جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے زمانے بھر کی معلومات حاصل ہوتی ہے۔ وہاں  اکثر لوگوں کی زندگیاں بھی  برباد ہوتی ہے۔ اور جانے کتنی زندگی نہ جانے کب تک برباد ہوتی رہے گی۔ یہ واقعہ میرے ساتھ اس وقت پیش آیا جب میں اٹھارہ برس کی ایک نا سمجھ دوشیزہ تھی۔ جو لڑکیاں بنا سوچے سمجھے نیٹ کو استعمال کرتی ہیں۔ انہیں میری داستاں سے بہت  کچھ حاصل ہوگا۔ ہم تین بہنیں غیر شادی شدہ  تھیں۔ جبکہ ایک کی شادی ہو چکی تھی ۔آپی زہرا کی شادی پھوپھی زادسے ہوئی ۔وہ اپنے گھر میں خوش تھیں۔ لیکن ان کے بعد کی  دونوں بہنوں کی شادیاں نہ ہو سکیں۔ اگرچہ والدین نے بہت کوشش کی کہ ان کا بھی کسی اچھے گھرانے میں رشتہ ہوجائے مگرمراد بر نہ آئی۔  اللہ جانےکیسی رکاوٹ تھی کہ باوجود ہزار جتن کے میری بہنوں کے ہاتھ پیلے نہ کر پائے۔ وقت کبھی تھمتانہیں، تیزی سے گزرتا رہتا ہے۔ سو گزرتا رہا۔ آپی نے بھی کچھ رشتے تلاش کر کےبتلائے۔کسی میں کچھ خرابی  نکل آئی تو کسی  رشتے کو کسی خاص وجہ سے رد کرنا پڑا۔یوں  میرے دونوں بہنوں کی شادی کی عمریں نکل گئیں،اور وہ بن بیاہی رہ  گئیں۔

 ان کےبعد کے تین بھائیوں  کی شادیاں ہوگئیں اور بھابھیاں گھر میں آگئیں۔ انہوں نے کافی جتن کئے۔اچھے رشتے شاید  میری بہنوں کے نصیب میں نہیں تھے۔سبھی جانتے ہیں کہ بھابھیاں خواہ کتنی اچھی ہوں، جب گھر آجاتی تو گھر کا ماحول بدل جاتا ہے۔ خاص طور پر  یہ نندوں اور بھابھیوں کے لیے ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کہ وہ آپس میں حسن سلوک کو کس طرح قائم رکھیں تاکہ گھر کا ماحول پرسکون رہے۔بھا بھیاں گو کہ اچھی تھیں پھر بھی نند بھاوج کے نازک رشتے  میں دراڑیں پڑجاتی تھیں، حالانکہ میری بہنیں گھر کا سارا کام کرتیں  اور بھابھیوں  کے بچے بھی سنبھالتی تھیں، پھر بھی انہیں بوجھ ہی تصور کرتی تھی۔میں والدین کی سب سی چھوٹی بیٹی تھی اور کالج میں پڑھ رہی تھی۔ ان دنوں سکینڈ ایئر کے طالبہ تھی۔ جب ہمارے یہاں انٹرنیٹ کا استعمال شروع ہوا۔نئی نئی چیز تھی تو مجھے بھی شوق ہواکسی سے چیٹنگ کروں۔کالج سے آکر  کھانا کھانے کے بعد فورا کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ جاتی اور آن لائن گیم کھیلنے لگتی۔ان گیمز میں سب سے زیادہ مجھے شطرنج پسند تھی کیونکہ وہاں چیٹ بھی ہوتی۔اگر چہ میں اس کھیل کی ماہر نہ تھی مگر اس وجہ  سے کھیلتی کہ چیٹ  بھی کر سکتی تھی اور اس میں لطف آتاتھا۔ ان دنوں مجھے عقل نہ تھی ۔ کچھ نہیں پتا تھا کہ باہر کی دنیا کیسی ہے اور لوگ کس قسم کے ہوتے ہیں۔ سبھی کو اپنے جیسا معصوم سمجھتی تھی۔ ایک روز ایک لڑکے کے ساتھ شطرنج کی بازی لگا لی  اور کھیل شروع ہوگیا۔وہ ایک ماہر کھلاڑی تھا، اس نے مجھےاس  گیم  کے بارے میں بہت کچھ سکھایا۔

 یوں ہم گیم کے حوالے سے چیٹنگ کرنے لگے۔ اس کا نام بشیر تھا اور وہ کینیڈا میں رہتا تھا۔ تقریبا ہم روز ہی چیٹنگ کرتے اور ہمارا آن لائن رہنے کا ایک ٹائم مقرر تھا۔میں اس سے گھر والوں سے چھپ کر باتیں نہیں کرتی تھی بلکہ بہنوں کو بھی اس بات کا علم تھا۔ بات آگے بڑھی اور ہم دونوں ایک دوسرے کو میل بھی کرنے لگے جس میں وہ کینڈا  کے بارے میں معلومات دیتا اور میں اپنے وطن کی باتیں   لکھا کرتی۔ ہم دونوں ملکوں کا ان کی  اچھائیوں اور برائیوں سے مقابلہ کرتے۔میں لکھتی اپنے وطن سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہوتی اور وہ بتاتا کہ بے شک۔ مگر انسان کو دوسرےملکوں میں بھی آنا چاہیے کیونکہ اس طرح ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں اور دوسروں کی تہذیب وتمدن  کے بارے میں جانتے ہیں۔ تو ہمارا ویژن وسیع  ہوتا ہے۔غرض اسی طرح کی باتیں لکھ کر  ہم ایک دوسرے کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے۔ گھر  وا لے میرے اس مشغلے پرکوئی  اعتراض نہیں کرتےتھے اور نہ توجہ دیتے کیونکہ میں ایک گھریلو لڑکی تھی ، کہیں آتی جاتی نہ تھی سوائے کالج کے۔بس  گھر میں بیٹھ کر کمپیوٹر سے دل بہلاتی تھی۔ کہتے ہیں کہ آگ اور  کپاس کا میل  نہیں،  کسی نے سو فیصد درست کہا  ہے۔بالآخر نوبت یہاں تک آگئی کہ ایک روز بشیر نے مجھ سے سوال کیا شاہ با نوکیا تم کسی کو پسند کرتی ہو؟یہ وہ سوال تھا جس کی شعوری یا لاشعوری طور سے منتظر تھی۔ میں نےکہا ، پہلے  تم بتاؤ، بعد میں میں  بتا ئوں گی۔ ہاں میں! کبھی کسی کو پسند کرتا تھا ۔

مگر اس کی شادی ہو گئی اوراب  وہ بہت دور جا چکی ہے۔ میں نے دکھ کا اظہار کیا یہ تو بہت دکھ کی والی بات ہے۔ اے کا ش  کہ تمہاری خوشیاں تمہیں مل جائیں۔ضروری نہیں کہ انسان جسے پسند کرے وہ اسے مل بھی جائے۔یہ قسمت کی بات ہے  لیکن اس بات پر انسان جینا  نہیں چھوڑ  دیتے۔ دیکھو میں جی رہا ہوں نا… اور بہت خوش وخرم  ہوں ۔ بشیر کی اس بات پر مجھے مزید اس کے ساتھ ہمدردی  ہوگئی۔ اس قسم کے سوال و جواب کے بعد ہم دونوں کے درمیان ایک اپنائیت بھرا رشتہ قائم ہوگیا اور اب ہم اپنے دکھ سکھ  ایک  دوسرے سے شیئر کرنے لگے۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھ سے  بڑی دو بہنوں کی شادیاں نہیں  ہو سکیں  اور اب وہ اوورایج ہو چکی ہیں جس کا انہیں ہی نہیں ،  تمام گھر والوں کو دکھ ہے۔ بہت اچھے رشتوں کی چاہ میں والدین معمولی رشتے رد  کرتے ر ہیں۔ پھر معمولی رشتہ بھی نہیں ملتے۔ اب ان بچاریوں کی زندگی کا مقصد صرف بھائیوں اور بھابھیوں کی خدمت کرنااور  ان کی مرضی سےجینا رہ گیاہے۔جب بھی میں  اپنی بہنوں کا ذکر کرتی وہ بھی دکھی ہو جاتااور کہتا،دیکھو تم شادی میں دیر نہ کرنا ورنہ وقت گزر جائے گا اور تم بھی پھر ان کی طرح بیٹھی رہ جاؤ گی لہٰذا جو پہلااچھا رشتہ آئے، ہاں کر دینا ۔والدین سدا کسی کی نہیں رہتے ہیں۔ لڑکی کی   زندگی جب دوسروں کے  رحم و کرم پررہ جاتی ہے۔  تو وہ بہت کسمپرسی  کی زندگی گزارتی ہے۔

 جلد ہی مجھے محسوس ہوگیا کہ وہ مجھ میں دلچسپی لے رہا ہے۔روز  کوئی ایسا میسج بھیجتا جس میں میرے لیے خاص بات پوشیدہ ہوتی۔ وہ آن اشاروں کے ذریعےمیری  تعریف کرتا اور کہتا وہ بہت خوش نصیب ہے۔ جو مجھ جیسی سچے جذبوں کی مالک لڑکی سے اس کا تعارف ہوا۔ خود میں بھی سمجھنے لگی تھی۔ کہ اس کمپیوٹر  میں میرا آئیڈیل چھپا ہوا ہے۔ ایک دن اس نے بتایا کہ وہ اپنے ایک عزیز کی شادی میں پاکستان آ رہا ہے۔ میں خوش ہوں گئی جیسے کسی  نے اچانک انعام میں کوئی بہت قیمتی چیز دینے کا اعلان کر دیا ہو۔میں   تو اس سے ملنے کے خواب دیکھتی تھی  ۔جو اب حقیقت کا روپ دھارنے  والےتھے۔ ایک دن جب وہ آن لائن  تھا ، اس نے مجھے کہاکہ  اگر میں پاکستان آیا تو کیا تم مجھ سے ملو گی۔ ہاں ضرور ملوں گی۔ مجھے تم سے ملنے کی بہت آرزو ہے۔مجھے بھی آرزوہےمیں نے جواب دیا۔  سوچابھی  نہ تھا کہ  کبھی  تم یہاں آئو گے اور میں تم سے مل پاؤ گی۔بشیر  نے اس دن  کہا تھا کہ اگر  تم نےملنے  کے بعد مجھے پسند کر لیا اور میں نے تمہیں گھر کی عزت بنانا چاہا تو  کیا تم ہاں میں جواب دوں گی؟ میرے دل میں ہزاروں پھول کھل گئے مگر میں نے بن کر جواب دیا، جی پہلے تم آتو  جاؤ۔پھر سوچوگی۔ میں نے اپنی بہن کوبتایاکہ  وہ شطرنج کا کھلاڑی کسی کی شادی اٹینڈ کرنے پاکستان آ رہا ہے، ہم سے ملنے بھی آئے گا۔

 وہ بولی،امی کو بتا دو تاکہ وہ  گھر والوں کو راضی کر لیں۔ تب ہی ہم اس کی گھر پر مہمان داری کر سکیں گے۔ باجی یہ  بات تم خود امی سے کرنا۔ مجھے لحاظ آتا ہے۔ پہلےمجھ  سے اس کی  بات  کرا دو. اندازہ تو ہو کس قسم کا ہے پھر امی سے ذکر کروں گی۔ میں نے باجی سلطانہ کی اس سے فون پر بات کرائی ۔انہیں اس کی گفتگو اچھی لگی۔اب مجھ سے وقت کاٹے نہ کٹتا تھا اور پوچھتی تھی کب آئوگے اور وہ جواب دیتا کہ جلدآئوں گا۔مہینوں  یونہی  گزر گئے،اوروہ  پاکستان نہ  آیا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مجھے بےوقوف بنا  رہا ہے۔ میں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔ وہ  بولا، ہرگز ایسی  بات نہیں ہے۔ دراصل میں بہت مصروف ہوں تبھی  شادی میں نہیں آ سکا۔ ہم پھر کب اور کیسے ملیں گے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا ۔وہ بولا اپنی تصویر بھیجو گی ؟میں اپنے والدین کو دکھا کر کہتا ہوں کہ تمہیں تمہارے والدین سے مانگ لیں۔ اس طرح ہم کبھی نہ بچھڑنے  کے لیے مل جائیں گے۔ یہ بات سن کر خوشی اور حیرت میں ڈوب گئی۔ وہ مجھے پر پوز کر رہا تھا اور یہ میں نے سوچا تک نہ  تھا کہ اپنے والدین کو دکھانے کے لیے  وہ میری تصویر مانگ لےگا۔میں نے اپنی تصویر اسے بھیج دی۔تصویر دیکھ کر فورا میل کی کہ اپنی امی سے بات کرائو۔اس نے ان سے کافی دیر باتیں کیں۔  اس نے  کہا کہ میں نے شاہ بانو کی تصویر دیکھی ہے اور گھر والوں کو بھی دکھادی ہے۔ انہوں نے آپ کی بیٹی کوپسند  کرلیا ہے۔  آپ بے فکر ہو جائیں گے۔ میرے والدین جلد رشتے کے لیے آپ سے بات کریں گے۔

 کافی دن گزر گئے.لیکن اس کے والدین کا فون آیا اور نہ رشتے کے لئے کوئی بات ہوئی۔ ادھر امی  انتظار میں تھیں۔ کہتی تھیں کہ بات چھیڑ کر  پھر بھول گیا۔ اپنے گھر والوں کی تصویر مانگی تو گول  کر گیا۔ نجانے کیسا لڑکا ہے۔ خود ہی شادی کیلئے پرپوز کیا اور خود ہی گریز کر رہا ہے۔ مجھے تو دھوکے باز لگتا ہے ۔میں کہتی کہ دھوکہ کرنا ہوتا تو مجھےبےوقوف بناتا رہتا۔ بالکل بناتا رہتا آپ سے بات کیوں کرتا۔ اس نے اپنی تصویر تو بھیجی ہے۔باجی نے میل کی کہ اپنے گھر والوں کی تصاویر بھیجو۔ اس نے جواب دیا کہ گھر میں کچھ پریشانیاں ہیں،ذرا مہلت دو  وہ خود آپ کے  گھر آجائیں گے۔ جب ایسے ہی سال گزر گیا تو باجی سلطانہ نے کہا کہ یہ شخص صیح نہیں لگتا۔ اس کا خیال چھوڑ دو اور اس سے رابطہ ختم کر دو مگر مجھےیقین تھا کہ ضرور کچھ پریشانیاں  ہوں گی ۔بشیر کی نیت صاف تھی، تبھی خود پرپوزکیا اور شادی کی بات کی ورنہ میں نے تو اسے مجبور نہیں کیا تھا۔اتفا ق سے میری دوستی ایک لڑکی سے ہوگئی  جس کا نام ادیبہ  تھا اور وہ ہماری کلاس میں نئی  آئی تھی۔با توں باتوں  میں اس نے ایک دن ذکر کیا  کہ  امتحان کے بعد اس کی شادی اپنے کزن سے ہونے والی ہے جو کینیڈا میں رہتا ہے۔نام پوچھا تو وہ گول کر گئی۔ نہ جانے یہ  مجھے اپنے منگیتر کا نام کیوں نہیں بتا رہی ،میں سوچتی رہ گئی ۔ بشیر نے دراصل اسے بتایا ہوا تھا کہ شاہ بانو نامی ایک لڑکی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے وہ تھرڈایئر میں  پڑھتی ہے۔

تبھی ادیبہ نے مجھ  سے دوستی کی تھی۔ اسے غالبا شک  ہوا کہ کہیں وہ لڑکی میں تو نہیں ہوں لیکن میں نے اس سے کبھی  ذکر نہ کیا کہ میری کسی کے ساتھ چیٹنگ  ہوتی ہے اور وہ کینیڈا میں رہتا ہے۔ بہرحال ادیبہ سے میرے دوستی  بہت اچھے انداز میں استوار ہوگئی۔ فورتھ ائیر ختم ہوا اور ہم امتحان  فارغ ہوگئے۔ ادیبہ میرے گھر آئی اور مجھے اپنی شادی کا کارڈ دے گئی جس پر اس کے ہونے والے شوہر کا نام درج تھا۔ بشیر . میرا دل دھک سے رہ  گیا۔ خدا نہ کرےکہ یہ وہی ہو  ،کیا جھوٹ تھاکیا سچ مگر میں ابھی تک اس خواب میں جی رہی تھی کہ بشیر ایک د ن آئے گااور مجھے میرے والدین سے مانگ کر  خوابوں کی دنیا میں لے جائے گا، حالانکہ حالات واضح تھے، پھربھی میں حقیقت کی تلخی کا مقابلہ کرنا نہیں چاہتی  تھی۔ آنکھیں بند رکھنا چاہتی تھی کہ دھوپ کی تپش برداشت کرنے کی مجھ میں تاب نہ  تھی ۔ انسان بھی کیا چیز ہے، سب کچھ جانتے جانتے بوجھتے خود فریبی کے سہارے جینا چاہتا ہے۔ بشیر بہت بڑاڈرامے باز  نکلا جس کا اندازہ مجھے بعد میں ہوا جب ایک دن ادیبہ کے گھر میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی جسے ادیبہ  نے اپنی ہونے والی نند بتایا۔اس لڑکی کا نام  ماہم تھا وہ بولی کہ  میرا بھائی بشیر، ادیبہ کو پسند کرتا ہے اور ان کی منگنی ہو چکی ہے۔ وہ مجھے اپنے بھائی کی تصویر دکھانا چاہتی تھی ۔

 مگر میں نےمنگنی کی تصویر نہیں دیکھی اس خوف سے کہ کہیں یہ وہی  بشیر نہ ہو جس سے میں  کبھی نہیں ملی تھی۔ مگر تین برسوں سے اسے خوابوں میں دیکھتی تھی کہ وہ میرے گھرآیا   میرا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے۔ انتظار کی اذیت سہتے سہتے میری صحت خراب ہوگئی اور پھر اس کی نقلی محبت کا ملمع  اترا جس کے  انتظار میں، میں دن رات گھڑیاں گنا کرتی تھی۔ ادیبہ نے اصرار کیا کہ میری شادی پر ضرور آنا۔میں نےخاص طور پر نئے جوڑے سلوائے تا کہ  اپنی دوست کی شادی میں اچھی لگوں۔ اس کی شادی والے دن  جب تیار ہو کر شادی ہال پہنچی تو وہ اپنی دلہن کے ساتھ  اسٹیج  پر بیٹھا ہوا تھا۔ہاں یہ وہی بشیر تھا۔  میں نے اسے پہچان لیاجب کہ  اس نے اپنے ایک ہی تصویر بھیجی تھی۔ اب اس کا اصلی روپ سامنے آ گیا تھا کیونکہ اس نے مجھے دور سے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔ جب میں اسٹیج کے نزدیک ہوئی تو اسے کسی اور کے دولہےکے روپ میں دیکھ کر  میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔ آنسو  دل کی تہہ سے نکلے اور آنکھوں میں بھر گئے۔انہیں روکنامشکل ہوگیا ۔ادیبہ کی بہن میرے پاس آئی اور بولی آپ کو آنے میں کافی دیر ہوگئی، ہم کب سے انتظار کر رہے تھے، آئیے میرے ساتھ وہ  میرا ہاتھ پکڑ کر لے گئی  اور خاص مہمانوں کے ساتھ لے جا کر  بٹھا دیا جہاں بشیر کی  والدہ اور بہنیں  بیٹھی ہوئی تھیں۔

 وہ آپس میں باتیں  کر رہی تھی۔ ان کی باتوں سے  اندازہ ہوا کہ وہ  پہلے بھی آ چکی ہے ۔دو سال قبل بشیر کی منگنی ادیبہ سے کرنے  آئی تھیں  اور اب شادی پر دوبارہ یہ  لوگ آئے تھے۔ جب بشیر  نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کسی عزیز کی شادی میں آرہا ہے، وہ کسی اور کی شادی میں نہیں بلکہ اپنی منگنی کی تقریب میں آیا تھا۔ اف میں بھی کس کے ساتھ خوابوں کی ڈوریوں میں الجھ گئی تھی ۔ کیسے اور کہا پھنس گئی تھی۔میرے چاروں طرف پہلے بھی دھند تھی اور اب بھی دھند ہے۔ دل نے کہا اسے بد دعا دے جس نے تمہیں اتنے دن پاگل بنائے رکھا مگر بد دعا بھی نہ دے سکی  ۔ آج پچھتاتی ہوں کہ اسے اپنی تصویر کیوں بھیجی جب کہ وہ مجھے بے وقوف بنا رہا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں