یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میں اور میرا چچا زاد صداقت فرسٹ ایئر میں پڑھا کرتے تھے۔مجھے کالج میں کچھ تنہائی سی محسوس ہوتی تھی ۔کیونکہ مجھے ابھی تک کوئی اچھی سہیلی نہیں ملی تھی۔ایک دن ہماری کلاس میں ایک نئی لڑکی داخل ہوئی۔وہ نہایت خوبصورت اور اچھے گھرانے کی لگتی تھی ۔مجھے وہ اچھی لگی اور میں نے اس سے دوستی کرلی ۔ اس کا نام نیلو فر تھا ۔اب ہم دونوں ایک ساتھ رہتیں ۔میرے واسطے سے صداقت بھی اس سے بات کرلیا کرتا تھا۔جلد ہی میں نے محسوس کرلیا کہ میرا کزن نیلوفر میں دلچسپی لے رہاہے۔اسے تنبیہ کی کہ ذرا احتیاط سے کام لو ، ایسا نہ ہو تمہاری وجہ سے میں اپنی ایک اچھی سہیلی کو کھو بیٹھوں۔فرسٹ ائیر بخریت تمام ہوا اور ہم سیکنڈ ائیر میں آگئے۔نیلوفر سے میری دوستی زیادہ گہری ہوگئی تھی ۔وہ صداقت سے بھی گھل مل کر باتیں کرنے لگی تھی ۔دراصل وہ میرے کزن کو پسند کرنے لگی تھی مگرےمیرے لحاظ میں لئے دیئے رہتی تھی۔لیکن دونوں ہی ایک دوسرے کے دلی جذبات سے بخوبی واقف ہوچکےتھے۔

صداقت جب میرے گھر آتا ، بہانے بہانے سے نیلو فر کا ذکر چھیڑ دیتا اور میری سہیلی کے ہونٹوں پر بھی اسے دور سے دیکھتے ہی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی ۔بتاتی چلوں کہ صداقت کا نکاح ان دنوں ایک لڑکی سے ہواتھا جب وہ میٹرک کا طالب علم تھا ۔ یہ نکاح دونوں کی پسند سے ہوا تھا جس پر ان کے والدین راضی نہیں تھے۔لہذا لڑکی والوں نے عدالت سے رجوع کر کے اس نکاح کو فسخ کروالیا تھا ۔اس کے بعد سال بھر تک صداقت نے تعلیم کا سلسلہ منقطع رکھا۔وہ کہیں آتا جاتا اور نہ کسی دوست سے ملتاتھا ۔ جب اس لڑکی کے ماں، باپ کسی اور جگہ شفٹ ہوگئے۔ تب صداقت نے سب گھر والوں کے اصرارپر کالج میں داخلہ لے لیااور نئی زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہئے کہ نیلو فر اس کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی نہیں تھی ۔ جس نے اس کے دل میں جگہ بنائی تھی ۔ ایک دن نیلوفر نے مجھ سے کہا کہ وہ صداقت سے محبت کرتی ہے۔

استدعاکی کہ میں اس کی مدد کروں تاکہ تعلیم مکمل ہوجانے کے بعد وہ میری بھابھی بن جائے۔کیا تمہارے والدین تمہاری صداقت سے  شادی  پر مان جائیں گے؟ہاں! میں نے اسے امی، ابو سے ملوایا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ صداقت اچھا لڑکا ہے ۔ تعلیم مکمل کر لو تو پھرشادی کر دیں گے۔میں نے صداقت کو جا پکڑا کہ واہ بھئی یہ کیا ، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ،باقی تو سارا جانے ہے۔وہ ہنس پڑا۔کہنے لگا گل صاحبہ ! سب سے زیادہ ڈر تو تم ہی سے تھا۔کہیں تم بنا بنایا کھیل نہ بگاڑ دو۔میاں مجنوں ! میں کیوں کھیل بگاڑنے لگی ؟جب لڑکا لڑکی راضی تو کیا کرے گا قاضی!ایک ڈر گل ! تم سے مشورہ بھی لینا چاہتاتھا۔پروین سے جو نکاح نادانی میں کیا تھا،اس کے بارے میں نیلوفر کو کیسے بتائوں؟وہ تو مجھ سے بدگمان ہوجائے گی ۔ اگر وہ نکاح والدین نے کرایا ہوتا تو ایک جواز بھی تھا۔کہ بچپن میں انہوں نے کرادیا، میں مجبور تھا لیکن یہ نکاح تو ہم دونوں نے ماں، باپ سے چھپ کر کیا تھا۔وہ یہ کیسے برداشت کرے گی کہ ایک محبت پہلے کرچکاہوں۔

کیا کوئی لڑکی اپنے محبوب کے ماضی کو فراموش کرسکتی ہے۔ہاں کیوں نہیں،محبت میں ثابت قدم ہوگی تو معاف کردے گی ۔جیسے بعض مرد اپنی بیوی کی پہلی خطا معاف کردیتے ہیں۔اپنے اپنے ظرف کی بات ہے ۔ یہ تو مجھے نہیں لگتا کہ نیلوفر اس معاملے مین اتنی فراخ دل ہوگی ، کیونکہ وہ اپنی کسی شے میں کسی اور کی شراکت برداشت ہی نہیں کرتی ۔ کوئی چیز کسی دوسرے کو نہیں دیتی ہے۔ اس خوف سے میری نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔کبھی سوچتا ہوں اسے  پہلے بتادوں کہ میری زندگی میں ایک لڑکی آچکی ہے اور اس سے نکاح بھی ہوا تھا۔اب تم بتائو کہ اسے یہ بات بتادوں یا حقیقت چھپائے رکھوں؟میں سوچ میں پڑ گئی ۔اگر کہتی کہ بتادو اور پھر نیلوفر اس سے قطع تعلق کرلیتی تو صداقت نے عمر بھر الزام مجھے ہی دیناتھا۔اگر کہوں کہ نہ بتائواور بعد میں بات کھلے اور نیلو فر اس کو دھوکے باز کہہ کر الگ ہوجائے تب بھی سب مجھ کو ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے۔

کافی سوچا ، کچھ سمجھ نہ آیا تو میں نے کہا۔فی الحال چپ رہو، امتحان ہوجانے دو، بعد میں فیصلہ کریں گے۔سالانہ امتحان ہوگئے۔ہمارے کالج میں الوداعی پارٹی تھی ۔اس روز نیلوفر بہت خوبصورت ڈریس پہن کر آئی تھی اور بےحد حسین لگ رہی تھی ۔صداقت کی نگاہیں دیوانہ وار اس پر نثار ہورہی تھیں۔اس کی وارفتگی کچھ لڑکوں نے محسوس کی تو وہ بھی نیلو فر کے ارد گرد منڈلانے لگے، اسی دوران ایک لڑکے نے نیلوفر پرفقرہ کساجسے صداقت نے سن لیا۔وہ غصے میں آپے سے باہر ہوگیا اور اس لڑکے کو گریبان سے  پکڑلیا۔دوسرےلڑکوں نے درمیان میں پڑ کر معاملہ رفع دفع کرایا اور مذکورہ لڑکے کو ہال سے نکال دیا۔اس با ت کا اس لڑکے اور اس کے ساتھیوں کو بے حد رنج ہوا مگر وہ اس وقت خاموش ہوگئے تاہم صداقت سے انہوں نے بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی ۔

اس واقعے کے چند ہفتوں بعد صداقت اور نیلوفر کی منگنی ہوگئی ۔اتفاق سے منگنی کا علم اس لڑکے کو ہوگیا جس کی بے عزتی صداقت نے پارٹی والے دن کی تھی ۔ اس کا نام اطہرتھا۔اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر نیلوفر اور صداقت کو ہمیشہ کے لیے جداکرنے کا منصوبہ بنایا۔اتفاق سے ان لڑکوں میں سے ایک کی بہن کی سہیلی وہی لڑکی یعنی پروین تھی جس سے صداقت نے والدین سے چھپ کر نکاح کیا تھا۔اس لڑکی کو بھی کسی طرح علم ہوگیاکہ صداقت کی منگنی نیلوفرسی ہوئی اور ایک ماہ بعد شادی ہے۔اس نے اطہر سے دریافت کیا کہ تمہارے کلاس فیلو صداقت کی نیلوفر نامی لڑکی سے شادی ہورہی ہے؟ہاں ! اور میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح اس کی شادی نیلوفر سے نہ ہو۔کیونکہ اس شخص نے بھرے ہال میں میری بہت بے عزتی کی ہے۔اگر تم چاہو تومیں اپنی بے عزتی کا بدلہ لے سکتاہوں۔

وہ بولہ ، وہ کیسے؟ تم نیلوفر کو بتا دو کہ صداقت سے تمہارا پہلے نکاح ہوچکاہے اور اس نے تمہیں دھوکا دیاہے۔ پروین ، اطہر کی باتوں میں آگئی۔پھر جس طرح اطہر نے اسے سکھایا ، اس نے ویسے ہی کیا۔ایک روز وہ نیلو فر سے ملی اور اس سے کہا ، میں خاص طور پرتمہارے پاس اس لیے آئی ہوں کہ تمہیں ایک ایسی حقیقت سےآگاہ کرو جو شاید تم نہیں جانتیں لیکن تم کبھی صداقت کو یہ نہیں بتائوگی کہ کس نے تمہیں اس حقیقت سے آگاہ کیا ہے ورنہ وہ مجھے جان سے ماردے گا۔نیلوفر نے مارے تجسس کے وعدہ کرلیا۔ قسم اٹھوانے کے بعد پروین نے اسے نکاح نامہ دکھایا اور کہا کہ وہ مجھ سے محبت کی شادی کرچکاہے۔یہ دیکھو میرے پاس نکاح نامے کی نقل بھی ہے۔ اگر اصل نکاح نامہ دیکھنا چاہتی ہوتو بے شک میرے گھر آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔

وہ اب بھی مجھ سے ملتا ہے لیکن اپنے ماں ، باپ سے چھپ کر کیونکہ وہ اسے مجھ سے ملنے نہیں دیتے ۔انہوں نے مجھے بہو قبول نہیں کیا ۔ اس کی کزن گل کو پتا ہے ۔ اس سے پوچھ سکتی ہو مگر خدارا میرا مت بتانا۔مجھے اس وجہ سے تمہیں مجبورا یہ سب بتانا پڑا ہے کہ ابھی وقت ہے ، سوچ لو۔میری اور اپنی زندگی کو تباہ ہونے سے بچالو۔نیلوفر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہاتھاکہ صداقت اس کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کر سکتاہے۔ وہ پریشان حال میرے پاس آئی اور قسم دے کر بولی ۔گل تم میری دوست ہو، دیکھو مجھ سے دھوکا مت کرنا۔جوپوچھوں ،سچ سچ بتانا۔میرا ماتھا ٹھنک گیا، دل دھک سا رہ گیا۔پوچھو نیلوفر ! میں نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔کیا پوچھنا چاہتی ہو؟سچ سچ بتائو کیا صداقت نے کسی پروین نامی لڑکی سے شادی کی تھی ؟ دیکھومجھے مستند ذرائع سے معلوم ہواہے۔اگر تم نے جھوٹ بولا تو میں عمر بھر تمہاری صورت نہیں دیکھوں گی ۔اب میں کیسے مکر سکتی تھی ۔سچ تو سچ ہوتا ہے ۔ وہ میرے چہرے کے تاثرات بغور دیکھ رہی تھی ۔

میں نے کہا ہاں ایسا ہواتھا مگر وہ اس وقت کم عمر تھا۔ نادانی کی عمر میں اس سے یہ غلطی سرزدہوئی ۔دونوں نے اپنے والدین کی مرضی کے بغیر نکاح کیا تھا ۔تاہم کم عمری کے باعث نکاح فسخ ہوگیا۔وہ بھی لڑکی والوں نے کروایا۔اس کے بعد ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں رہا ۔تمہیں جس نے کہا ہے ، یقینا وہ تم دونوں کی محبت کا دشمن ہےاور تم دونون کو جدا کرناچاہتا ہے ۔خدارا کسی کی باتوں پر کان مت دھرو۔میں کسی کی باتوں پر کان نہ دھرتی ، اگر تم پہلے مجھے یہ بتا دیتیں یا خود صداقت اس بات کو مجھ سے نہ چھپاتا، لیکن تم دونوں نے مجھے اتنی بڑی بات سے آگاہ نہ کر کے دھوکا دیاہے۔تم لوگ کسی طور اعتبار کے لائق نہیں ہو اور تو اور صداقت کے والدین نے بھی میرے ماں ،باپ کو آگاہ نہ کر کے اندھیرے میں رکھا۔آخر اس کا کیا مطلب ہوا۔میں نے کہا خود صداقت نے ان منع کیا کیونکہ وہ کسی صورت تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا ۔ لیکن شادی کے بعد وہ تمہیں لازما آگاہ کرتا۔

دیکھو نیلوفر ! محبت میں  ایسی باتیں نہیں دیکھی جاتیں۔پروین سے بھی ایسی محبت کہ والدین کی مرضی کے بغیر چھپ کر نکاح کرلیا پھر مجھ سے بھی یہ کیسی پالیسی ہے۔کیا ایسی ہوتی ہے سچی محبت….کیا ایسے ہوتے ہیں سچی محبت کرنے والے نام تو صداقت ہے مگر کس قدر جھوٹا ہے یہ بندہ…! وہ پیر پٹختی ہوئی چلی گئی اور گھر جا کر شادی سے انکار کر دیا۔اکلوتی ، لاڈلی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر والدین کا دل ترپ گیا اور انہوں نے فون کر کے رشتہ ختم کردیا۔ صداقت کو کچھ کہنے سننے کا موقع دیا اور نہ اس کے والدین کی کوئی استدعا سنی ۔صداقت اپنے والدین کا واحد سہارا تھا ۔نیلوفر نے اس سے ناتا کیا توڑا ، اس پر تو ایک طوفان گزر گیا۔وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ گل تم نے یہ کیا کیا؟اسے کیوں نہیں سمجھایا ۔ تمہاری تو سہیلی تھی ۔

 میں کیا کہتی میری تو زبان گنگ تھی ۔صداقت کی آنکھیں آنسوؤں کا سمندر بن گئی وہ مجھ سے اپنا دکھ بیان کر کے نجانے کہاں چلاگیا۔اس واقعے کے تین دن بعد اطلاع ملی کہ صداقت اب اس دنیا میں نہیں رہا۔خبر سن کر میری آنکھوں تلے اندھیرا  چھا گیا ۔اب پچھتانے لگی ۔ اے کاش ! پہلے ہی نیلوفر کو ہر بات سے آگاہ کردیتی تو شاید آج اس کہانی کا ایسا انجام نہ ہوتا۔صداقت نے بھی نیلوفر کو منانے کی بہت کوشش کی تھی ۔وہ مسلسل تین دن اسے فون کرتا رہا لیکن اس سنگدل لڑکی نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ ذلت آمیز لہجے میں اپنی نفرت کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ میرے کزن کو مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا۔تبھی کہتے ہیں، سچ کتنا ہی کڑوا ہو، چھپانا نہیں چاہیےاورغصہ خواہ کتنا شدید ہو، خود کو بے قابو نہیں ہونے دینا چاہیے۔الوادعی پارٹی کے دن صداقت نے اپنے غصے

اپنا تبصرہ بھیجیں