دوپہر کا وقت تھا میری بیوی میرے پاس سو رہی تھی  ۔ کہ اچانک اس کے موبائل پر میسج کا نوٹیفیکیشن آیا ، میں نے اس کا موبائل اٹھا کر چیک کیا تو فیس بک پر کسی اشتیاق احمد کے نام کا میسج آیا تھا۔میں نے نا چاہتے ہوئے بھی میسج کھول لیا اس نے لکھا تھا کہ ہیلو شمائلہ کیسی ہو؟ میری بیوی کا نام شمائلہ ہے میں نے اس کو جواب میں میسج کرکے پوچھا کہ تم کون ہو؟اس نے جواب میں لکھا کہ شمائلہ تم مجھے کیسے بھول سکتی ہو۔ابھی کل تک تو تم میری بانہوں میں سوتی رہی ہو آج میرا نام بھی بھول گئی ہو ۔مجھے بہت حیرت ہوئی اور غصہ بھی آیا لیکن ساتھ ساتھ تجسس بھی جاگ پڑا کہ یہ کون ہے اور کیا واقعی میری بیوی کا ماضی میں اس کے ساتھ کوئی چکر رہاہے؟

میں نے اپنے شناخت چھپاتے ہوئے اپنی بیوی کی طرف سے اس سے بات کرنی جاری رکھی اور پوچھا کہ سچ میں میں نے تم کو نہیں پہچانا ، زرابتائو تو سہی کہ تم ہو کون ؟تو اس  نے جواب میں کہا کہ یونیورسٹی کے آخری دو سال ہم نےایک ساتھ گزارے ہیں اور اکثر شامیں بھی ہماری ساتھ گزرتی تھیں۔میں نے پھر انجان بنتے ہوئے پوچھا کہ اچھا اس کے علاوہ ہم کیا کیا کرتے رہےہیں۔میری طرف سے نرمی دیکھ کر وہ مزید کھل گیا اور کچھ شرمناک قسم کی باتیں کیں۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ کوئی ثبوت بھی ہے ۔ آپ کے پاس ہماری دو سال کی قربتوں کا یا فقط باتیں ہی کر رہے ہو؟

میری بات کے جواب میں کہنے لگا کہ رکو ابھی وہ تصویریں بھیجتا ہوں جو ہم نے سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے بنائی تھیں۔یہ کہہ کر وہ کچھ وقت کے لیے فیس بک سے غائب ہوگیا میں نے وہ وقت کانٹوں پر گزاراتھا۔دل کو عجیب سی بے چینی اور خوف لگا ہوا تھا ۔کہ اگر اس کے پاس سچ میں میری بیوی کی قابل اعتراض تصویریں ہوئیں تو میں دوبارہ اس کا سامنا کیسے کروں گا۔مجھے تو شمائلہ نے یہی بتایا تھا کہ اس کا شادی سے پہلے کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور میں نے آنکھیں بند کر کے اس کی بات پر یقین بھی کر لیا تھا۔لیکن آج جس دعوے اور یقین سے اشتیاق نامی شخص نے میری بیوی کی قابل اعتراض تصویریں بھیجنے کا کہا تھا ۔اس نے مجھے پریشان کر دیا تھا ۔

میں نے ایک نظر سوئی ہوئی بیوی پر ڈالی تو معصومیت اور وفاداری اس کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔میں نے دل میں سوچا کہ واہ مولا کیسے کیسے معصوم چہروں کا ماضی کتنا گھناؤنا ہوتا ہے۔ پھر اسی وقت دوبارہ میسج کا نوٹیفیکیشن آیا تو میں نے کانپتے ہاتھوں سے اس کی بھیجی ہوئی تصویریں کھولیں تو ایک گہرا سانس میرے سینے سے خارج ہوگیا وہ میری بیوی نہیں تھی۔تصویریں تو قابل اعتراض تھیں لیکن وہ میری بیوی شمائلہ کی نہیں تھیں۔میں جو کسی انجان آدمی کی باتوں میں آکر اپنی باوفا بیوی کے بارے میں غلط سوچ رہا تھا۔فورا دل سے توبہ کی اور اس آدمی کی حسب استطاعت بے عزتی کرنے کے بعد اس کو بلاک کر ڈالا اور تمام میسج ڈیلیٹ کرکے موبائل واپس اپنی بیوی کے سرہانے رکھ دیا وہ ابھی تک سکون سے سو رہی تھی اس کے چہرے سے سچی معصومیت جھلک رہی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں