والد صاحب اگر چہ لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کے مخالف نہ تھے لیکن وہ بیٹیوں کی وقت پر شادی ہوجانے کی بھی فکر کیا کرتے تھے ۔ تبھی انہوں میٹرک کا رزلٹ آتے ہی میر ی منگنی تایا زاد زین سے کر دی ۔ زین مجھے شروع سے  نہ بھاتا تھا ۔  لڑکپن میں جب ہم تایا کے گھر جاتے ، وہ میرے آگے پیچھے پھر تا ۔ اس کا یوں توجہ دینا اور انداز وارفتگی مجھے ایک آنکھ نہیں بھا تا تھا ۔ جب میری اور اس کی شادی کا ذکر کیا ، میں بے چین رہنے لگی ۔ اس سے شادی ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ یوں بھی ابھی میری شادی کی عمر نہ تھی ۔ میرے کچھ خواب تھے ۔ میں کالج اور یونیور سٹی کی تعلیم مکمل کرنا چاہتی تھی ۔ اپنا مستقبل روشن کرنا چاہتی تھی ۔ والدہ سے کہا ابو سے کہیں کہ مجھے تعلیم مکمل کرنے دیں ۔ مجھے زیادہ پریشان دیکھ کر وہ بھی پریشان ہوگئیں۔ انہوں نے والد کو سمجھایا کہ ابھی نرمین شادی کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہے۔ وہ مزید پڑھنا چاہتی ہے ۔ ایسا نہ کہ شادی کے بندھن سے گھبراجائے اور مسائل پیدا ہوں۔

اسے کم از کم گریجوشن کرنے دی ۔ زین ابھی پڑھ رہا ہے ۔ آپ کو نرمین کی شادی کرانے کی اتنی کیا جلدی ہے ۔ زین تعلیم مکمل کر لے نوکری پر لگ جائے ، تب شادی بھی ہوجائے گی ۔والدی نے کچھ اس طریقے سے بات کی کہ ابو کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے میری خواہش کے مطابق کالج میں داخل کرادیا ۔ شکرکیا کہ کالج کے بہانے کم از کم تو سکون مل گیا کہ زین جیسے شخص کے ساتھ بندھن میں بندھ جانے سے فی الحال بچ گئی ۔ گریجویشن ہوجائے تو وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔ میں نے اپنے دل کو تسلی دی اور پڑھائی میں لگ گئی ۔ تایا ابو کو والد نے منا لیا کیونکہ تعلیم مکمل کرنے کے لیے زین کو بھی وقت چاہئے تھا ۔ چار سال گزر گئے ، پتا بھی نہ چلا اور میں نے فائنل کا امتحان دے دیا ۔ والد کو اس با ت کا انتظا ر تھا کہ کب میں بے اے کروں اور وہ میری شادی کے فرض سے سبکدوش ہوں ۔ اب پھر میری شادی کے تذکرے شروع ہوگئے ۔ برسوں کی منگنی کے بعد بھی مجھے تایا کی بہو بننا پسند نہ تھا ۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ہمارے شہر کی نسبت ایک چھوٹے شہر میں رہتے تھے  جبکہ ہماری رہائش اسلام آباد میں تھی ۔میری پرورش شروع سے کھلے ماحول میں ہوئی تھی ۔ والد ، والدہ ، بھائی بھی تعلیم یافتہ تھے جبکہ تایا ایسے ماحول میں رہتے تھے جو کہ میرے لئے بہت زیادہ کھٹن زدہ تھا ۔ ان کے گھر ایک دن گزرانے سے بھی وحشت محسوس کرتی تھی ۔ وہ لوگ رویات کے سخت پابند تھے ۔ گھر کی عورتوں کو کہیں آنے جانے کی اجازت نہ تھی ۔ اگرچہ برادری والے ہمارے کھلے ماحول کو اچھی نظر سے نہ دیکھتے تھے لیکن تعلیم یافتہ ہونے کے سبب میرے والدین گائوں والوں کی طرح روایت پرست نہ رہے تھے ۔ والد صاحب نے مجھے پڑھایا لکھایا،بھائی نے گاڑی ڈرائیو کرنا سکھائی ۔ اب میں خود گاڑی ڈرائیو کر کے کالج چلی جاتی تھی ۔

یہ باتیں ہمارے تایا کہ گھر والوں کو پسند نہ تھیں لیکن وہ پھر بھی مجھے بہو بنانے کے خواہش مند اور منگنی برقرا ر رکھی تھی ۔ کیونکہ زین کی شدید خواہش تھی کہ میں ہی اس کی جیون ساتھی بنوں ۔ اب جب بھی تایا کے ہاں جانا ہوتا، میں ان لوگوں سے روکھے پن سے ملتی ، جس پر تائی مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی تھیں۔ وہ پریشان تھیں کہ آخر مجھے پرابلم کیا ہے جبکہ زین تو لاہور شہر کے کالج میں انجینرنگ کررہا ہے اور اس کا مستقبل بھی روشن ہے ۔ زین شکل و صورت کا اچھا تھا ۔ اب اس کا  وہ پہلے والا رویہ نہ رہاتھا۔وہ سنجیدہ ہوگیا تھا ۔ بڑے شہر کے اعلی درجے کے کالج میں پڑھنے سے اسے شعور آگیا تھا لیکن مجھے اب بھی وہ اچھا نہ لگتا تھا ۔ شاید کہ بچپن کی نا پسندیدگی سے دل اس سے دور ہوگیا تھا ۔ ہمارے بڑے ماموں سرکاری افسر تھے اور اسلام آباد میں قیام پذیر تھے لیکن والد صاحب ان سے زیادہ میل جول نہ رکھتے ۔ معلوم نہیں کیا وجہ تھی ۔

بہر حال جب بھی کسی شادی وغیرہ میں ملاقات ہوجاتی تو بھی ایک دوسرے سے اچھی طرح ملتے تھے ۔ ممانی دراصل ماڈرن قسم کی خاتون تھیں۔ ان کا رہن سہن بھی ہم سے مختلف تھا ۔ شاید کہ اسی سبب قریبی رشتہ ہونے کے باوجود دوریاں ہوگئی تھیں ۔ تاہم بڑے ماموں کی بیٹی زہرا بے حد اچھے اخلاق کی ملنسار لڑکی تھی ۔ جب بھی مجھے سے ملتی بہت پیا ر اور اپنائیت سے ملتی تھی ۔ ہم میں دوری کے باوجود انڈر اسٹینڈنگ تھی ۔ اسی دوستی کہ کم ملنے کے باوجود قربت محسوس ہوتی رہی ۔ زہرا اپنی ماں سے بلکل الگ لڑکی تھی ۔ ممانی ماڈرن تو بیٹی بلکل مشرقی انداز کو پسند کرتی تھی ۔ وہ لباس بھی مشرقی طرز کا پہنتی تھی ۔ ہم آزاد خیا ل ضرور تھے لیکن ایک حد مجھے زیادہ شوخ لباس پہننا پسند نہیں تھا ۔ ماں نے ہمیں ایک حد تک آزادی کے ساتھ دینی حدود سے بھی آگہی دی تھی ۔

زہر ا نے گریجویشن مکمل کر لی ۔ انہی دنوں اس کی شادی طے پا گئی ۔ اس نے مجھے فون کیا ۔ نرمین ہم صرف کزن ہی نہیں اچھے دوست بھی ہیں۔ لہذا میری خواہش ہے کہ تم شادی سے ایک ہفتہ پہلے آجائو ۔ اس نے ماموں اور ممانی سے بھی فون کرادیا تو امی ابو نے ماموں کے گھر رہنے کے لیے بھیج دیا ۔ یہاں پہلی بار زہرا کے بڑے بھائی ذیشان کو دیکھا ۔ وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت بھی لگا ۔ اس کی شخصیت مسحور کن تھی ۔ وہ پڑھائی کے لیے لاہو ر کے ایک ہاسٹل میں قیام پذیر تھا اور زہرا کی شادی پر گھر آیا ہوا تھا ۔ اپنے قیام کے دوران میں نے کئی بار اس سے بات کی ۔ مجھے اس کے ساتھ گفتگو کرنا اچھا لگا۔ اس کی کوئی بات ، کوئی حرکت ناگوار نہ گزرتی تھی ۔ جس روز ڈھولکی کی رسم تھی ، ہم لڑکیاں ڈھولک بجانے بیٹھے ، وہ بھی ہمارے ساتھ آکر بیٹھ گیا ۔ میں اس کی طرف دیکھنے سے گھبراتی رہی کیونکہ ایسا لگا جیسے کہ وہ میری ہی طرف دیکھ رہا ہے ۔

زہرا کی شادی پر میں نے ہلکا سا میک اپ کیا اور تیار ہوگئی ۔ وہ میرے پاس آیا ۔ ہاتھ میں پھولوں کے بہت سے گجرے تھے ۔ اس نے کہا ذرا کلائی سامنے کرنا اور پھولوں کا گجرا پہنا دیا ۔ ساری فضا جیسے موتی کے پھولوں کی خوشبو سے مشک باہوگئی اور اس کے بعد ذیشان اکثر و بیشتر آنے لگا ۔ جانتی تھی کہ وہ صرف میری خاطر آتا ہے ۔ جیسے اس کو میرے بنا قرار نہ تھا ، مجھے بھی اس بن چین نہیں تھا ۔ اس کے آجانے سے گھر میں بہار آجاتی تھی ۔ میں سوچتی کتنا برا ہوا جو امی نے اپنی بھابھی سے بنا کر نہیں رکھی ۔وہ بھی ہم سے گھل مل جاتیں جو امی ان سے میل جول رکھتیں لیکن میری ماں نے تایا حرا کی طرفداری میں ممانی کو قبول نہ کیا کیونکہ لڑکپن میں ماموں کی خالہ حرا سے منگنی ہو چکی تھی لیکن انہوں نے منگیتر کو چھوڑ کر اپنی پسند سے شادی کر لی تھی ۔ تبھی امی کے میکے والوں نے اس شادی میں شرکت بھی نہ کی تھی ۔ کچھ عرصے بعد ممانی کو سسرال میں قبول تو کر لیا گیا مگر دل سے نہیں وہ لوگ خوشی اور غم کے موقع پر ہی ماموں کے گھر جاتے تھے ۔

ممانی کا بھی دل برا ہوگیا تھا ۔ میری اور ذیشان کی محبت نے قریبی رشتوں کی محبت میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا ۔ ذیشان نے ماں کو منایا کہ مجھے نرمین پسند ہے ۔ اسی سے شادی کرنی ہے ۔ ممانی بے شک سسرال والوں سے شاکی تھیں لیکن کھلے ذہن کی تھیں۔ دل کی بھی بری نہ تھیں۔ انہوں نے بیٹے کی محبت سے مجبو ر ہو کر ہامی بھر لی ۔ ذیشان جانتا تھا کہ میری منگنی زین سے ہوچکی ہے پھر بھی والدین سے کہا کہ آپ لوگ رشتہ لے کر پھپھو کے گھر جائے ۔ وہ بیٹے کی وجہ سے مجبو ر ہو کر آگئے ۔ ذیشان نے مجھے کہا تھا کہ ڈٹ جائو اور زین سے شادی سے انکار کر دو میں پہلے ہی اسے ناپسند کرتی تھی ۔ اب تو دل میں ذیشان کی محبت کی چنگاری رات دن لگ رہی تھی ۔

فون پر ہی ذیشان نے بتایا کہ میرے والدین تمہارا رشتہ مانگنے آرہے ہیں۔امی نے پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ مجھے زین سے شادی نہیں کر نی ۔ وہ مجھے پسند نہیں ہے ۔ ابو سے کہئے کہ میری منگنی توڑ دیں ۔ امی میری رضا کو سمجھتی تھیں کیونکہ محبت اندھی ہوتی ہے لیکن اردگرد لوگ تو اندھے نہیں ہوتے ۔ میرے بھائی بہنوں اور والدہ کو تو پہلے ہی اندازہ ہوچکا تھا کہ ذیشان بے مطلب نہیں آتا ۔ آخر اس بات کا علم سب کو ہوا ۔ وہ پس و پیش میں تھے تاہم والدہ زین کو زیادہ پسند نہ کر تی تھیں ۔ انہیں ذیشان سے رشتہ کرنے میں میرا مستقبل زیادہ بہتر نظر آیا۔ وہ بڑے ماموں سے محبت کر تی تھیں۔صرف ممانی کی سرد مہری کے باعث ملنے سے مجبور تھیں۔اب خدانے ایک موقع دیا تھا ، بہن بھائی کے گھرانوں کے شیروشکر ہوجانے کا ۔

امی اس موقع کو ہرگز گنوانا نہیں چاہتی تھیں۔ انہوں نے ابو پر بہت دبائو ڈالا ۔ بالآ خر انہیں میری منگنی ختم کرنی پڑی ۔ شاید تائی بھی کچھ ایسا ہی چارہی تھیں۔ انہوں نے کوئی گلہ نہ کیا اور خاموشی سے ابو کے فیصلے کو تسلیم کر لیا ۔ زین پر جو گزری ، وہ ہی جانے مجھے کب اس کی پروا تھی ۔ میری امیدوں کے تو گلزار کھل چکے تھے ۔ ابو نے میری اور امی کی بات مان لی تھی ۔ بے شک ان کے بھائی افسردہ تھے ۔ میں نے تایا کی افسردگی کی بھی پروانہ کی جو مجھ سے بہت پیار کرتے تھے ۔ والد نے بھی سوچا اگر بیٹی کو گائوں میں بیاہ دیا ، کیا خبر یہ وہاں کے ماحول کو قبول نہ کرے ، تب دکھی رہے گی تو ہم بھی دکھی ہوجائیں گے ۔ کہتے ہیں ، اولاد سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ۔

والد کے فیصلے نے بھی اس کا ثبوت دیا ۔ منگنی کے کچھ عرصے بعد ذیشان کا وظیفہ لگ گیا اور وہ واعلی تعلیم کے لیے امریکہ چلا گیا ۔ وہ دو سال کی لیے امریکی گیا تھا ۔ شروع میں وہ مجھے باقاعدگی سے فون کرتا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ مدھم پڑنے لگا ۔ میرے گھر والوں کو اب میری شادی کی فکر ہوئی کیونکہ دو سال گزرنے کے باوجود وہ نہیں آیا تھا ۔ ابو نے ماموں سے اصرار کیا ۔ انہوں نے بیٹے کو خط لکھاجس میں میری اور اس کی شادی کا ذکر تھا ۔ سب کو اس کے جواب کا انتظار تھا ۔ بالآخر ایک دن اس کا خط میرے اور میرے گھر ولوں پر غم کا پہاڑ بن کر ٹوٹا۔ اس نے با پ سے صاف کہہ دیا کہ یہاں آکر اس کے خیالا ت بدل گئے ہیں ۔

اب وہ مجھ سے شادی کر کے مصنوعی زندگی نہیں گزار سکتا ۔ میرے اس بھرے دل پر نا امیدی کے سیاہ بادل چھا گئے ۔ گھنٹوں تنہائی میں بیٹھی روتی رہتی ۔ میرے اور ذیشان کے والدین اسے منانے کی بہت کوشش کرتے رہے تھے لیکن وہ نہ مانا ۔ اب مجھے رہ رہ کر زین کا خیال آتا تھا مجھ سے بشپن سے محبت کرتا تھا ۔ میرے انکار پر اس کے دل پر بھی ایسی ہی قیامت گزری ہوگی ۔ اب مجھے اس کے درد کا احساس ہوا کہ یہ درد کتنا برا اور جان لیوا ہوتا ہے ۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی ۔ آخر ایک دن ذیشان لوٹ آیا ۔ اس کو مجھ جیسی سچی محبت کرنے والی لڑکی کہیں نہ ملی تھی ۔ اس نے وہاں شادی کی جو ناکام ہوگئی اور اس کا دل چور چور ہوگیا ۔ وہ اپنے کیے پر پشمان تھا ۔ اس نے ایک بار پھر اپنے والدین کو منت سماجت کر کے ہمارے گھر بھیجا کیونکہ میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی ۔

اسے امید تھی کہ وہ مجھے پالے گا کیونکہ  اب بھی وہ سمجھ رہا تھا کہ میں اس کے انتظار میں ہوں ۔ میں نے اس سے محبت کی تھی اور اب تک اسے بھول نہیں سکی تھی لیکن اس کے انکارسے اب دل میں اس کے ملنے کی چاہ نہ رہی تھی ۔ کچھ دن بہت سوشا دل کہتا تھا جس کے لیے اتنا تڑپی ہو وہ آگیا  ہے تمہاری طرف ہاتھ بڑھا رہاہے ۔ دیر نہ کرو اور اس کی ہوجانے کے لیے ہاں کہہ دو لیکن دماغ نے فیصلہ دیا نہیں ہر گز نہیں ۔ یہ وہی شخص ہے جو تم سے دور جا کر بدل گیا تھا اب اس کی جھوٹی محبت قبول نہیں کر نا ایک بار پھر قیامت سے گزرنا پڑا اور میں نے شادی سے انکار کر دیا کیونکہ اب مجھے وہ قبول نہیں تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں