقے میں کھلی چھٹی تھی ، ہر آدمی کو آزادی تھی کہ چاہے انصاف نہ کر سکے پھر بھی جتنی بھیڑیں چاہے پال لے ۔ نکاح میں چاہے دس رکھ لیے ، مگر ان کے حقوق کی پروا کس کو ہے ۔ وہ تو اپنے رب کے پاس چلے گئے مگر میں بیوگی کی سفید چادر اوڑھ کر دو بیٹوں کے ساتھ بوڑھے ماں باپ کی دہلیز پر واپس آگئی ۔ میری سوتن ان کی رشتہ دار تھی ۔ برادری اس کے دکھ سکھ کی ذمہ دار تھی ۔ مکان ساس کے نام تھا وہ میری سوتن کو ملا اور ہر شے پر اسی کا قبضہ ہوگیا ۔ وہ گیارہ بھائیوں کی بہن تھی جبکہ میرا ایک ہی بھائی تھا ۔ وہ بھی تیرہ برس کا اب ابا کہتے تھے ۔ بدبخت اگر غلط رستے نہ چلی ہوتی تو آض اتنی بڑی سزا نہ ملتی ۔میں تو مرجائوں گا جانے بعد کو تیرے بچوں کا کیا ہوگا؟اور میں دل ہی دل میں چپکے چپکے کہتی تھی کہ آپ کو سزا ملی کہ سیدھے سبھائو مجید کو رشتہ نہ دیا ور مجھ سے غلطی ہوگئی لیکن مجھ کو سزا سوتن سے برا،بر تائو کرنے  کی وجہ سے ہوگئی ۔

میں نے اس کا دل جلایا ، غرور کیا ۔ اللہ نے اس غرور کی ایسی سزا دی کہ نہ شوہر رہا اور نہ غروررہا گھر سے بھی نکلنا پڑگیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں