جب میں نے میٹرک پاس کیا ، والد صاحب نے مجھے آگے پڑھانے سے انکار کر دیا۔بہت روئی مگر کسی پر میرے رونے دھونے کا اثر نہ ہوا۔ارم میرے ساتھ بچپن سے پڑھتی رہی تھی ، اس نے بھی میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔اس کے والدین روشن خیال تھے۔وہ بیٹیوں کی تعلیم کے مخالف نہ تھے لہذا اس نے کا لج میں داخلہ لینے کے لیے فارم منگوایا اور جب وہ فارم بھرنے لگی ۔ میرے پاس آئی ، پوچھا کہ تم نے فارم بھرلیا ہے تو چلوہم ساتھ جمع کروا دیتے ہیں۔میں نے  بتایا کہ والد صاحب نے مجھے کالج میں داخلہ لینے کی اجازت نہیں دی۔ بولی ایسا کیوں؟کل فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے۔چلو میں انکل سے بات کرتی ہوں۔ہر گز ان سے بات مت کرنا۔میں نے  ارم کو روکا جانتی ہو وہ کتنے ضد کے پکے ہیں ، وہ نہیں مانیں گے۔

الٹا تمہیں نہ ڈانٹ دیں, ارے ایسا نہیں ہوگا۔میں انکل کو بچپن سے جانتی ہوں۔وہ اوپر سے سخت مزاج لگتے ہیں مگر دل کے نرم ہیں۔ابھی تم دیکھو تو سہی کیا ہوتا ہے۔باوجود میرے روکنے کے وہ ابو کے کمرے میں چلی گئی اورمیرے داخلے کی بات کی ۔والد صاحب نے منع کردیا۔بولے بیٹی ضد نہ کرو میں ربیعہ کو اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ اس کے دادا نے منع کیا ہے۔اپنے والد کی حکم عدولی کیو نکر کروں۔ربیعہ بولی انکل آپ مان جائیں۔دادا کو میں خود جا کر منالوں گی ۔ جب والد نے پھر بھی ہامی نہ بھری تو اس نے روتےہوئے اپنافارم ا ن کی میز پر رکھ دیا۔بولی میں پھاڑوں گی تو گستاخی ہوگی ۔ آپ خودہی اس کو پھاڑ دیجئے ۔ اگر ربیعہ نہیں پڑھے گی تو میں بھی نہیں پڑھ سکوں گی۔میرے ابو نے یہی شرط رکھی ہے کہ ربیعہ کالج میں داخلہ لے تب ہی تم بھی لینا۔پہلی جماعت سے اسکول  اکٹھےگئی ہو، کالج بھی اکٹھے جانا ورنہ تم اکیلی کو کالج نہیں بھیج سکتا۔

اسے زارو قطار روتے دیکھ کر نہ جانے والد صاحب کا دل کیسے گداز ہوگیاکہ داخلے کا فارم میز سے اٹھا کر اسے دے دیا اور کہا کہ میں جا کر دوسرا فارم لے آتا ہوں،کل تم اسے ساتھ لے جانا اور دونوں اپنا فارم جمع کروادینا۔یہ سن کر وہ کھل اٹھی ۔ دوڑتی ہوئی میرے پاس آئی اور میرے گلے سے لگ گئی۔بولی چلو بھئی اب تیاری کر لوکل ہم دونوں فارم جمع کرانے کالج جائیں گے۔میں نے کہا تھا نا کہ انکل میری بات نہیں ٹالیں گےوہ بات جو تم نہیں منواسکیں، میں نے منوالی ۔ اب کھلائو مجھے مٹھائی …یوں ارم کے آنسوئوں نے میری کامیابی کا راستہ ہموار کیا اور اس کی جرات نے مجھ پر تعلیم کے دروازے کھول دیئے ۔ہمارا داخلہ ہوگیا اور ہم  نے مضمون بھی ایک جیسے ہی لئے، کالج جا کر میں بہت خوش تھی۔کالج کی زندگی کا اپنا ہی مزہ ہوتاہے۔ارم مجھ سے زیادہ خوش تھی کہ ہمارا ساتھ نہیں چھوٹاتھا۔

اب ہم روزاکٹھی جاتیں اور اکٹھی آتیں۔راستے بھر باتیں کرتے جاتے تھے۔کتنےخوبصورت دن تھے وہ بھی۔ دو سال بخیرت اور ہنسی خوشی گزرگئے۔ہم نے انٹر کا امتحان دیا اور بہت اچھے نمبر لئے۔مگر تیسرے سال ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہم دونوں سہیلیوںکو آپس میں جدا کردیا۔ہمارے کالج کے پاس ایک شاپ تھی جس پر چاٹ بکتی تھی۔اکثر لڑکیاں وہاں سے چاٹ منگواکر کھاتی تھی،کچھ پیک کروا کر گھر ساتھ لے جاتی تھیں۔ہم دونوں بھی کالج سے چھٹی کے بعد وہاں سے کبھی چھولے،کبھی دہی بڑے پیک کروا لیتی تھیں۔وہ اپنی بہن کے لیے اور میں اپنی بہن کی خاطر کیونکہ دونوں ہی ہم سے فرمائش کرتی تھیں کہ ضرورلانا۔

 ایک دن اس شاپ پر ایک خوبصورت نوجوان بھی یہ چیزیں پیک کروا کر لےجارہا تھا۔اس نے مجھے دیکھا تو ٹھٹھک کر رہ گیا۔میں اس کی نظروں کی ان کہی کہانی سمجھ گئی ۔دوسرے روز بھی وہ اسی وقت وہاں موجود تھا۔اس روز ارم کا موڈ کچھ خریدنے  کا نہ تھالیکن میں اصرار کر کے لے گئی اور چھولے پیک کروائے۔وہ نوجوان مجھے بغوردیکھے جارہاتھا۔پھر تو یہ معمول ہوگیا کہ میں روز کچھ نہ کچھ پیک کروانے لگی اور وہ بھی مقررہ وقت پر وہاں موجود ہوتا۔بہت جلد ارم کو اندازہ ہوگیا کہ وہ نوجوان میرے لئے اور میں اس کے لئے اس شاپ پر جاتی ہوں اسے یہ بات اچھی نہ لگی۔مجھے سمجھانے لگی کہ تم یہاں مت آیا کرو کبھی کبھی ایسی چیزیں لینا اچھا لگتا ہے مگر اسے روز کا معمول مت بنائو۔میں کہاں ماننے والی تھی۔اس نوجوان کی جادو اثر نگاہیں مجھ پر سحر کر گئی تھیں اور میں اب اس کے دیدار کے بہانے ڈھونڈنے لگی تھی۔ارم ہمیں بے بسی سے تکنے پر مجبورتھی۔پہلے کچھ دن تو اس نے برداشت کیا ۔

سمجھاتی بھی رہی کہ بات آگے بڑھنے سےپہلے قدم پیچھے ہٹا لو ورنہ مشکل میں پڑ جائوگی۔اس شاپ پر جانا چھوڑ دو ورنہ  میں تمہارا ساتھ چھوڑدوں گی مگر مجھے اس کا سمجھانا زہر لگنے لگا اور ایک دن زچ آکر کہہ دیا کہ میں کوئی جرم نہیں کر رہی ۔ اگر تم اسے جرم سمجھتی ہو تو بے شک مجھے چھوڑدو۔میں اکیلی کا لج سے گھر سے چلی جایا کروں گی ۔میں تمہاری سوچوں کی غلام نہیں ہوں۔وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔کافی دنوں تک اس نے میرا ساتھ دیا۔تمام راستہ مگرمیں اس کے ساتھ کلام نہ کرتی اور نہ ہم کالج میں بات کرتے تھے۔ارم نے میرے گھر آنا چھوڑ دیا تھا۔مجھ پر اس کی خاموش احتجاج کا بلکل اثر نہ ہوا۔میں کہتی کہ میری اپنی زندگی ہے اور تمہاری اپنی تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوکو۔مجھے میری مرضی اور خوشی سے جینے دو۔بالآ خر ہمارے درمیان اتنا تنائو بڑھا کہ دوستی ٹوٹ گئی  اور ہمارے راستے الگ ہو گئے ۔

اب ہم فورتھ ایئر میں تھے ۔وہ اپنے گھر سے اکیلی جاتی تو میں دیر سے تیار ہونے کا بہانہ کر کے بعد میں نکلتی اور آگے جا کر اس نوجوان کے ہم رکاب ہوجاتی جو ایک خاص مقام پر میرا منتظر ہوتا تھا۔اس کا نام یوسف تھا اور ہماری ملاقاتیں باقاعدگی سے جاتی تھیں ۔ارم کا کانٹا درمیان میں سے نکل چکا تھا۔مجھ سے دوستی ترک کرنے کا یقینا اسے بے حد دکھ تھالیکن کیا ہوسکتاتھا۔اب ہمارے خیالات الگ الگ اور راستے جدا ہوچکے تھے۔میں سمجھتی تھی کہ یوسف جیسے خوبصور ت نوجوان کو پا کر میں نے سب کچھ پالیا ہے اور ارم بے وقوف ہے،اسے دلوں کے حالات کا کیا پتا۔جن دنوں ہمارے فورتھ ایئر کے پیپرز ہورہے تھے،خالہ اپنے بیٹے کا میرے لیے رشتہ لینے آگئیں،جس کا نام زین تھا۔وہ بے حد خوبصورت اور اعلی عہدے پر فائزتھا۔والدین کی آرزو تھی کہ میرا رشتہ زین سے ہوجائے۔

ان کی امید برآئی اور انہوں نے خالہ کو ہاں کر دی ۔شادی سالانہ امتحان کے بعد ہونا قرار پائی تھی۔میں نے یہ بات سنی تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ مجھے صرف اور صرف یوسف سے شادی کرنا تھی۔میں نے اس سے رابطہ کیا اور اسے صورت حال سے آگاہ کیا۔وہ یہ سن کر اداس ہوگیا۔تم اپنے والدین کو کیوں نہیں بھیج دیتے ، تم میں کوئی کمی نہیں ہے۔جب وہ میری مرضی پوچھیں گے، میں تمہارا نام لوں گی اور زین سے شادی سے انکا کر دوں گی۔غرض میرے اکسانے پر اس  نے اپنی ماں سے بات کی۔پہلے تو اس کی امی نہ مانیں کیونکہ وہ اپنی بھانجی سے یوسف کی بات طے  کر چکی تھیں مگر جب یوسف نے بہت دبائو ڈالا تو وہ ہمارے رشتے کے لئے آئیں۔ادھر امی  ابو بھی خالہ کو زبان دے چکے تھے۔انہوں نے یوسف کی والدہ سے معذرت کر لی اور کہا کہ آپ کو ہم نہیں جانتے ۔ہم انجانے لوگوں میں رشتہ نہیں کرتےجبکہ ہماری بچی کا رشتہ طے ہو چکا ہےاور لڑکا اعلی آفیسر ہے،ہمارا قریبی عزیز ہے۔

غرض انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ دوبارہ اس غرض سے ہمارے پاس تشریف نہ لائیے گا۔ یوسف کے والدین نے سبکی محسوس کی اور جا کر بیٹے کو لعن طعن کی کہ تم نے ہماری اچھی عزت افزائی کروائی ۔ ہمیں پہلے پتا تھا کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔بھلا ایسے کوئی انجان لوگوں کو بیٹی دیتاہے۔تم کم عقل ہو اور تمہاری محبت میں آکر آخر کار  ہمیں ذلیل ہونا پڑا۔خبردار آئندہ اس لڑکی کا نام مت لینا۔ادھر ابو امی پر خفا ہوگئے کہ یہ کون لوگ تھے اور کیوں اس طرح منہ اٹھا کر ہمارے گھر آگئے ۔والدہ بچاری کیا جواب دیتیں،وہ مجھ پر خفا ہوئیں کہ یہ سب تیری کار ستانی ہے جو یہ لوگ بلا تعارف ہمارے گھر گھس آئے…خبردار آئندہ نہ آئیں ورنہ تمہارے بابا ان کا برا حشر کر دیں گےاور ساتھ میں میرا اورتمہارا بھی۔

اسی دن کےلیے تمہیں کالج پڑھنے کےلیے بھیجا تھا کیا۔غرض انہوں نے خوب مجھے برا بھلا کیا اور میں چپ چاپ سنتی رہی ۔ مگر  دل میں ٹھان لی کی جویہ چاہیں کرلیں،شادی میں یوسف سے ہی کروں گی۔رزلٹ آتے ہی گھر والوں نے میری شادی کی تاریخ رکھ دی ۔ میں بہت پریشان ہوئی۔ارم کو بتایا اور اس سے کہا کہ میری مدد کرواس نے کہا۔صبر کرو،ورنہ بھاگ کر یوسف سے شادی کرلو۔اس نے ویسے ہی طنزیہ کہا تھا مگر میں نے اس بات کو گرہ میں باندھ لیا۔ ادھر یوسف فون کروا رہا تھا کہ کسی اور سے شادی مت کرنا ورنہ ہم دونوں تمام عمر نا خوش زندگی بسر کریں گے۔ایک بار اور والدہ سے منت کی کہ مجھے زین سی شادی پر مجبور نہ کریں ، مجھے یوسف سے شادی کرنی ہے۔والدہ نے جواب دیا ۔تمہاری شادی کی تاریخ طے ہو چکی ہے۔

کارڈ چھپنے چلےگئے ہیں۔کچھ ہوش کے ناخن لو آئندہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا ۔ اگر تیرے بابا کو خبر ہوگئی تو وہ تمہیں مارڈالیں گے اور خود بھی مر جائیں گے۔یوسف نے ایک لڑکی کو میرے گھر  بھیجا جو میری کالج کی  سہیلی بن کر آئی اور اس کا پیغام دیا کہ زین سے شادی مت کرنا ورنہ مجھے ہمیشہ کےلیے کھو دوگی۔تم گھر سے نکل آئو، ہم شادی کرلیتے ہیں، بعد میں والدین مان جائیں گے۔اب اس کے سوا اور کوئی  رستہ نہیں ہے۔ اب میں دوراہے پر کھڑی تھی۔ آخر جذبات کی جیت ہوئی اور عقل نے ہار مان لی اور ایک رات جب سب سورہےتھے،میں گھر سے نکل پڑی۔یوسف گلی کے موڑ پر میرا منتظر تھا۔وہ مجھے گوجرانوالہ لے آیا اور اس کے دوست کے پاس ہم ٹھہر گئے جس نے اگلے دن ایک کرائے کا مکان لے دیا اور ہم وہاں چلےگئے۔کورٹ میرج کر کے نئی زندگی کی ابتدا کی۔

شادی کے دو سال تک ہم دونوں ہی اپنے اپنے والدین سے نہیں ملے۔جب میرا پہلا بیٹا ہوا تو اس کے دادا ،دادی کو اطلاع ہوئی ،وہ ہم سے ملنے آگئے اور مجھے اپنے ساتھ گھر لےائے ۔انہوں نے مجھے اپنی بہو تسلیم کر لیا مگر میرے ماں باپ مجھ سے راضی نہ ہوئے،حالانکہ کئی با ر میرے سسر اور جیٹھ شہر کے کئی معزز لوگوں کو لے کر ان کے پاس میری طرف سے معذرت کرنے اور راضی نامے کےلیے گئے۔میرے والد نے کہا کہ میں ربیعہ کو کبھی معاف نہیں کروں گا، میرے لیے وہ مرچکی ہے۔آپ دوبارہ مت آئے گا۔چونکی میری شادی کے کارڈ بھی چھپ چکے تھے۔والد صاحب کی بے عزتی ہوئی تھی ، اس لیے انہوں نے مجھے معاف نہ کیا اور والدہ سے کہا اگر تم ربیعہ سے ملیں تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔یوں ممتا کی ماری میری ماں مجھ سے ملنے سے باز رہیں ۔وقت گزرتا رہا ۔ میں چار بچوں کی ماں بن گئی ۔

اپنی زندگی میں رچ بس گئی والدین کے لیے دعا کرتی تھی ۔ اللہ انہیں سلامت رکھے اور ان کے دل میرے لیے گداز ہوجائیں مگر ہمارا میل نہ ہوسکا۔والد وفات پاگئے ۔پھر والدہ بھی ،ان کے بعد بھی بھائی نے مجھے گھر نہ آنے دیا ۔یوں میں نے اپنا پیا ر تو حاصل کر لیا مگر والدین کھو دیے۔آج میرا سسرال تو ہے مگر میکہ نہیں ہے جبکہ لڑکی میکے کے بغیر ادھوری ہوتی ہے جیسے وہ سسرال کے بغیر بے رونق گھر کی مالکن ہوتی ہے۔دعا ہے اللہ کسی لڑکی سے اس کے میکے کو جدا کرے اور نہ اسے  سسرال کی  محبت سے محروم رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں