مجھے یاد ہے جب امی جان کا انتقال ہو ا تو میں اپنی ہم عمر لڑکیوں کےسا تھ چھت پر گڑیوں سے کھیل رہی تھی ۔ ان دنوں میری عمر آٹھ سال تھی ایک بچی نے آکر بتایا کہ چلو تمہاری اماں مرگئی ہے ۔ مجھ پر کوئی اثر نہ ہو کیونکہ میں مرنے کا مطلب نہیں جانتی تھی ۔ میں کھیلنے میں  مصروف رہی اچانک رونے کی آوازیں آنے لگیں تو میں نیچے آگئی ۔ دیکھا بڑی بہن اور بھائی ماں کی چارپائی کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں ۔ مجھے امی کت مرنے کا ملال نہ ہوا کیونکہ امی کافی دنوں سے بیمار تھیں اور زیادہ تر خالہ کے گھر رہی تھی ۔ امی کی وفات کے بعد ابا کمانے کی خاطر غیر طریقے سے بحرین چلے گئے ۔ وہاں ایسے گم ہوئے کہ انہوں نے پھر ہماری خبر ہی نہ لی ۔

گھر میں ہم دو بہنیں اور بھائی ارشد رہ گئے ۔ میرا نام زریں جبکہ میری بڑی بہن کا نام خانم جان تھا ۔ ہم ان کو جان بی بی کہا کرتے تھے ۔ وہ ماں کی طرح ہمارا خیال رکھتی تھی ۔ وہ گھر کا سارا کام کیا کرتی تھیں۔ ہمارا کھانا بھی وہی بناتی تھیں ۔میں صبح اسکول جاتی ۔ بھائی بھی اسکول میں پڑھ رہا تھا ۔ جلد ہی ہمارے گھر کا چولہا ٹھنڈا رہنے لگا کیونکہ والد صاحب کا کوئی پتا نہ تھا ۔ خالی کبھی کبھی آکر کچھ دے جاتی تھیں لیکن وہ بے چاری خود غریب تھیں۔ نتیجہ یہ ہو ا کہ ہم دونوں بہن نے پڑھائی چھوڑ دی ۔ ہمارے گھر کے بیٹھک میں خالہ نے ارشد بھائی کو سامان ڈلوادیا اور وہ دکان پر بیٹھے چھوٹی موٹی چیزیں بچوں کی ٹافیاں وغیرہ بیچتا، یوں روزانہ تھوڑا بہت منافع ہونے لگا جس سے چولہا جلنے لگا ۔

محلے والوں کو بھی پتا تھا کہ ان کا باپ چلا گیا ہے اس لیے وہ ہی ضروری سامان لینے لگے ۔ ارشد دکان پر بیٹھتے ہوئے شرماتا تھا لیکن پھر یہی دکان ہمارے کمانے کا آسرا تھا ۔ میں دوبارہ اسکول جانے لگی ۔ وقت گزرتا رہا ۔ میں نے نویں جماعت اور میرے بھائی نے پرائیویٹ میٹرک پاس کر لیا ۔ والد صاحب کا انتطار تھا ۔ وہ بھی رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا ۔ آپا کی شادی کی ارشد بھائی کو فکر تھی ۔ خالہ سے تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ زریں نے اب تک پڑھ لیا ہے ، اب اگر یہ گھر بیٹھے تو میں جان بی کو بیاہ کر لے جاؤں گی ۔ خالہ کا بیٹا میری آپا سے چار برس بڑاتھا ۔ وہ میٹر ک پاس تھا اور ڈرائیور تھا ۔

وہ دن بھی آیا جب بھائی نے جان بی نی کو رخصت کرنا تھا ۔ جس روز آپا کی رخصتی تھی ، ہمارے گھر میں تھوڑے سے پیسے تھے اور آپا کی جہیز میں دینے کیلے کچھ نہ تھا ۔ خالہ نے ان باتوں کی پروا نہ کی اور ایک جوڑے میں میری بہن کو بہو بنا کر  لائیں۔ آپا کے جانے سے گھر کی رونق جاتی رہیں ۔ اب ارشد دکان پر ہوتا ارو میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتی ۔ آپا ہر دوسرے تیسرے دن ہماری خبر گیری کے لیے آجاتی تھیں ۔وقت گزرتا گیا ۔ یہاں تک کہ میں بھی بڑی ہوگئی ۔ آپا کو میری فکر کھائے جاتی تھی کہ جوان بہن گھر میں اکیلی ہوتی ہے ۔ وہ خالہ سے کہتی تھیں کہ اس کا رشتہ ڈھونڈو ۔ ارشد لڑکا ہے مگر لڑکی کے معاملے میں دیر کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔آپا نے بہنوئی سے ذکر کیا ان کی دوستی پشاور میں ایک ڈرائیور سے ہوئی ہے ۔

جس کا نام حسن خان ہے اور وہ ان دنوں یہاں آیا ہوا ہے ۔ اچھا آدمی ہے ، اس کا کاروبار وسیع ہے ۔ وہ کراچی سے لے کر افغانستان تک آپا نے کہا کہ اس کو کسی روز گھر لاؤ۔اس طرح میں اس کو دیکھے پرکھ لو گی ، پھر زریں کے لیے رشتے کی بات کریں گے ۔ وہ ایک روز حسن خان کو گھر لے آیا ۔ مجھے بھی آپا نے بلوالیا کہ مہمان آیا ہے کھانا کھلانا ہے تم آکر ذرا ہاتھ بٹانا حسن نے مجھے دیکھا اور پسند کرلیا ۔ اس نے ازنو میرے رشتے کی بات کی کہ مجھ کو اس لڑکی کا رشتہ چاہئے ۔ اندھے کو کیا چاہنے دو آنکھیں فورا اس کی درخواست قبول کر لی ۔آپا نے یہ ضرور کہا اپنے گھر والوں کو بلواو ، کم از کم تمہارے والدین کو ضرور شادی میں شرکت کرنی چاہئے۔ اس کا کہنا تھا کہ والدین وفات پاچکے ہیں ، بھائی کوئی ہی نہیں ۔ البتہ دوست ہیں ، میں ان کو لے آؤں گا۔ رشتے دار میرے اتنے دور ہے سفر کرکے آنے والے نہیں ۔ ہم کراچی میں رہتے تھے اور وہ پشاور سے آگے کہیں  کا رہنے والا تھا ۔

ڈرائیور تھا اور وہ ٹرک چلاتا تھا لہذا بہنوئی سے دوستی ہونگی ، تاہم ڈرائیور کی آڑ میں کوئی کاروبار بھی کرتا تھا جس کا ہم کو علم نہیں تھا ۔ میرا بہنوئی ریاض بہت سادہ آدمی تھا ۔ وہ ہر کسی پراعتبار کرلیتا اور ہر ایک سے دوستی ہوجاتی ۔حسن پر بھی اعتماد کرلیا بغیر جانے ، یہ معلوم کیے بنا کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے اور کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے ۔ کیا اس کا کاروبار ہے ۔صرف اس  کی زبان پر بھروسہ کرتے ہوئے ظاہری ٹپ ٹاپ دیکھ کر میرا ان کے ساتھ رشتہ طے کر دیا گیا حسن کی طرف سے نکاح میں صرف دو آئے جو اس کے ساتھی تھے ۔ میں دلہن بن کر حسن کے ساتھ پشاور سے آگے ایک گائوں میں آگئی ان کا گا ئوں افغان بارڈر کے نزدیک تھا ۔

یہ ایک دودراز علاقہ تھا اور یہاں کے رسم ورواج نہایت نامانوس اور میرے لیے بے حد عجیب و غریب تھے ۔ یہاں شادی کے وقت عورت کو اس کے وارثوں نے سسرال والے یا اس کا خاوند رقم دے کر خرید لیتا تھا ، پھر وہ عورت ان لوگوں کی ملکیت ہوجاتی تھی ۔ یہاں کی لڑکیاں اور عورتیں بہت خوبصورت تھیں ۔ لیکن وہ فروخت ہونے والی شے کی مانندتھیں ۔ وہاں نزدیک ہی بہت بڑا بازار لگتا تھا جہاں دنیا کی ہر شے برائے فروخت ہوتی تھی ۔ یہاں انسان بھی بکتے تھے ۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے مگر یہی سچ ہے کہ ہر جمعرات کو وہاں عورتوں ، لڑکوں ، لڑکیوں اور مردوں کی منڈی لگتی ان کو خریدنے والے ان کی عمر اور شکل وصورت کے مطابق رقم دے کر لے جاتے تھے ۔

خریدار اندرون ملک اور بیرون ملک سے تھے  لیکن ان میں کوئی انگریز نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ لوگ انسانی سمگلنگ کرتے تھے ۔ یہاں  آکر مجھے علم ہوا کہ حسن خان کا کیا کاروبار ہے ۔ سامان کی بار برادری کی آڑ میں وہ انسانی اسمگلنگ اور بردہ فروشی کا بھی کام کرتا تھا ۔ حسن مجھ کو اسی غرض سے بیاہ کر لایا تھا ۔ اس نے مجھے منڈی مین لا کر فروخت کرنا چاہا ۔ کیا بتا  و میرے دل کی کیا کیفیت تھی ۔ میں اپنوں سے اتنی دور تھی کہ انہیں اپنے حال سے آگاہ بھی نہیں تھی ۔ مجھے اپنے سب سے بڑا شکوہ تھا ۔ ماں باپ تو گئے مگر رشتے دار کیسے تھے ۔

بغیر چھان بین کے انہوں نے مجھ کو ایک اجنبی سے بیاہ دیا ، یہ تک نہ سوچا کہ ، خدا جانے کون ہے اور میرے ساتھ کیسا سلوک کرے گا ۔ انہوں نے وجہ جان کر بس ایک ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی تھی ۔مجھے یقین تھا اگر کسی کو میری پرواہ ہے تو وہ صرف اور صرف میرا بھائی ارشدہے ، وہ ضرور بے چین اور بے قرار ہوگا اور یہی تھا ۔ اس نے حسن کے دیئے ہوئے خط لکھے ۔ جب کسی کا جواب نہ آیا تو وہ خود مجھے ڈھونڈنے پشاور آیا اور اس پتے پر گیا ۔لیکن یہ پتہ غلط تھا وہاں حسن خان نام کا کوئی نہیں رہتا تھا ۔جس آدمی سے بھائی نے حسن کے بارے میں دریافت کیا ، اس کے قریب ایک شخص یہ سن رہا تھا ۔ اس نے پوچھا ، کیا وہ حسن خان جو ٹرک ڈرائیور ہے اور کراچی سے مال لاتا ہے ۔

کیا اس کے ماتھے پر سرخ سانشان ہے؟ ہاں بلکل وہی ۔ وہ تمہیں افغان بارڈر سےپہلے ایک مقام تھا ۔ جس لڑکی کو کراچی سے لایا ہے ، اس کو منڈی میں برائے فروخت پیش کردیا ہے ۔ پانچ لاکھ رقم مقرر کی ہے ۔ جلدی جاو اور لڑکی کو خریدو ارشد نے انہی دنوں ذاتی مکان فروخت کیا تھا اور بینک میں رقم جمع کرادی تھی ۔ارشد نے  ریاض بھائی کو فون کیا کہ کیا کروں ؟ ریاض بھائی نے کہا ۔ جلد از جلد اے ٹی ایم سے رقم نکلوالو اور ان کو لانے کی کرو۔ وہ آدمی جس نے رہنمائی کی تھی ، اس کا نام ارباب خان تھا ۔ وہ ایک نیک آدمی تھا ۔ارباب خان ایک معزز آدمی تھا ۔ وہ ایک دین دار مسلمان تھا ۔ اس نے خود رقم کا انتظام کرایا اور ارشد کو اپنے ساتھ وہاں لے گیا ۔ جب وہ متعلقہ علاقے میں پہنچے تو وہاں جمعرات بازار لگا ہوا تھا ۔

ارشد دل میں دعائیں کررہا تھا کہ خدا کرے میری بہن زریں مل جائے میری بھائی کی دعائیں قبول ہوگئی اور ان کو میں نظر آگئی ۔ ارشد کو ارباب نے ایک طرف بٹھا دیا اور خود اس نے مجھے حسن خان کے کارندے سے منہ مانگے دوموں خریدلیا ۔ صد شکر کہ اس وقت حسن خان موجود نہیں تھا۔وہ پشاور لڑکیوں اور لڑکوں کو لینے گیا ہوا تھا ۔میں مرتے مرتے بچی تھی ۔ مجھے میرا بھائی لے آیا ۔ ایک انہونی بات ہوئی ورنہ جو میں نے دیکھا خدا کسی کو نہ دکھائے ۔ میں نے معصوم بچوں اور بچیوں کو فروخت ہوتے دیکھا جن کو کالے حبشی سوڈان اور وسط ایشیا سے خریدنے آئے تھے ۔ میں نہیں جانتے کہ ان بکنے والی انسانی جانوں کے ساتھ خریدار کیا سلوک کرتے تھے ۔ وہ ان کو کس غرضسے لے جاتے تھے ۔ وہ ان کو اس بازار کی زینت بناتے تھے یا غلام اور لونڈیاں بنالیتے تھے یا پھر انکے نکال کر پیوند کاری کے کارو بارکی بھینٹ پڑھاتے تھے ، پانچ لاکھ دے کر میری ملکیت حاصل کرلی گئی اور میں حالات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی ورنہ خداجانے میرا کیا حشر ہوتا ۔

ارباب خان ہمارے ساتھ کراچی تک آیا اور یہاں میرے بہنوئی اور بھائی نے اس کو اس کی رقم ادا کر دی جو اس نے میرےعوض ادا کی تھی ۔ اس طرح بڑا مسئلہ اس کی مدد سے حل ہوگیا ۔ میں نے منت مانی تھی اگر خدا مجھے میرے گھر والوں سے ملادے تو میں ہر روز عشاء کی نماز کے بعد بارہ نفل شکرانہ اداکروں گی اور عمر بھر ادا کرتی رہوں گی ۔سو میں روز رات نفل ادا کرتی ہوں ۔کبھی کبھی دعا سے اسی مراد بھی حاصل ہوجاتی ہے جو بظاہر ناممکن ہوتا ہے ۔ اللہ چاہے تو معجزہ ہو جاتا ہے ۔ میں کم ازکم یہی کہوں گی کہ یہ ایک معجزہ تھا جو میرے ساتھ اللہ کی رحمت سے ہوگیا ورنہ اس دور دراز جگہ جہاں عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں ، کیسے میرا بھائی پہنچ سکتا تھا ۔ اگر وہ کچھ دن دیر سے پہنچتا اور کوئی دوسرا مجھے خرید لیتا تب کیا ہو تا ؟ یہ سوچتی ہوں تو لرز کر رہ جاتی ہوں ۔ اب آپا اور بہنوئی شادی کا کہتے ہیں تو ہاتھ جوڑ کر منع کردیتی ہوں البتہ  ارشد کی شادی کردی ہے ۔ وہ لڑکی اکلوتی ہے اس کا باپ فوت ہوچکا ہے ۔

ان کا مکان زاتی ہے اور بھابھی کی ماں معذور ہے لہذا ہم دونوں بھائی بہن بھابھی کےگھر میں رہتے ہیں ۔ دعا کرتی ہوں کہ خدا ہر لڑکی کو اس مصیبت سے بچائے جس سے میں دو چارہوئی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں