میں  وہ بدقسمت ہوں کہ جو چاہا ، نہ پاسکی۔شادی کے بعد کبھی کوئی خوشی نہ ملی ۔ بچوں کی خاطر دکھ اٹھائے مگر سسرال والوں نے مجھ کو مٹی کا برتن سمجھ لیا تھا۔اس امر کی برسوں سے عادی ہوگئی تھی۔ یہ جھگڑا کر کے میکے کو دھکیل جاتے۔وہ چار دن بعد شوہر آکر منالے جاتے۔ سسرال والے اچھے لوگ نہ تھے۔ چند دن ہی سکون کے گزرے پھر وہی جوتیوں میں دال بٹنے لگی۔اس صورتحال کو سہتے سہتے دل مدھم پڑنے لگتا۔شوروگل سے میرے بچے الگ سہمے رہتے تھے۔ساس تو جو اپنی سی کرتیں سو کرتیں ، اس بار سسر صاحب نے جوتا کھینچ مارا۔میں یہ صدمہ نہ سہہ سکی اور دیوار سے جالگی۔ان سے یہ امید مجھ کو ہر گز نہ تھی۔ وہ میرے بزرگ تھے، ان سے مجھے ہمیشہ مہربان اور شفیق ہونے کی توقع رہتی تھی۔ وہ عورتوں کی باتوں میں نہیں آتے تھے مگر اس بار وہ بھی عورتوں کی باتوں میں آگئے۔

میرا یہ مان ٹوٹ گیا کہ اس گھر میں کوئی میرا ہمدرد اور غمگسار بھی ہے۔ یہ رنج کم نہ تھا کہ اس کے بعد جو آفت ٹوٹی ، اس نے سیلاب  بن کر مجھ کو گھر سے باہر ہی پھینک دیا۔ بات تو معمولی تھی۔رشتہ دار ملنے سبھی کے آتے ہیں۔ایک روز میری خالہ زاد بہن شکیلہ اپنے دیور کاظم کے ہمراہ ملنےآگئیں۔کھانے کا وقت تھا ، ان کی خاطر داری کرنا ہی پڑی۔اس روز میرے ساس، سسر ، بیٹی کے گھر گئے ہوئے تھے۔شوہر بھی کام پر جاچکے تھے۔شکیلہ اور ان کا دیور کاظم دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد جانے ہی والے تھے کہ ساس ، سسر آگئے ۔ خالہ جی نے مجھ کو مشکوک نظروں سے دیکھا اور کمرے میں جاکر شوہر سے کچھ باتیں کرنے لگیں ۔ میں نے دھیان نہ دیا۔مغرب کو میرے میاں آگئے۔خالہ جی نے نیا قصینہ شروع کردیا۔ آخر ان مہمانوں کی اتنی خاطر تواضع کرنے کی کیا ضرورت تھی،جوتھا وہی کھلا دیتیں۔

میری بہن کے ساتھ اس کا دیور بھی تھا۔ خالہ جی ! اگر دیور کے سامنے اچھا کھانا نہ رکھتی تو بہن کی سسرال میں سبکی ہوجانی تھی، تبھی اچھا کھانا بنایا تھا، وہ بولیں میں سب سمجھتی ہوں۔بہن کے دیور سے ماضی میں کچھ تعلق رہا ہوگا جو یوں دن بھر ان کی خاطر داری میں لگی رہی۔اتنا بڑا بہتان انہوں نے مجھ پر تھوپا تو آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔صدمے سے زبان گنگ ہوگئی تب میرے میاں نے کہا، بولتی کیوں نہیں، خاموش کیوں ہوگئی ہے؟کیا بولوں ، بات ہی ایسی کہی ہے خالہ جی نے کہ اب بولنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہ گئی۔ خالہ جی جھگڑا بڑھانا چاہتی تھیں۔بولیں دال میں کچھ کالا ہے، اب یہ کچھ بولے بھی کیسے ؟یہ سنگین الزام سن کر رونے لگی۔

جس نے شادی سے قبل کبھی کھڑکی سے باہر نہ جھانکا، میرا کلیجہ شق ہونے لگا مگر وہاں میرے رنج و غم کی کس کو پروا تھی۔محمود نے مجھ کو پسند کیا اور ماں سے ضد پر اڑے رہے کہ حرا سے شادی کرنی ہے۔ساس نے بیٹے کی پسند سے شادی تو کرادی مگر اب میرے گھر میں بسے رہنے کا غم تھا،سو مجھ کو بالآخر گھر بدر کرنے کا موقع ہاتھ آہی گیا ۔ اس بہتان کی پاداش میں میکے آئی تو دل نا تو ان تمام سو ختہ تھا۔محمود نے بھی مجھ سے بے رخی برتی تھی۔بات چیت بند کردی تھی ۔ شوہر کی اس بے اعتنائی پر دل  باغی ہوگیا۔جی چاہا کوئی مل جا ئے تو فورا آشنائی کرلوں۔جو انہوں نے ناحق کا بہتان لگایا ہے ، اس کو سچ کر دکھائوں۔غم وغصے کے بادل ذہن پر چھاگئے تھے۔جس قدر سوچتی ،روح کی سلگن بڑھتی ہی جاتی۔کافی دن اسی دکھ اور کسمپرسی میں گزرگئے ۔

کبھی زہریلی سوچیں مجھ پر شہد کی مکھیوں کی طرح حملہ کر دیتیں اور کبھی دل میں بغاوت ! بچھوکےڈنگ کی طرح سر اٹھانے لگتی ۔تب شدت سے کسی ایسے کی ضرورت محسوس ہوتی جسے اپنے دل کا غم کہہ سکوں۔ایک دن کاظم ہمارے گھر آیا۔بیٹھک میں امی نے اس کو بٹھایا۔بتایا کہ تم اپنی بھا بی کے ساتھ میری بیٹی کے گھر گئے،تمہاری وجہ سے سسرال والوں نے اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔کاظم کو یہ بات سن کر صدمہ ہوا۔امی سے کہا کہ مجھے حرا سے بات کرنی ہے۔میں اس کے سامنے گئی تو معافیاں مانگنے لگا۔کہا کہ شکیلہ بھابھی کو بھائی جان مصروفیت کے سبب تمہارے گھر نہیں لارہے تھے،تبھی میں ان کے ساتھ آگیا تھا۔مجھے علم نہ تھا  کہ آپ کے سسرال والے بدگمان قسم  کے لوگ ہیں ورنہ میں کبھی نہ آتا ۔خیر جو ہوا سو ہوا۔میں نے تو آپ کو خالہ زاد بہن کا دیور جان  کر گھر میں بٹھا لیا۔ پہلی بار آئے تھے ، خا طر داری کی تھی ، کیا معلوم تھا کہ ایسی تہمت لگا ئیں گے۔

اس ملاقات کے بعد جانے ہم دونوں کے دلوں میں وہ کون سا جذبہ پیداہو کہ میں اسی کے خیال میں رہنے لگی ، حا لانکہ خداگواہ ہے کہ اس دن سے قبل میرے اور اس کے دل میں ایک دوسرے کے لئے کوئی خیال نہ تھا۔کاظم واقعی ایک عظیم انسان لگا۔ اس نے مجھ کو تسلی دی ۔ حوصلہ دیا۔اس کی ہر بات مرہم جیسی تھی جو میرے جلتے دل کے زخموں کو ٹھنڈک دیتی تھی۔ اس کی غمگساری نے میری ٹوٹی ، بکھری ہستی کو پھر سے جوڑ دیا۔میں شکیلہ کے گھر جانے لگی اور وہاں کاظم سے ملنے لگی۔مجھ کو بس اسی طرح چین آتا تھا۔ایک دن  میں نے کاظم سے پوچھ ہی لیا ۔ اگر میرا شوہر لینے نہ آیا اور انہوں نے مجھ کو طلاق دے دی تو کیا تم مجھ سے شادی کرلو گے؟اس نے وعدہ کیا کہ ہاں میں تم سے شادی کرلوں گا۔ نہ صرف تم کو زندگی کی سب خوشیاں دوں گا بلکہ تمہارے بچوں کو بھی باپ کے پیار کی کمی محسوس نہ ہونے دو ں گا ۔

زندگی میں پہلی بار کوئی سچا پیار کرنے والا ملا تھا۔ میں اب لوٹ کر اس جہنم میں نہ جانا چاہتی تھی ۔ مجھ کو اب کسی کی پروانہ رہی تھی۔ڈر تھا کہ شوہر کسی دن منانے نہ آجائیں ۔ دعا کرتی کہ خداکرے بس یہ جھگڑا آخری ہو اور وہ مجھ کو لینے نہ آئیں ۔حسب امید چھ ماہ بعد بھی جب میرے والدین نے رابطہ نہ کیاتو محمود ایک روز اچانک لینے آگئے۔خوشامد اور چاپلوسی کرنے لگا۔سخت غصہ آیا کہ اس وقت تم کیوں چپ چاپ تماشا دیکھتے رہے جب تمہاری ماں مجھ پر بہتان لگارہی تھیں۔میں نے  غصے میں کھری کھری سنادیں حالانکہ پہلے میں نے اپنے شوہر کے سامنے اس طرح زبان نہ کھولی تھی۔اس روز میرے اتنا کچھ کہنے کا بھی محمود نے برا نہ منایا۔ قسمیں کھانے لگے ۔ اب ایسا نہ ہوگا اگر کسی نے تم سے زیادتی کی تو میں تمہارے واسطے ان سے لڑپڑوں گا۔داماد کی ان باتوں نے میرے والدین کا دل موہ لیا۔

وہ مجھے گھر لوٹ جانے پر مجبورکرنے لگے۔ ماں کے رونے اور باپ کے منت کرنے سے محمود کے ساتھ جانا ہی پڑا۔جاتے ہوئے کاظم کو اطلاع بھی نہ کرسکی اور یہ نیا باب جو میری زندگی میں اچانک کھلا، ادھورا رہ گیا۔جانتی تھی جہاں کا آواہی بگڑا ہو، اس کھرے میں کیا ملے گا۔ چاردن کا سکون پھر سے وہی معاملہ شروع ہوگیا۔ساس کا وہی رویہ جو روز اول سے تھا۔اس بار جل بھن کر میں نے بھی دو کی چار سنا دیں۔ان کو صدمے سے سکتہ ہوگیا۔ نند سر پیٹنے لگی کہ ہائے تم کو یہ زبان کس نے دی ۔ پہلے تو ایسی نہ تھیں۔کیا بتاتی کہ مجھ کو کاظم کے پر امید وعدوں نے باحوصلہ بنایا ساس پھنکارنے لگیں ۔ آج یہ میرے سامنے بولنے لگی ہے۔کل جوتیاں اٹھا کر سر پر مارے گی ۔ محمود ! ابھی تین لفظ کہو اور اس کو چلتا کرو ۔میں نے بھی کہہ دیا۔آپ دیں طلاق۔میں دوبچوں کی ماں تھی ۔ میری طلاق کا سن کر کاظم اس قدر گھبرایا کہ گھر سے غائب ہوگیا۔اس کے گھر والے بھی پریشان تھے،سبھی نے کافی دن انتظار کیا ، اس کا سراغ نہ ملا تبھی ایک روز میں اس کے دوست ثاقب کے پاس چلی گئی جوہمارے راز سے واقف تھا۔

جب میں ثاقب کے گھر گئی ، وہ اکیلا تھا۔ اس نے میری آئو بھگت کی ۔ مجھے راضی کیا کہ اس کے ساتھ لاہور چلوں ، جہا ں کاظم میرا انتظار کررہا ہے۔ وہ یہاں تم سے کبھی شادی نہیں کرے گا کیونکہ وہ اپنے رشتے داروں سے ڈر گیاہے۔میں ثاقب کی باتوں میں آگئی اور اس کے ہمراہ لاہور آگئی ۔ دونوں بچوں کو والدین کے گھر چھوڑا۔سوچا شاید ہم کو رقم کی ضرورت پڑجائے، زیورات بھی ساتھ لے لیے۔لاہور پہنچ کر ثاقب نے مجھ کو ہوٹل میں ٹھہرایا۔وہ دو دن تک صبح وشام یہ کہتا رہا کہ کاظم آجائے گا مگر وہ نہیں آیا۔تیسرے روز وہ بولا ،میں نے توکافی ڈھارس دی ہے لیکن وہ انتہا کا ڈرپوک ہے۔ تم چاہو دو چار دن اور انتظار کر لو۔ مجھے ضروری کام ہے۔ دو دن بعد آسکوگا۔میں نے پوچھا وہ ہے کیسا؟بتایا کہ برے حال میں ہے ۔ جو رقم لایا تھا ، وہ تمام ہوگئی ہے۔تبھی میں نے روپے اور زیورات اس کے حوالے کئے کہ یہ کاظم کو دے دو تاکہ اس کو سہولت ہو اور وہ آجائے۔ثاقب تو چلا گیا خداجانے  ہوٹل کے منیجر کو کیا کہہ کر گیا تھا کہ وہ صبح وشام کھانا بھجواتا رہا۔ہوٹل کا منیجر شریف آدمی تھا۔ تیسرے روز خودآیا اور مجھ سے احول پوچھا ۔

اب میں گھبرا چکی تھی ۔ اس کو مختصر بیتا سنا کر کہا کہ بھائی ! اب گھر واپس جانا چاہتی ہوں مگر روپے وغیرہ ثاقب بھائی کے حوالے کرچکی ہوں کیونکہ ہوٹل میں رقم اور زیورات رکھنے میں خطرہ تھا۔وہ شریف آدمی کہنے لگا۔ نادان بہن ! تمہاری عزت سے زیادہ کوئی شے نہ تھی اورتم ہوٹل کے کمرے میں اکیلی رہ پڑیں ۔ اس نے مجھ کو ٹکٹ کی رقم اور سفر کا خرچہ دیا۔میرے پاس تو پھوٹی کوڑی نہ تھی۔صد شکر کہ اس شخص کے دل میں رحم تھا ورنہ شاید میں لٹ جاتی ۔پانچ دن بعد گھرآئی ۔ والدین پریشان اور بچے رو رو کر ہلکان تھے۔ مجھ سے خوب لپٹ کر روئے۔میرے لوٹ آنے سے ان کی عزت بچ گئی تھی،اسی وجہ سے والدین صبر کا گھونٹ پہ کر رہ گئے۔میری اتری صورت نے ساری کہانی کہہ دی تھی کہ ٹھوکر کھا کر واپس آگئی ہوں ، کاظم اپنے دوست کے توسط سے بیرون ملک چلا گیا اور میں اس کا انتظار کرتی رہ گئی ۔یقین نہیں آتا کہ کوئی انسان اتنا بزدل بھی ہوسکتا ہے۔ وعدہ وفا نہ کر سکا۔ ملام ہے کاش ، کاظم نے وعدہ نہ کیا ہوتا تو شاید میں آج سسرال میں ہوتی ۔ جیسا بھی تھا، میرے بچوں کے باپ کا گھر تو تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں