یہ ہمارے بڑوں کا کیا دھراتھا کہ ہم آپس میں بات چیت نہ کرسکتے تھے، حالانکہ گھر پاس پاس تھے اور رشتے داری بھی گہری تھی۔بچے معصوم ہوتے ہیں وہ ان باتوں کو کیا جانیں کہ جائداد کےجھگڑے کیا ہوتے ہیں۔فروا میری چچا زادتھی۔ہم ساتھ اسکول میں داخل ہوئیں۔ دوستی پکی ہوگئی۔اس دوستی کو ہم نے اسکول تک ہی محدود رکھا تھا۔کیونکہ گھر والے ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ فروا کے گھر فون نہ تھا۔جب اسے کسی سہیلی سے بات کرنی ہوتی میرے گھر آجاتی ۔اس کی امی منع کرتیں کہ تایا کے گھر نہ جائو ۔ لیکن وہ ان کا کہا نہ مانتی تھی۔ایک روز وہ آئی تو گھر میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا ، کہنے لگی مجھے آسیہ کو فون کرنا ہے۔ میں نے کہا فون ملالو۔

اس نے ملایا ادھر سے کسی لڑکے نے اٹھایا ۔ اسے شرارت سوجھی بولی بات کرلو تمہارا فون ہے جب میں نے ہیلو کہا تو جواب میں لڑکے کی آواز سنی ، گھبراگئی۔ان دنوں میں بہت ڈر پوک ہواکرتی تھی ۔میری گھبراہٹ سے وہ بہت محفوظ ہوئی۔مجھ سے فون لے لیا ، بولی ۔یہ فاریہ ہے بڑی ڈرپوک ہے تم سے بات نہیں کر سکتی ۔ مجھے بہت بُرا لگا لیکن فروا نے میرے بُرا ماننے کی پروانہ کی بلکہ دیر تک اس لڑکے اسے ادھر ادھر کی ہانکتی رہی ۔ اس کے بعد یہ اس کا معمول ہوگیا۔جب آتی فون ملاکر باتیں شروع کردیتی۔میں امی کو یوں نہ بتاتی کہیں اس کا آنا بند نہ کر دیں۔امی پوچھتیں تو کہہ دیتی یہ اپنی کسی سہیلی سے باتیں کرتی ہے۔والدہ مجھ پر خفا بھی ہوتیں میں پروانہ کرتی ، فروا کی ہم نوہوجاتی۔اس لڑکے کا نام شاہ رخ تھا۔رفتہ  رفتہ فروا سے اس کی دوستی ہوگئی۔

میں اب تک اس کے اس معاملےسے دور رہی، کہیں ناراض ہو کر میرے گھر آنا بند نہ کردے۔ایک روز اس نے کہا ۔ فاریہ گھروالے میرے نام کی ڈاک کھول لیتے ہیں۔میں ایک خط تمہارے پتے پر منگوانا چاہتی ہوں۔جب خط آئے دھیان رکھنا ۔ میں اسے اب منع بھی نہ کرسکی ، کہیں ہماری دوستی نہ ٹوٹ جائے۔دراصل مجھے اس کی دوستی بہت عزیز تھی۔یوں اس کے خط میرے نام آنے لگے۔امی میرے خط نہ کھولتی تھیں اور مجھے دےدیا کرتی تھیں۔میں وہ خط فروا کو دے دیتی ، کبھی اس کا لفافہ نہ کھولتی، اس کی امانت سمجھ کر ۔خط اسلام آباد سے آتا تھا۔امی سمجھتی تھیں میری اسلام آباد والی سہیلی زویا مجھے خط لکھتی ہے کیونکہ پہلے وہ میرے ساتھ پڑھا کرتی تھی۔ ہمارے فون کا تار فروا کے گھر کی طرف سے آتا تھا،جدھر اس کی کھڑکی تھی ، وہاں سے میں جوڑ لگایا جاسکتا تھا۔

فروا نے ایک سیٹ منگوا کر تار جوڑ کر اپنے کمرےمیں ہمارے کنکشن سے فون لگالیا اور اسے اپنی الماری میں چھپا کر رکھ دیا۔ یہ بات اس نے مجھے بتادی اور سماجت کی کہ روز شام کو چار بجے تم اپنے فون کا پلگ نکال دیا کروآدھے گھنٹے کے لیے ، اس دوران وہ شاہ رخ سے اپنے گھر پر ہی بات کرلیا کرتی تھی،یوں اس نے اس لڑکے سے اپنے سے طور پر لمبا سلسلہ چلالیا۔ایک روز اس نے بتایا کہ شاہ رخ بہت اصرار کررہاہے میں اسے اپنی تصویر بھیجوں ، کیا کروں ۔میں نے کہا ۔ کسی اور کی بھیج دو۔ اس نے نجانے کس کی تصویر بھیج دی جو مجھے نہ دکھائی ۔ سوچ بھی نہ سکتی تھی میری وہ کزن جس سے میں سچی محبت کرتی ہوں ، میری ہی تصویر اس لڑکے کو بھیج دے گی ۔اگر جانتی وہ یہ کرے گی کبھی اسے ایسا مشورہ نہ دیتی ۔

فروا کا یہ سلسلہ چلتا رہا، اگرچہ مجھے یہ سلسلہ پسند نہ تھا۔ لیکن اسے روک بھی نہ سکتی تھی کیونکہ وہ ضد کی پکی لڑکی تھی ۔ مجھے اندازہ ہوگیا وہ میری دوستی چھوڑ سکتی ہے شاہ رخ کو نہیں چھوڑ سکتی ۔ایک روز فروا نے کہا آج میرے ساتھ سے تھوڑی دیر کے لیے کتا بوں کی دکان تک چلنا ہے ۔ میں ہمراہ چلی گئی ۔دکان پر ایک پکے رنگ کا شخص کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا۔یہی شاہ رخ ہے۔ فروا نے کہا مجھے وہ بلکل اچھا نہ لگا۔ معمولی شکل و صورت کا تھا ۔ شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ تھا ۔دکان سے نکل کر میں فروا کو کافی لعنت ملامت کی بولی باتیں تو اچھی کرتا ہے، بوریت دور ہوجا تی ہے۔میں نے کون  سی اس کے ساتھ زندگی گزرانی ہے۔بس فون کی حد تک دوستی ہے۔ ایک روز چھٹی کے دن فروا آئی امی ابو گھر پر نہ تھے ، آتے ہی اس نے شاہ رخ کو فون ملالیا اور مزاحیہ گفتگو کرنے لگی ۔ ذرا دیر بعد فرمائش کی فاریہ آج تم بھی اس کے ساتھ دو چار باتیں کرلو۔

کس خوشی میں ارے بھئی میری خوشی کی خاطر تم کومیر ی جان کی قسم ہے ، اس نے زبردستی مجھے ریسیور  تھمادیا۔ مجھے بھلا اس بھونڈے آدمی سے بات کر کے کیا خوشی ہونی تھی ، زبردستی دو چار جملے کہے ، فروا کی خاطر یہ مجھ سے بڑی غلطی ہوگئی کہ اس کا کہا مان لیا۔اس کے بعد میری شامت آگئی ۔ اب شاہ رخ صاحب بے باک ہوگئے۔جب جی چاہتا فون گھما دیتے۔اگر کوئی اور اٹھاتا تو بند کر دیتے۔ میں اٹھاتی تو قسمیں دینے لگتے کہ بات کرو۔بار بارفون اٹھانے سے کتراتی اور یہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد رنگ کر دیتے۔ میری تو جیسے شامت ہی آگئی ۔ گھر والوں سے خوفزدہ ہر وقت پریشان رہنے لگی ۔ آخرمیں نے ایک روز اس کو سخت لہجہ میں ڈانٹ دیا کہ اب مجھے فون مت کرنا ورنہ میں فروا سے بھی تمہاری بات بند کرادوں گی ۔

اس پر اس نے دھمکی دی اگر تم نے ایسا کیا یاد رکھنا تمہارا فون ہر وقت ڈیڈ ملے گا چاہے کتنی شکایات درج کرائو،نہیں کھلے گا۔جب فروا سے اس کی شکایت کی الٹا مجھ پر بگڑ نے لگی کہ تمہارا دماغ خراب ہے۔کیوں خواہ مخواہ اس سے پنگا لے رہی ہو۔ جانتی نہیں ہو وہ کون ہے۔ چاہے تو ایک منٹ میں ہمیں رسوا کرسکتا ہے۔ فروا کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میں دنگ رہ گئی۔مجھے سخت صدمہ ہوا اور میں نے اپنے گھر سے جو کنکشن اسے کمرے میں دیا ہواتھا وہ ہٹالیا۔اب وہ ہمارے کنکشن سے اپنے محبوب کو فون نہ کر سکتی تھی ۔ اس نے بات چیت ترک کردی اور دوستی کا رشتہ توڑ لیا۔انہی دنوں خالہ نے امی سے میرے رشتے کی بات کی تو امی نے ان کے بیٹے عادل کے لیے میرا رشتہ منظور کرلیا۔ عادل خوبصورت اور اعٰلی تعلیم یافتہ تھا ۔

بیرون ملک سے پڑھ کر آیا تھا اور اب ایک اعٰلی عہدے پر فائز تھا ۔ ہمارا گھرانہ اس رشتے پر خوش تھا۔ میں اور عادل بھی مسرور تھے کیونکہ ہم دونوں بھی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ میری دلی تمنا تھا کہ میں اس کی ہو جائوں اور اب قدرت نے خود ہی اس کا انتظام کردیا تھا۔فروا اگرچہ مجھ سے ناراض تھی ، لیکن منگنی والے دن وہ از خود آگئی۔امی نے اس کو کہلوایا تھا کہ منگنی پر تم نے آنا ہے کیونکہ ان کو علم نہ تھا کہ ہماری دوستی کے درمیان رخنہ پڑ چکا ہے۔فروا میری منگنی پر خوش نظر آرہی تھی ۔ اس نے ہنس کر مجھے مبارک باد دی تو میں نے بھی اسے معاف کردیا اور دل صاف کرلیا۔منگنی کے بعد عادل مجھے فون کرنے لگے، ہم فون پر باتین کرتے تھے ۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ شاہ رخ کی ملازمت ٹیلی فون کے محکمے میں ہے اور وہ ہمارے فون سنتاہے۔

وہ میری اور عادل کی تمام گفتگو سنتا تھا اور واقف ہوگیا تھا کہ ہماری شادی ہونے والی ہے۔ایک روز میں نے محسوس کہ عادل مجھ سے کھنچا کھنچا سا ہے۔ میں ڈر گئی ، لیکن پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی ۔وہ پہلے ہمارے گھر ہر ہفتے آتا تھا اب اس نے گھر آنا چھوڑدیا تھا۔ایک دو بار امی کے بلانے پر آیا بھی تو اس کے لہجے میں اس قدر سرد مہری تھی کہ لگا ہی  نہی  یہ وہی عادل ہے جو رات بھر فون کرتا تھا ، اب ایک بار فون پر بات کرنا گوارانہ تھا اسے۔بالآخریہ معمہ حل ہوگیا۔ جب فروا کو شاہ رخ نے اپنے جال میں پھنسا کر اس کی آبرو خاک کر ڈالی تو وہ ایک دن روتی ہوئی آکر میرے گلے لگ گئی ،معافی ما گئی  اور بولی ، فاریہ میں تمہاری مجرم ہوں۔ میں نے تمہاری تصویر شاہ رخ کو بھیجی تھی ایک مذاق جان کر، اس نے عادل کو دے دی اور کہا کہ تمہاری منگیتر نے مجھے تصویر بھیجی ہے اور تم سے منگنی سے پہلے وہ مجھ سے فون پر بات کیا کرتی تھی۔

اس بات پر عادل کا دل مجھ سے بھر گیا۔ عادل نے مجھ سے پہلے سرد رویہ اپنایا پھر منگنی توڑدی ۔ دکھ تو بہت ہوا لیکن میں عادل کے دل سے غلط فہمی کو دور نہ کر سکی ، کیونکہ دل کا شیشہ اگر ایک بار ٹوٹ جائے تو اس میں آیا با ل دور نہیں کیا جاسکتا۔مرد کی فطرت ایسی نہیں کہ عورت کا قصور بھلاسکے، خواہ عورت بے قصور ہی کیوں نہ ہو۔ایک بار کے شک سے اعتبار کا بھرم جاتا رہتا ہے۔مجھے عادل کے کھودینے کا بہت غم ہوا مگر یہ غم سہنا پڑا۔اس پریشانی سے میری طبیعت خراب رہنے لگی ۔امی نے چیک اپ کرایا تو پتاچلا کہ ٹی بی ہوگئی ہے۔سچ ہے ٖغم گہرا ہو تو دیمک کی طرح انسان کی صحت کو چاٹ جاتاہے۔باقاعدگی سے علاج ہونے لگا۔بالآخر میں نے اس جان لیوا بیماری  سے نجات حاصل کرلی۔ مگر روح کو جو دیمک لگی وہ نہ جا سکی ۔

عادل کی شادی ہوگئی ۔وہ اپنی بیوی کو لے کر بیرون ملک چلاگیا۔فروا کی بھی شادی ہوگئی اور وہ رخصت ہو کر اپنے گھر سدھار گئی ، لیکن میں جہاں تھی وہاں رہ گئی ۔دعا کرتی تھی کہ میرے نصیب کی خوشیاں بھی عادل کو مل جائیں ، کیونکہ قصور میرا تھا ۔ غلطی مجھ سے ہوئی ، عادل کا کوئی قصور نہیں تھا۔ میں نے ہی فروا کی دوستی میں اس پر اتنا اعتبار کر لیا کہ اس نے ناگن بن کر مجھے ڈس لیا ۔ میرے نصیب میں اندھیرے نہیں تھے لیکن اپنی بے وقوفی سے میں نے اندھیرے بھرلیے۔فروا کو اس کی منزل مل گئی۔آج سوچتی ہوں اگر بڑوں کی لڑائی تھی تو اس  کی کوئی وجہ تھی ۔ وہ ہمیں بھی ایک دوسرے سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ہمارے کزن اور میرے بہن بھائی اسی وجہ سے آپس میں نہیں ملتے تھے،مگر میں نے بڑوں کی بات نہ مانی۔تبھی امی نے مجھے روکنا ، ٹوکنا چھوڑدیا ، بلکہ میرے حال پر چھوڑدیا۔فروا سے ملنے سے بھی نہیں روکتی تھیں، چاہتی تو روک دیتیں تب شاید میں تباہ نہ ہوتی ۔ماں باپ بچوں کا مزاج بناتے ہیں اور ان کے مزاجوں کو سمجھتے بھی ہیں۔تاہم کچھ والدین کبھی کبھی اپنی ذمہ داریاں نہیں سمجھتے اور بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔تب مجھ جیسے نادان بچے بڑا نقصان اٹھاتے ہیں۔ ایسا جس کا عمر بھر ازالہ نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں