کاشف سے میری ملاقات کوچنگ سینٹر میں ہوئی تھی وہ ہر روز دور سے مجھے دیکھتا لیکن کبھی بات کرنے کی ہمت نہیں کی میں نقاب لیتی تھی ۔ایک روز چھٹی کہ ٹائم اچانک وہ میرے سامنے آگیا کہنے لگا کہ آپ مجھے اچھی لگتی ہو ۔ لیکن یہ بات میں آپ کو کرنے کی ہمت نہیں کر پارہا تھا تو پھر میں نے دوست سے بات کی جو ہمارا ٹیچر بھی ہے۔لیکن اس نے بھی منع کردیا کہ وہ ہماری اسٹوڈنٹ ہے۔رشتے کی بات پر برا مان گئی اور شکایت کردی تو کوچنگ سینٹر سے مجھے نوکری سے نکال دیں گے۔تب میں نے ان کا آسرا چھوڑ دیا اور خود کوشش کی اور آج آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔اس کی باتیں سن کر میں نے نقاب الٹ دیا اور کہا۔ اب چہرہ بھی دیکھ لو اور پھر فیصلہ کرنا کہ رشتہ کرناہے یا نہیں ایک نظر دیکھنے کے بعد اس نے کہا ، ہاں رشتہ کرناہے۔

گھر آکر باجی  کو بتایا ، باجی نے امی  کو بتایا ، وہ بولیں ظفر کو فون کر کے پوچھ لیتے ہیں،اگر لڑکا اچھا ہے تو کرلینے میں ہرج نہیں ہیں ، ظفر سے امی نے بات کی ۔ اس نے کہا۔میں جلد پاکستان آنے والاہوں ، مجھے آلینے دیں ، لڑکادیکھ کر فیصلہ کروں گا ۔ ہم لوگ زیادہ امیر نہ تھے لیکن کاشف بہت امیر گھرانے سے تھا۔وہ کبھی رات کو فون کرتا اور کاروں اور اچھے اچھے ریسٹوران کی باتیں کرتا۔بھائی کو چھٹی نہ ملی نہ آسکے۔ امی کو کہا اطمینان کرلیں،اگر رشتہ مناسب ہے تو بات پکی کرو، یامیرے آنے پر کر لینا۔اس دوران کاشف مسلسل کہتا رہا کہ رشتہ پکا کرلیں۔باجی نے کہا کہ کاشف رشتہ پکا  سمجھو لیکن منگنی کی رسم اس وقت ہوئی جب ہمارےبھائی آئیں گے۔میں نے سمجھ لیا کہ کاشف سے میری شادی ہونی ہے اس لئے میں روز رات کو فون پر بات کرتی تھی ۔

وہ دن بھی آگیا جب ظفر بھائی آگئے اور انہوں نے استفسار کیا کہ لڑکے کو بلاو میں ملوں گا، پھر رشتہ طے کرتےہیں۔میں نے فون پر کاشف کو  بتایا کہ بھائی آگئے ہیں، اب تم ایک دن ان سے ملنے آجائو۔ کہنے لگا ، جلد آوں گا۔چند دن بعد میں نے دوبارہ فون کیا کہ بھائی تمہارا انتظار کر   رہے ہیں، جب آرہےہو؟جلدی آجاو ورنہ بھائی کی چھٹی ختم ہوجائے گی اگر وہ چلے گئے تو اتنا اہم مسئلہ رہ جائے گا۔میں تم کو فون کرکے بتانے والا تھا ، دراصل بات یہ ہے کہ میں تم سے فون پر بات کررہا تھا کہ چھوٹے بھائی نے سن لیا اس نے امی اور ابو کو بتادیا ہے، بابا نے سخت غصہ کیا ہےکہ جو بھی ہوجائے،ہم تمہاری شادی اجنبی لوگوں میں نہیں کرسکتے ، ہم اپنے خاندان میں رشتہ کریں گے۔

کاشف تم نے تو کہا تھا کہ تمہاری والدہ فوت ہوچکی ہیں؟ ہا ں کہا تھا ، میری حقیقی والدہ فوت ہوچکی ہیں اور یہ میری سوتیلی ماں ہیں ، والد صاحب نے دوسری شادی کی ہے۔ میرا دل بیٹھ گیا۔ یہ میں کیا سن رہی ہوں۔مجھے اپنے کانوں پر اعتبار نہیں آرہا تھا ۔ تو اب کیا کروگے؟بے شک میں تم سے محبت کرتا ہوں لیکن امی نہیں مان رہی ہیں، میں اپنے گھر والوں کے خلاف نہیں جاسکتا، وہ مجھے گھر سے نکال دیں گے، میری مجبوری کو سمجھو شائستہ ……..! تم شادی کا خیال دل سے نکال دو۔اتنا کہہ کر اس نے فون بند کردیا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔پہلی بار زندگی میں کسی پر بھروسہ کیا تھا میں نے اس کو نہ چاہتے ہوئے بھی کئی ایس ایم ایس اور کالز کئیں اسنے کسی کال ، ایس ایم ایس کا جواب نہیں دیا میں مرجھاگئی ، بیمار پڑگئی ۔فائزہ نے میری حالت دیکھی۔ اسے سب بتادیا وہ کہنے لگی نمبر دو، میں بات کرتی ہوں ، پھر اس نے نمبر ملایا۔

پوچھا جس کی راہ میں دیوانوں کی طرح کھڑے ہوتے تھے،اسی کو اپنا دیوانہ بنا کر اب تم کو  کیا ہوگیا کہ بات نہیں کرتے، اس کی کال کا جواب نہیں دیتے؟اس نےجواب دیا کہ مجھے پتہ چلاہے کہ یہ اچھی لڑکی نہیں ہے، میرے علاوہ اور لڑکوں سے بھی بات  کرتی ہے، اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔جب فائزہ نے بتایا کہ وہ ایسا کہ رہاہے تو میرے ہوش اڑگئے آخری بار ایس ایم ایس کیا  کہ تم نے مجھ اتنا بڑا الزم کیوں لگایا ، اگر شادی نہیں کرنی تھی تو بے شک نہ کرتےمگر تو مت نہ لگاتے؟اس کا بھی کوئی جواب نا دیا جب دل پر بوجھ بہت بڑھ گیا، میں نے باجی کو بتادیا ، بولیں میں اس سے بات کرتی ہوں لیکن میں نے منع کردیا۔ مگر شائستہ !پوچھوں تو آخر اس نے ایسا کیوں کیا ؟ صرف اس لیے باجی کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا تھا، مجھے بے وقوف بنا کر اپنا وقت پاس کرنا چاہتاتھا لیکن ہم نے اس کو موقع نہیں دیا براہ راست  شادی کی  بات کر دی ۔جب اس نے دیکھا کہ شادی کرنی پڑے گی تب اس نے راستہ بدل لیا ۔ تو وہ شادی نہیں دھو کہ کرنا چاہتا تھا۔

میں ہر نماز کے بعد پہلےدعا کرتی تھی کہ اے اللہ اس کے ساتھ عزت سے شادی ہو ۔لیکن اب دعا کرتی ہو کہ اے اللہ ! تو انصاف کرنے والا ہے، تو میرے ساتھ انصاف کر! باجی نے بہت سمجھایا کہ اسے بھول جاو، وہ اچھا نہیں تھا، آگے کی سوچو ساری زندگی پڑی ہے،خدا نے تم کو بچالیا ۔ اللہ جو کرتا ہے، انسان کی بہتری کے لیے کرتاہے۔ آہستہ آہستہ میری توجہ پڑھائی کے ساتھ شاعری کی طرف رہنے لگی اور میں غزلیں نظمیں لکھنے لگی ۔ وہ چھپنے لگی اور میں ایک اچھی شاعرہ کے طور پر جانی جانے لگی اس کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور کام بھی کرتی رہی۔انہی دنوں خالہ لندن سے پاکستان آئیں ۔ ان کی بیٹی کی شادی تھی ۔ شادی میں شرجیل سے ملاقات ہوئی ۔یہ خالہ کی نند کا بیٹاتھا۔بہت خوبصورت ، پڑھا لکھا اور باذوق تھا ، انگلینڈ سے آیا تھا۔

میرا تعارف خالہ نے کرایا ، مل کر بہت خوش ہوا ۔ کہنے لگا میں تو آپ کا فین ہوں ،آپ کی شاعری کا دلدادہ اکثر آپ کی غزلیں نظر سے گزرتی ہیں ۔ وہی کچھ دیر باتیں کرتا رہا۔ خالہ نے ماں کو بتایا کہ ان لوگوں کو آپ کی بیٹی بہت پسند آئی ہے، آپ کہیں تو وہ لوگ رشتہ طلب کرنے آئیں امی نے مجھ سے بات کی ۔ میں نے جواب دیا ۔ جیسی آپ کی مرضی …! خالہ نے ان لوگوں عندیہ دے دیا اور دوسرے ہی دن وہ آگئے ۔ خالہ نے بتایا کہ شرجیل تین ماہ کے لیے آیا ہے پھر  تین سال بعد لوٹے گا۔ رشتہ طے ہوگیا، نکاح ہوگیا اور پھر شرجیل ویزے وغیرہ کی کاروائی کے لیے کچھ مدت کےلیے واپس چلاگیا۔ ، تب تک امی نے میری شادی کی تیاری کردی ۔ میرا شرجیل کی طرف دھیان نہیں تھا۔اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئی لیکن امی اور باجی کی خوشی کےلیے خود کو خوش ظاہر کرتی تھی۔وہ گھڑی آگئی جو ہر لڑکی کی زندگی میں آتی ہے۔

مجھے دلہن بنادیا گیا۔سب کہہ رہے تھےکہ شائستہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے لیکن میں انجانے اندیشوں میں گھری ہوئی تھی ۔شادی کے پہلے دن ہی شرجیل نے میرا دل جیت لیا اور میں کاشف کے دیے غم کو بھول گئی ۔چند دن  رہ کر ہمیں لندن جانا تھا ۔اچانک ایک دن اس رسالے کے مدیر کے ہمراہ کاشف ہمارے گھر آگیا، جس رسالے میں میری غزلیں وغیرہ شائع ہورہی تھیں،اس نے وہاں سے کھوج لیا  تھا اور مبارکباد دینے آیاتھا۔ باجی نے مدیر صاحب کو تو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور پھر کاشف سے پوچھا ۔ تم کیوں آئے ہو؟میں شائستہ کو مبارکباد دینے آیا ہوں، مجھے پتا نہ تھا کہ وہ اتنی اچھی شاعرہ ہے۔مدیر صاحب سے ملنے گئی ،سامنے کاشف کو دیکھا اور حیران رہ گئی۔اسے دیکھ کر واپس جانے کو مڑی ہی تھی کہ وہ بولا بات تو سنو۔

ایک دفعہ پہلے تمہاری بات ان  سنی کی  تھی ، پہلے میری امی نہیں مان رہی تھیں ، اب مان گئی ہیں میں بتانے آیا ہوں، مدیر صاحب میرے ابو کےدوست ہیں اس لیے ان کو ساتھ لایا ہوں۔اتنے میں شرجیل بھی آگئے لیکن اب دیر ہوچکی ہے، شائستہ کی شادی ہوگئی ہے، ان کے شوہر سے ملو باجی نے بات آگے بڑھائی ۔کاشف نے ایک مردہ انسان کی طرح میرے شوہر کی طرف ہاتھ بڑھادیا۔یہ کون ہیں؟شرجیل نے پوچھا۔یہ میرے کلاس فیلوہیں۔میں نے بات بنا دی اور ان کے ساتھ مدیر صاحب ہیں ، میری غزلیں یہی چاپھتے ہیں۔شرجیل ان سے تپاک سے ملااور کہا کہ میری بیگم تو اب لندن جارہی ہیں ۔لیکن وہاں سے بھی کچھ نہ کچھ لکھ کر آپ کو بجھواتی رہیں گی۔

ان لوگوں کے چلے جانے کے بعد میں نے سوچا۔ واقعی اللہ تعالٰی جو کرتا ہے ، اچھا ہی ہے ۔ ہم دل گرفتہ ضرور ہوجاتے ہیں کہ ہماری حسب منشاءحالات کیوں نہ ہوئے لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ رب کی مرضی میں ہی خیر چھپی ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں