میں ایک سر سبز وادی کی باسی تھی ۔ میرا جنم بھی اسی وادی کے ایک ایسے گائوں میں ہوا جو پہاڑ کی چوٹی پر تھا۔بچپن کا زمانہ ایک خواب کی طرح بیت گیا۔جب ذرا ہوش سنبھالا ، ہرے بھرے باغوں کی پر فضا چراگاہوں میں کسی تتلی کی مانند اڑتی پھرتی تھی ۔وادی کے حسن نے میرے خیالات کو جلا بخشی اور میں تصورات کی رنگ برنگی دنیا میں کھو گئی ۔ایک مدت اپنے نوخیز خوابوں میں گم رہنے کے بعد بالآخر تصورات کے خول سے باہر آئی۔پھر دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا، تو احساس ہوا کہ محبت کے رشتے تو سنہرے جال کی مانند ہیں ۔ دراصل محبت کے پردے میں زیادہ تر اعراض چھپی ہیں اور یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کا محتاج ہے۔

میں دنیا میں جس ہستی کے سہارے زندہ تھی وہ میری دادی تھی ۔ ماں باپ مجھے بچپن میں چھوڑ کر جاچکے تھے۔ دادی نے اپنی بانہوں میں سمیٹ کر نئی زندگی دی اور یہ نئی زندگی میرے لیے متاثر کرنے والی تھی ۔یو ں تو  پیار کرنے کو میرے والد کا پورا کنبہ موجود تھا لیکن وہ حقیقی پیار جو ماں باپ سے ملتاہے۔اس کی مہک ان رشتے داروں کے پیار میں کہاں تھی۔اگرچہ مجھے احساس نہ تھا کہ میں ایک یتیم بچی ہوں لیکن میں تھی تو یتیم ہی کبھی کسی کی نصیحتیں سنتی اور کبھی کسی کا غصہ سہتی۔بس اسی طرح میری زندگی کی  گاڑی روادواں تھی۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ میری اصل منزل کہاں ہے۔

دادی کا کنبہ بہت خوشحال تھا ۔ اس کنبے میں سبھی لوگ بے حد خوبصورت تھے، خاص طور پر میرے والد کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو میری کزن تھیں۔میری سبھی ہم جولیاں بہت پر اعتماد تھیں کیونکہ ان کے سروں پر ماں باپ کا سایہ تھا۔ وہ ایسے چمنستانوں میں دوڑتی پھرتی تھیں جیسے ان کے پرہوں۔ جن کے بل پر وہ ہر دم نئے آسمانوں کی سیر کیا کرتی تھیں۔انہیں کسی بات کا خوف نہ ستاتا لیکن میرا معاملہ بہت مختلف تھا۔مجھے ہر قدم پر ایک انجانا خوف گھیرے رہتا تھا۔کیونکہ دادی نے بچپن سے مجھے یہ کہنا شروع کیا تھا کہ دھیرے دھیرے چلو،جو قدم رکھو تو سنبھل کر رکھو۔

دیکھو کہیں ٹھوکر نہ لگ جائےکہیں گر مت جانا۔بس یہ خوف عمر کے بڑھتے بڑھتے میرے لاشعور میں کہیں چھپ کر بیٹھ گیا۔کہیں میں گر نہ جائوں ۔ یہی وجہ تھی کہ میں اس حقیقی مسرت سے محروم تھی ۔ جس سے میری ہم جولیوں کی جھولیاں بھری ہوئی تھیں۔ان کے پر اعتماد قدموں کی آہٹیں سنتی تو رشک کرتی کہ کیا ہی ان دیکھے پر لگے ہیں انہیں ۔بس انہی پروں کی خواہش نے مجھے بھی تڑپانا شروع کردیا۔ اب میں دادی سے بہ ضد ہوجاتی کہ مجھے بھی تیز تیز چلناہے بلکہ اڑتے ہوئے ہرجگہ جاناہے۔میں جہاں جائو جانے دیا کریں ۔ مجھے نہ روکا کریں۔ یہ الفا ظ کہنا چھوڑ دیے اب کہ دیکھو دھیرے دھیرے چلنا کہیں گرنہ جائو، مجھے خوف آتا ہے۔

اب آپ کے ان الفاظ سے لگتا ہے کسی دن انہی کی وجہ سے میں سچ مچ گر ہی نہ جائوں ور میرے پیروں تلے سے زمین نکل جائے۔وہ میری ان باتوں کو بچکانہ کہہ کر جھٹک دیا کرتیں اور پھر سمجھا بجھا کر منا لیتی تھی ۔ہر صبح جب میں بیدار ہوتی چڑیوں کی پہلی چہکار میرے کانوں میں پرتی ، روح کے دریچے کھل جاتے اور میں کمرے سے کھلے آنگن میں نکل آتی ۔ آسمان کی طرف نظر جاتی تو اڑتے  پنچھیوں کو دیکھ کر میں بھی بہت بلندی تک اڑنا چاہتی تھی ۔ آسمان کو چھونا چاہتی تھی ۔ میں چاہتی تھی کہ چاردیواری کی حدود سے نکلوں اور دنیا مجھے جانے، لیکن اس آرزو میں رنگ بھرنے کے لیےمیرے پر ہی نہیں تھے کہ جو میرے اس خواب کو سچ کرسکتے تھے۔

اس ادھوری سی کیفیت کے بیچ ڈولتے ، اسی طرح سویرے طلوع ہوتے رہے اور شامیں ڈھلتی رہیں۔ لیکن ان بے کیفیت ادھوری صبحوں اور شاموں کے درمیان بےبسی سے دوڑتے دوڑتے میرا رنگ روپ مرجھانے لگا۔تب دادی نے ایک دن جب مجھے بغور دیکھا تو ایک ٹھنڈی آہ ان کے لبوں سے نکل گئی۔انہوں نے اجازت دے دی کہ میں اب اپنی خوشی سے گھاٹیوں میں گھوم پھر سکتی ہوں اور دوڑ بھی سکتی ہوں اور پھر  تیز تیز قدموں سے چلتے چلتے ، سچ مچ دوڑنے لگی ۔مجھے لگا کہ اپنی ہم جولیوں کی طرح میرے بھی پر نکل آئے ہیں۔

اب میں روزانہ اپنی بکریاں لے کر دور چراگاہ میں نکل جاتی اور سہیلیوں کو بتاتی کہ میں کتنی خوش ہوں۔خوشی کے مارے میری سانسیں سنبھلتی نہ تھیں۔آخر کار ایک روز مجھے یقین ہوگیا کہ میں نہ صرف دوڑ سکتی ہوں بلکہ اڑبھی سکتی ہوں۔میرے پروں کو تصورات کی طاقت سے حسن ملتا تھا ۔ واقعی میرے پر بہت خوبصوت تھے، بالکل کسی تتلی کی مانند جو پھولوں کے جھرمٹ میں ہی خوش رہتی ہے۔ دادی مجھے خوش دیکھ کر خوش تھی مگر کبھی کبھی تفکر سے ان کے ماتھے پر ایک لکیر سی بن گئی ۔تب وہ کہتی بیٹی دیکھو اڑنا ضروری ہے۔کیونکہ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اڑان بھرنا بھی ضروری ہے۔ لیکن …دھیان سے اڑنا کہیں گر نہ جائو۔اف پھر وہی بات بچپن سے اس فقرے نے جو میرا پیچھا کیا تو کبھی نہ چھوڑا۔پہلے میں جو ان کی ہر بات پر عمل کرتی آئی ، اب سنی ان سنی کر نے لگی۔

میری ہم جولیاں گلابوں کی جستجو میں کتنی دور نکل جاتی تھیں اور دادی کا یہ فقرہ میرے پیروں کی زنجیر بن جاتا تو میں پیچھے رہ جاتی ۔ میرا بھی چاہتا کہ میں اس وادی میں پہنچوں جہاں گلاب کھلتے ہیں اوران کی مسحور کن خوشبو سے انسان کی زندگی بدل جاتی ہے۔سہیلیوں سے اس وادی کے حسن  کے تذکرے سنتی تو یقین ہونے لگا کہ وہ جگہ ضرور کسی پرستان کا حصہ ہےجسے میری ہم جولیاں دیکھ سکتی ہیں مگر میں جس سحر سے محروم ہوں ۔ میں اس نگری میں جانا چاہتی تھی جہاں محبت کی خوشبو کا راج برسو تھا مگر میری وہاں تک رسائی نہ تھی ۔ان دنوں مجھ پر دیوانہ پن چھایا ہواتھا۔ سچ کہا ہے کسی نے ، جب چیونٹی آتی ہے۔تو اس کے پر نکل آتے ہیں اور میں نے توبرسوں پروں کی آرزو کی تھی ۔

اب جبکہ دادی نے بھی تصدیق کردی کہ تیرے پر نکل آئے ہیں ، میں کیوں نہ اڑان بھرتی ۔اب میں صبح سویرے نکل جاتی اور شام ڈھلے گھر لوٹتی ۔ یہ میرا معمول ہوگیا۔دادی بوڑھی اور بے بس کیا کر سکتی تھیں۔وہ میرے جوان قدموں کو کیونکہ روکتی ، جبکہ میری زندگی کا کوئی مقصد نہ تھا اور میں اپنا مقصد زندگی ڈھونڈنا چاہتی تھی ۔ایک دن ایک سہیلی نے جب مجھے اداس پایا تو بولی آئو میرے ساتھ چلو ہم دونوں ساتھ ہوں گے ۔تو تمہیں گھاٹیوں کے ادھر تک جانے کی ہمت ہوگی ۔میں اس کے کہنے پر ساتھ ہولی چلتے چلتے اچانک وہ تو کہیں ادھر اُدھرہوگئی اور میں گلابوں کے اس وسیع مرغزار میں پہنچ گئی جس کی محسور کن خوشبو سے دل و جان ہی نہیں،روح بھی معطر ہونے لگی تھی ۔

میری نگاہ نجانے کیسے ڈھونڈرہی تھی کہ کسی نے عقب سے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔یہ گرفت اتنی مضبوط تھی کہ مجھے اپنی سانس گھٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔میں سسک بھی نہ سکتی تھی ۔مجھے لگا وقت تھم گیا ہے اور وقت کے ہر لمحے کو روگ لگا ہوا ہے۔ ہمارے گائوں سے کچھ دور یہ جگہ تھی جہاں طاقتور لوگوں کا بسیرا تھا ۔کسی امیر مقام کے صاحبزادے کا باغ تھا۔جس میں وہ چہل قدمی کیا کرتا تھا اور اسے حسین تتلیوں سے پیا رتھا۔ جب بھی وہ اپنے باغ میں پھولوں پر منڈلاتی کسی تتلی کو دیکھتا تو اسے اپنی مٹھی میں بند کر لیتا تھا ۔اس نے مجھے بھی کوئی حسین تتلی سمجھا تھا ، شاید تبھی اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہتا تھا ۔یہ سوچے بغیر کہ میرا دم گھٹ جائے گا۔

خدا کا شکر کہ اس سے پہلے کہ میرا دم گھٹ جانے کا المیہ واقع ہوجاتا ،امیر مقام وہاں آنکلا۔اس نے جو اپنے صاحبزادے کا ہاتھ میر ی جانب بڑھا ہوا دیکھا تو اپنے بیٹے کو تپتا اور میرے سر پر اپنے ہاتھوں کا سایہ کر دیا۔ امیر مقام نے کہا اے لڑکے حیا کرو معصوم تتلیاں نازک ہوتی ہیں۔تم کیوں اس کا دم گھونٹ دینا چاہتے ہو۔ہٹائو اپنا ہاتھ اس کے منہ سےدیکھو اس کا سانس رک رہاہے۔یہ سانس نہ لے سکی تو مرجائے گی تو اس کے قتل کا گناہ تمہارے سر ہی نہیں ، میرے سر پر بھی ہو گا۔ معلوم ہے نا کی میں اس علاقے کا والی ہوں اور علاقے کا والی تمہارا باپ ہی نہیں، میں اس لڑکی کا بھی والی ہوں ۔ اگر تم میرے بیٹے ہو تو علاقے کی ہر لڑکی میری بیٹی ہے اور یہ تو پھر یتیم ہے۔

اس کی حفاظت کا حق مجھ پر گہرا ہے۔ میں امیر مقام کے پیچھے چھپ گئی ۔ میرے دل نے اس کو دعادی ۔ جائو بیٹی بحفاظت اپنے گھر چلی جائو۔ اپنی دادی کو میرا سلام کہنا اور دوبارہ ادھر اکیلی مت آنا ۔ آنا ہو تو اپنی دادی کے ساتھ آنا میں تشکر کی نگاہوں سے اسے دیکھا۔پھر میں تیز تیز گھر کی طرف چلنے لگی تو اس نے کہا۔دیکھو بیٹی آرام سے چلو ہر قدم دھیرے سے اٹھائو ایسا نہ ہو کہ کہیں گر جائو۔اس نے بھی دادی والی بات کہی تو مجھے یقین ہوگیا کہ دادی کا یہ فقرہ جو میرے بچپن سے وہ میرے کانوں میں ڈالتی آئی تھی ، بے معنی اور بے وزن نہیں تھا۔اس میں ضرور میری بھلائی  پوشیدہ ہوگی ورنہ وہ ہر روز برسوں تک یہی ایک بات میرے کانوں میں کیو ں کہتی رہتی ۔

ہانپتی ہوئی جب میں اپنے گھر کی دہلیز تک پہنچی ۔دادی کو بے قراری سےاپنا منتظر پایا۔اس نے میرے خوفزدہ چہرے پر نظر ڈالتے ہی کہا میں نے کہا تھا نا کہ دھیرے چلاکرو، ورنہ رستہ بھٹک جائو گی ۔تیز مت چلا کرو ورنہ گر جائو گی ۔ شکر ہے دادی کہ میں رستہ بھٹکی اور نہ گری ، میں عافیت سے ہوں۔ہاں بیٹی جس کے علاقے کا امیر مقام نیک اور شریف ہو وہاں عافیت ہی ہوتی ہے، حالانکہ جہا ں تم گئیں، یہ طاقتوروں کی دنیاتھی ۔جہاں وہ جو چاہتے کرسکتے تھے۔اسی طرح اس نیک انسان نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا جس کے دم سے ہمارے اختیار کی خوشبو باقی رہتی ہے، ویسے ہی باغ کی ہر شے کی حفاظت بھی ہماری ذمے داری ہے کیانکہ اسی سے ہمارےمقام کی خوبصورتی قائم ہے۔

وہ تتلیاں ہوں کہ معصوم چہکتی چڑیاں یا پرندے ، سبھی اس باغ کے باشندے اور اس کی زینت ہیں ۔ ان کو مٹھی میں بند کر کے ان کا دم گھونٹ دینے سے یہ اگر مرجائیں تو ہم ہی ان کے قاتل ٹھہریں گے اور قتل کی سزا کیا ہے؟ قاتل کی موت خون کا بدلہ خون تو کیا تمہیں یہ بدلہ منظور ہے یا اس باغ کی بہار مطلوب ہے۔ غرض بیٹے کو سمجھایاتو اس نے اپنی روش کو ترک کیا اور اپنے جیسا عالی مقام ہوجانے کی قسم کھائی ۔تب یہ لوگ دادی کے پاس آئے اور انہوں نے میرا رشتہ ان سے نہایت عاجزی سے طلب کیا۔ دادی خوش ہوگئی کہ اب میں جو ایک معمولی سی یتیم لڑکی تھی ، علاقے کے امیر کی بہو ہونے جا رہی تھی ۔ رخصتی کے وقت دعا کے ساتھ میری دادی نے ایک کلمہ اور بھی کہاتھا کہ میری بچی جائو سدا خوش رہو ۔ لیکن جاتے ہوئے اپنے پر میرے حوالے کرتی جائو  اور جب بھی چلو، ہمیشہ دھیرے دھیرے چلنا کیونکہ عورت اس طرح چلتی ہے تو وہ ٹھو کر کھانے سے بچ جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں