مدتوں سے ہمارا پیشہ کھیتی باڑی تھا ۔ میرے بچے صبح ترکے ہی زمین کا سینہ چیرنے چلے جاتے تھے ۔ ہماری اپنی زمین نہیں تھی ، دوسروں کی زمین پر گھر بنا کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اپنی زمین ایک حسین خواب تھا جس کی کوئی تعبیر نہ تھی ، کیونکہ صدیوں سے ہم جاگیر دارانہ نظام کے غلام ہیں ۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ خدا جانے کتنی صدیاں اور اسی طرح گزریں گی اور ہم اسی طرح غلامی کی زندگی جینے پر مجبور رہیں گے ۔ ہماری تقدیر بھی نہیں بدلیں گی ، کیونکہ ان کی تقدیریں نہیں بدل سکتیں جو اپنی تقدیریں خود نہ بدلیں۔ ہمارے دادا ، پردادا جن کی زمین پر فصل اگاتے اور کھاتے رہے، ہم ان کی اولاد میں بھی آج انہی کی دھرتی کا سینہ چیر کر فصل اگاتے ہیں اور کمائی کے موسم میں تیز دوپ میں ساری بستی کی  لڑکیاں اور عورتیں ہاتھوں میں درانتیاں لیے منہ اندھیرے سے شام تک گندم کی بالیاں کاٹتی ۔

خدا جانے اسی وقت ایسے مزدوروں کو اکتنی مزدوری ملتی تھی لیکن آج کل دو بیگھے زمین گندم کاٹنے پر دو من اناج مل جاتا ہم گھرمیں چار عورتیں تھیں ۔ جبکہ ہمارے مرد نزدیکی شہر میں محنت مزدوری کو گئے ہوئے ہوتے۔ میری دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور ایک بہو اپنے بچوں کے ساتھ میرے ہی گھر رہتی ۔ میرے گھر کا کل رقبہ پانچ مرلے کے قریب زمیندارانہ رواج کے مطابق ہم نصف صدی سے اپنے زمیندار کی زمین پر آباد تھے ، یہ پانچ مرلے ان کی عطا کر دہ تھی ۔ جس پر ہم نے گھر بنا رکھا تھا ۔ اس لیے ہم ہمیشہ اپنے زمیندار کی زمین پر اتنی محنت مشقت کے پابند تھے یہ اخلاقی پابندی تھی ۔ حالانکہ ہم اور جگہ جا کر محنت مشقت کرنے کے مجاز تھے لیکن اس بات کو اچھا سمجھا جاتا تھا ، پہلے اس مالک کی خدمت مطلوب ہوتی تھی جنہوں نے ہمیں سرچھپانے کے لیے جگہ عنایت کی تھی ۔

ہم دکھ سکھ میں ہوں یا ہمارے مردوں کے تھانے کچہری کے معاملات ہوں ، زمیندار ہماری اخلا قی مدد کا پابند تھا ۔ اس بار خدا کی کرنی فصل اچھی نہ ہوئی ۔ اس کا سبب سیلا بی پانی رھا ، بہر حال اللہ نے اتنا کرم کیا کہ سڑک کے قریب والا کچھ حصہ خراب ہواتھا ، باقی جگہ دلدل بننے سے محفوظ تھی ۔ تبھی ہم تمام عورتیں فصل کی کٹائی اور کپاس کی چنائی میں کھپ گئیں جبکہ مردوں نے شہر جا کر مزدوری کرنے کو ترجیح دی ۔ اچانک ایک جان لیوا حادثہ ہوگیا ۔ہمارے گھر کے پاس ہی سبزیوں کی کاشت کی تھی ۔ سبزیوں پر بھی سپرے کی تاکہ کیڑا سبزی کو خراب نہ کر سکے ۔

مجھے اس بات کا علم نہ تھا ، مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں اس طرف چلی گئی جہاں ایک دو راز پہلے سپر ے ہوا تھا ۔ میری بیٹی نے کہا کہ اماں ! آج پالک توڑ پالک کھانے کو دل چاہ رہا ہے م دال کھاتے کھاتے دل اوب گیا ۔ گاؤں میں اکثر مٹی کی ہانڈی میں دال ساگ پکتا ہے ، یہاں گوشت تو شاذو نادر ہی پایا جاتا ہے ، جب بڑا کوئی خیرات کرتا ہے ۔کسی کے گھر شادیانے بجتے  ہیں تب گائے یا بکرے کاٹے جاتے ہیں اور سارا گاؤں دیگ کے لذیذ سالن سے فیضیاب ہوتی ہے۔ میری دونوں بیٹیاں اور بہو فصل کاٹنے گئی ہوئی تھیں ساتھ بہو کی بچیاں دس سال حمیرا اور بارہ سالہ شازیہ بھی گئی تھیں تاکہ ماں کے کام میں ہاتھ بٹا سکیں ۔ ان روز میری طبیعت ٹھیک نہ تھی ، سر میں درد تھا تبھی سوچا آج آرام کروں گی ۔دن کے پہلے پہر تو چارپائی پر لیٹی رہی پھر خیال آیا کیوں نہ برابر کے کھیت سے ساگ توڑ کر لے آوں تاکہ رات کے کھانے کا سامان ہوجائے ۔

میرے شوہر ، دونوں داماد اور بیٹے بھی اکٹھے شہر سے مغرب تک مزدوری کر کے گھر آجاتے تھے ۔ ساگ توڑنے اور بنانے میں کافی وقت خرچ ہوتا تھا ، لہذا میں جلدی جلدی کھیتوں کی طرف چل دی ۔ جب پانچ چھ کلو کے قریب پتے توڑ لیے تو ان کو گٹھری میں باندھ کر گھر لے آئی اور چارپائی پر چٹائی بچھا کر ساگ کی گٹھری کھول دی ، پتوں کو صاف کرنے کےلیے گھنٹے تک کام میں مشغول رہتی ۔ جب ساگ سے ڈنڈی علیحدہ کرلیے تو میں نے اسے ہانڈی میں بھر کر چولہے پر رکھ دیا اور لکڑیوں کی آگ جلادی اور پرات میں آٹا گوند نے بیٹھ گئی ۔

میری کوشش تھی کہ مردوں کے گھر آجانے سے پہلے ساگ پک کر تیا ر ہوجائے ۔ مرد جب سارے دن کے کام کے مشقت کے بعد رات کو گھر آیں تو وہ بے حد تھکے ہوئے ہوتے تھے ، تب گرم ترم تازہ کھانا ہی ان کو راحت اور سکون تھا ، ورنہ وہ غصے میں آجاتے اور کسی نہ کسی بہانے سے عورتوں پر غصہ نکالتے میری بہو اور دونوں بیٹیاں گھر لوٹ آئیں ، ساتھ بچے بھی آگئے ۔ بہو نے جھوٹے برتنوں کا ٹوکرا اٹھا لیا اور نلکے پر جا کر انہیں دھونے بیٹھ گئی جبکہ زارا اور سارہ تنور سے گرم گرم روٹیاں اتارنے لگیں۔اتنے میں دروازے میں لگا لکڑی کا کنڈا گرنے کی آواز آئی ۔

میں نے بہو سے کہا، وہ لوگ آگئے ہیں تم مجھے مکھن کا کٹورا اور لہسن لاکر دو، ساگ کر ترکھا لگا کر چکھا ۔آج ساگ بہت مزے کا بنا تھا ، یقینا اسے کھا کر سبھی خوش ہو جائیں گے ۔ اتنے میں میرا  شوہر ، بیٹا اور دونوں داما د برآمدے میں آگئے ۔ بہو نے ان کے لیے صحن مین چارپائیاں بچھا دیں اور وہ جا کر چارپائیوں پر براجمان ہوگئے ۔ تب بہو نے سلور کے جھگ میں پانی بھرا ، سسر کے ہوتھ دھلوائے پھر اپنے شوہر کے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، تبھی میر ے داما د بولے رہنے دو بھابھی ! ہم خود اپنے ہاتھ دھولیں گے ۔ ایک نے ہیڈ پمپ چلایا ارو دوسرے نے ہاتھ منہ دھویا ، پھر دوسرے نے پمپ چلایا اور پہلے نے ہاتھ منہ دھولیا ۔

ہاتھ منہ دھو کر وہ دوبارہ چارپائی پر بیٹھے ۔ اتنے میں میں  نے کٹوریوں میں سالن بھرا اور چنگھیریوں میں روٹیاں رکھ کر ان کے سامنے رکھ دیں۔ وہ صبح کے بھوکے تھے ، منٹوں میں کھانا ختم کردیا ۔ انہوں نے مزید سالن اور روٹیوں کا مطالبہ کردیا ۔ زارا اور سارہ نے روٹیاں دوبارہ ان کے سامنے لا کر رکھ دیں ۔ اتنے میں میری بہو، بیٹیوں اور بچوں نے بھی کھانا کھانا شروع کردیا ۔ ابھی چند نوالے ہی لیے تھے  ۔ کہ مردوں نے قے کرنا شروع کردی ، پھر ان چاروں کی حالت ایسی ہوئی کہ وہ جہاں بیٹھے تھے ، وہیں گرگئے اور آنا فانا ان کی آنکھیں چڑہ ہیں ۔ وہ ایک بے آب کی مانند تڑپنے لگے ۔ میں دوڑی ہوئی پڑوس میں گئی ۔ یہ میرے چچا زاد کا مکان تھا ، وہ گھر پر موجو د تھا ، میں نے دہائی دی ۔ اللہ دتہ ! جلدی آؤ اللہ دتہ اپنے بیٹوں کے ساتھ آیا سب کی حالت غیر دیکھ کر وہ گھبر اگیا وہ جلدی باہر گیا اور زمیندا ر سے ٹریکٹر لے آیا چاروں کو ٹرالی میں ڈال کر جونہی وہ چلے گئے گھر میں میری  بیٹیوں بہو اور بچوں کی بھی طبیعت غیر ہوگئی اب سب کو سنبھالنے والی ایک میں رہ گئی تھی ۔ کیونکہ میری عادت تھی کہ سب کے کھانا کھانے کے بعد ہی میں کھانا کھاتی تھی۔ میرے خاوند ، بیٹوں اور دونوں دامادوں کو ہسپتال پہنچا کر جونہی اللہ دتہ لوٹا تو مزید مریض تیا ر تھے ، انہیں بھی ہسپتال لے گئے ۔

جب وہاں پہنچی تو دونوں داماد چل بسے تھے اور میرا خاوند اور بیٹا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے ۔ دونوں بیٹیوں ، بہوں اور ان کے بچوں کو معد ے واش کرنے کے بعد بچالیا گیا ۔ مگر وہ مردوں کو نہ بچا سکے کیونکہ انہوں نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھالیا تھا ۔ ڈاکٹروں نے تصدیق کردی کہ ان چاروں کی موت ایسے زہر سے ہوئی ہے جو کھانے میں شامل تھا ۔ ساگ پر دو چار روز پہلے تازہ سپرے کیا گیا تھا ، کیڑے مار دوا کے زہر کا اثر ساگ کے پتوں پر ابھی باقی تھا ۔ اس حقیقت کا اگر مجھےعلم ہوتا تو کیوں میں زہریلا ساگ پکا کر اپنے لوگوں کو کھلاتی آہ افسوس اب میں ہاتھ مل رہی تھی ۔ اپنے ہی ہاتھوں سے نادانی میں سب کو زہردے دیا  اور گھر میں صرف ہم عورتیں ہی رہ گئے ۔ وقت کا کام ہے گزرنا ار گزر ہی جاتا ہے چاہے اچھا ہو یا برا۔ ہم آج بھی اس گھر میں رہائش پذیر ہیں ۔ زمیندار نے بھی ہمیں گھر خالی کرنے کو نہیں کہا ۔

 ہم چاروں بیواوں میں سے کسی نے دوسری شادی نہیں کی ، سلائی کڑھائی ، محنت مشقت ، کھیتوں کی مزدوری بس یہی ہمارا نصیب اور یہی ہماری زندگی ہے ۔ بچوں کی پرورش ہماری اولین ذمہ داری ہے اس ذمہ داری کو ہم چاروں نبھا رہے ہے ۔ بہو نے بھی میکے جانے پر ہمارے ساتھ رہنے کو ترجیح دی ۔ اس کی بچیاں جوان ہیں ۔ میکے جاتی تو اس کے بھائی اس کو اور بچیوں کو وٹے سٹے کی بھینٹ چڑا دیتے ۔ میرے پوتے بھی اب ماشاءاللہ بڑے ہوگئے ہیں ، اسکول میں طالب علم ہیں ۔ ہمیں ان کے جوان ہونے کا انتطار ہے ۔ پوتے اور نواسے جب کمانے لائق ہوجائیں گے تو ہمارے دن ضرور بدل جائے گے ۔ اس خیال سے جی رہے جب تک سانس تب تک آس !

اپنا تبصرہ بھیجیں