33

اگر میری دوستیں اسی ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہیں

ان دنوں میں نویں میں پڑھتی تھی۔اپنے ہونے کا احساس تو تھا لیکن اپنی خوبصورتی کی خبر نہ تھی ۔میں آپا ہی کو خوبصورت سمجھتی تھی لیکن  آپا کی شادی والے دن جب عورتیں مجھے حیرت سے دیکھنے لگیں تو میں شرما گئی۔وہ کہہ رہی تھیں یہ تو خریہ سے زیادہ خوبصورت ہے۔کچی عمر کی لڑکیاں ایسی باتوں کا گہرا اثر لیتی ہیں۔مجھے پہلی با ر علم ہوا کہ میں بھی دیکھنے کی چیز ہوں۔اب زیادہ ہی آئینہ دیکھنے لگی۔بنائو سنگھار میں دلچسپی لینے لگی۔کہیں جانا ہوتا تو سج سنور کر نکلنے کی کوشش کرتی۔ایک دن میں اپنے کمرے میں کھڑی سنگھار میز کے آئینےمیں خود کو دیکھ رہی تھی کہ ایک لڑ کے کا عکس نظر آیا۔اپنی صورت کے مقابل یہ شکل مجھے بدصورت دکھائی دی۔حالانکہ فہد بدصورت نہ تھا۔واجبی سی شکل تھی اس کی وہ رشتے میں میرے ماموں کا بیٹا اور آپا کا دیور بھی تھا۔پہلے فہد ہمارے یہاں کم آتا تھا۔

آپا خریہ کی جب سے شادی ہوئی تھی،وہ بھابھی کو لانے لے جانے کا فرئضہ ادا کرنے لگا۔یوں اس کا ہمارے گھر آنا جانا بڑھ گیا۔جب کسی نوجوان لڑکے کا آنا جانا بڑھ جائے تو لامحالہ ذہن اس کی جانب متوجہ ہوجاتا ہے اور اس کے بارے میں سوچیں  بھی آنے لگتی ہیں۔ایک دن فہد آپا کو لینے آیا تو میں گھر میں اکیلی تھی۔آپا امی کے ساتھ شاپنگ کرنے بازار گئی ہوئی تھیں۔اسے مجھ سے باتیں کرنے کا موقع مل گیا ۔ کہنے لگا،نگہت !کیا تم نے کبھی سرکس ، میلہ دیکھا ہے؟میں نے کہا۔ نہیں تو….! بتاتی چلوں ان دنوں چھوٹے شہروں میں میلہ لگا کرتاتھا جس میں تھیٹر ، موت کا کنواں اور سرکس قسم کی چیزیں ہوتی تھیں ، ایسے میلوں، ٹھیلوں پر ہم لوگوں  کو جانے کی اجازت نہ تھی مگر اسکول میں ہماری کچھ ہم جماعت لڑکیاں جب یہ میلے دیکھ کر آتیں توبڑی باتیں کیا کرتیں ۔

تب دل میں حسرت جاگتی کہ کاش ! ہم بھی یہ سب دیکھ پاتے۔ اس بار یہ میلہ لگا تو میری ہم جماعت دوستوں نے کہا، کل تم ہمارے ساتھ چلنے کا پروگرام بنالو ۔ اپنی امی سے اجازت لے لو، بڑا مزہ آئے گا۔ مجھے بھلا کہاں اجازت ملنے والی تھی۔ تم لوگ خوش قسمت ہو، تم ہی جائو ، میں نہیں جا سکتی۔انہیں میں اپنی  مجبوری بتا کر میں نے خود کو بے بس اور مظلوم سمجھا، سوچا کہ میں زندگی بھر ان نعمتوں سے محروم رہوں گی  اور یہ حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائوں گی ۔فہد نے جب  میلے کی بات کی تو میرے دل کی حسرت شعلے کی لپک بن کر آنکھوں سے جھلکنے لگی۔اس نے میرے اشتیاق کو بھانپ لیا ، کہنے لگا۔ سمجھ گیا کہ تمہیں اجازت نہیں ملتی۔ میں ایک ترکیب بتاتاہوں، اس پر عمل کرو،ورنہ عمر بھر افسوس کرتی رہوگی کہ زندگی میں میلہ نہیں دیکھا۔

میں حیرت سےاس کا منہ تک رہی تھی۔ ساتھ ہی مجھے عظمی اور فرحانہ کی آفر یاد آرہی تھی کہ کل ہمارے ساتھ چلو، سچی بڑا مزہ آئے گا۔کیا خاک مزا آئے گا، میں نے کہا تھا۔ جب اماں اجازت مانگنے پر سو باتیں سنائیں گی اور بہن کہے گی دوبارہ بھول کر بھی میلے میں جانے کی بات زبان پر مت لانا، اگر ابا نے سن لیا تو جان سے ماردیں گے۔بھلا میلے کی دید کی خاطر کون جان کی بازی لگاتاہے؟جا ن تو سب کو پیاری ہوتی ہے۔کیا سوچ رہی ہو؟مجھے خیالوں میں ڈوبا دیکھ کر فہد نے پوچھا۔مجھ سے ایسی بات نہ پوچھو جو ہو نہیں سکتی۔ کیوں نہیں ہوسکتی؟ ارے بھئی کہا نا کہ اجازت نہیں ملے گی۔تم عقل سے پیدل ہومیں ترکیب بتاتا ہوں۔اپنی دو سہیلیوں کو ساتھ لو اور گھر والوں سے کہوکہ تمہارے اسکول میں شام کو  فنکشن ہے،گھر آنے میں ذرا دیر ہوجائے گی۔ کیسا فنکشن ہے، کیا کہوں؟

میں نے اناڑیوں کی طرح کہا۔ارے بھئی کہہ دینا کہ مینا بازار ہے۔سہیلیاں آکر تمہیں لے جائیں گی کیا تمہاری اماں منع کریں گی؟اسکول کے فنکشن میں جانے کے لیے وہ منع نہیں کریں گی لیکن مجھے جھوٹ بولنے سے ڈر لگتا ہے۔بڑی بزدل ہو۔ایسی بزدل لڑکیاں زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔فہد نے کچھ اس اپنائیت سے باتیں کیں کہ میلے سے زیادہ مجھے اس کے ساتھ جانے میں دلچسپی پیدا ہوگئی ۔ اس نے کہا تھا کہ سہیلیوں کو بتا دینا کہ میں تمہارا ماموں زاد ہوں۔میں میلے میں تھیٹر کے پاس تمہارا انتظار کروں گا۔تم سہیلیوں سے کہنا کہ میر اکزن تھیٹر کا انچارج ہے۔تم سب کے ٹکٹ لے کر رکھ لوگا۔امی آئیں تو میں نے ہمت کرلی ۔پہلی بار اس قسم کا جھوٹ بولنے جارہی تھی، وہ بھی فہد کے اکسانے پر ! دل کو تو دھڑکنا تھا۔

آپا چلی گئیں تب امی سے کہا کہ کل ہمارے سکول میں مینا باازار ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں شرکت کر لوں؟صبح بارہ بجے تک پڑھائی  ہوگی اور جلدی چھٹی ہو جائے گی ۔ مینا بازار تین بجے سے چھ بجے لگے لگا۔ماں نے کہا ، اسکول میں فنکشن ہے تو رک جانا مگر زیادہ دیر مت لگانا۔ورنہ تمہارے والد غصہ کریں گے۔میں نے انہیں یقین دلایا کہ دیر نہ کروں گی۔تبھی چھوٹے بھائی کو عظمی کے گھر بھیجا کہ اسے بلا لائو۔ ذرا دیر میں وہ آگئی ۔ میں نے پوچھا کیا کل شام میلے میں تم جارہی ہو؟کہنے لگی ہاں ! ہم تو جارہے ہیں ۔ کتنی دیر لگے لگی َ؟ گھنٹہ دو گھنٹہ گھوم کر واپس آجائیں گے۔اچھا ٹھیک کل میں بھی اسکول سے تمہارے ساتھ چلوں گی۔امی کو یہی بتانا کہ کل ہمارے اسکول میں مینا بازار ہے۔

ٹھیک ہے۔ اس نے خوش ہو کر کہا۔ اللہ کا شکر ہے تم نے ہمت تو کی وگرنہ ہم تمہیں کنویں کا مینڈک ہی سمجھتے تھے۔اگلے دن میں عظمی اور فرحانہ کے ساتھ میلے میں چلی گئی ۔ میری نگاہیں فہد کو تلاش کرنے لگیں ۔میں نے عظمی سے پوچھا کہ تھیڑ کس طرف ہے؟ وہ معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولی  کیوں کوئی وہاں تمہارا انتظار کر رہا ہے؟یہ سن کر میرا چہرہ سرخ ہو گیا۔نہیں ، میں ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ میری نظر سامنے والے ٹینٹ پر پڑی جہاں تھیٹر لکھا تھا  اور ٹینٹ کے دروازے کے پاس فہد کھڑا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔تبھی اس کی نظر ہم پر پڑی۔میں سوچ رہی تھی کیسے اپنی دونوں سہیلیوں سے کہوں کہ تم لوگ ادھر چلو جہاں میرا کزن ہم سب کے لئے تھیڑ کے ٹکٹ لیے ہمارا منتظر ہے ۔ یہ میرا پہلا موقع تھا، تبھی شرمارہی تھی۔

ابھی کوئی قصہ گھڑنے کا سوچ رہی تھی کہ دو لڑکوں کو اپنی طرف آتے پایا۔انہین دیکھ کر میری دونوں ہم جولیوں کے چہرے کھل اٹھے ۔ وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھیں ۔ یہ لڑکے ان کے محلے کے تھے اور انہوں نے بھی ان کےلیے تھیٹر کے ٹکٹ لے رکھے تھے۔گویا ان کی پہلے سے ان لڑ کوں سے ساز باز ہوچکی تھی۔مجھ پر یہ انکشاف آج ہو کہ میری یہ سہیلیاں کیسی لڑکیاں ہیں ۔ سوچ کر دل کو صدمہ ہو اور جب یہ خیال آیا کہ اگر میں انہیں بتا دو گی کہ فہد میرا کزن تھیٹر کا انچارج ہے تو وہ قطعی یقین نہیں کریں گی ۔وہ تو اس میدان کی کھلاڑی نکلی تھی ۔ظاہر ہے کہ اس بات پر وہ مجھے بھی اپنی جیسی ہی سمجھیں گی۔اب کیا کروں۔تبھی میں نے فہد کو اشارہ کیا ، وہیں ٹھہرو ۔ وہ بھی لڑکوں کو دیکھ کر تیور پر بل ڈال چکا تھا ۔ جو میری سہیلیوں سے گھل مل کر باتیں کر رہےتھے۔

عظمی نے اپنی ساتھی سے کہا۔ یہ ہماری سہیلی پہلی بار میلہ دیکھنے آئی ہے۔اس کے لیے بھی ٹکٹ لے  آئو ۔ لڑکے نے جواب دیا ہمارا انتظا ر کرو، ابھی شو میں کچھ منٹ باقی ہیں،ہم ابھی ٹکٹ لے آتے ہیں۔فہد یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔ لڑکوں کے جاتے ہی میں بگڑ گئی۔ عظمی اور فرحانہ کو بے نقط کہتی، اکیلی ہی میلے سے باہر نکل پڑی اور انہیں کہا کہ اب کبھی تمہارے ساتھ نہیں جائوں گی ۔اگر مجھے علم ہوتا کہ تم یہاں آکر لڑکوں سے ملتی ہو، ان کے ساتھ مل کر تھیٹر دیکھتی ہو تو تمہارے بہکاوے میں آکر یہاں کبھی نہ آتی ۔کیا یہی ہے تمہارامیلہ  …؟وہ روکتی رہ گئیں اور میں دوڑتی ہوئی میلے سے باہر نکل آئی ۔باہر آکر ایک درخت کے نیچے رک گئی ۔ میں فہد کا انتظار کر رہی تھی۔وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہو آگیا اور بولا ۔ تم نے ایسی لڑکیوں کو دوست بنا رکھا ہے،میں تو تمہیں بہت سیدھی سادی اور معصوم لڑکی سمجھ رہا تھا۔

میں نے کہا ۔ وہ میری ہم جماعت ہیں لیکن میں کبھی ان کے ساتھ کہیں نہیں گئی ۔ آج تمہارے  کہنے پر انہیں مینا بازار کا بتا کر میلے پر چلنے کو کہا تھا۔یہ ترکیب تم نے ہی بتائی تھی اور اب تم مجھے برا کہہ رہے ہو۔جو انہوں نے اور ان کے دوست لڑکوں نے کیا،وہی تم نے بھی کیاہے۔مجھے خبر ہوتی کہ ایسا سین ہوگا تو کبھی تمہاری باتوں میں نہ آتی ۔یہ کہہ کر میں رونے لگی ، اس نے کہا اب رونا دھونا بند کرو ورنہ پا س سے گزر تے لوگ جانے کیا سوچیں گے۔چلو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں۔اس نے مجھے اپنی موٹر بائیک پر بٹھا لیا اور گھر کے نزدیک اتار کر بو لا۔تم گھر جائو،میں تھوڑ ی دیر بعد آجائوں گا۔اللہ کا شکر کہ میں اسکول ٹائم سے صرف دو گھنٹے دیر سے پہنچی تھی۔امی بولیں کیسا رہا مینا بازار…؟ اچھا تھا لیکن میں جلدی آگئی ۔

اچھا کیا بیٹی ..! تمہارے والد آجاتے تو سو طرح کے سوالات کرتے کہ ابھی تک نگہت اسکول سے کیوں نہیں آئی ۔کیا خبر تمہیں لینے خود اسکول چلے جاتے،جی امی ! آج تو مینا بازار گئی ہوں، آئندہ کبھی نہیں جائوں گی ۔یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں گھس گئی ۔اس روز فہد ہمارے گھر نہ آیا لیکن اس نے آپا سے  میری شکایت کر دی کہ اپنی بہن کاخیال رکھنا ۔اس کی سہیلیاں اچھی لڑکیا ں نہیں ہیں ۔ آپا نہ سمجھیں مگر کہہ دیا کہ اچھا…امی سے کہوں گی اس کی سہیلیوں پر نظر رکھیں ۔ میری قسمت میں فہد ہی سے شادی لکھی تھی سو ہوگئی لیکن وہ آج بھی عظمی اور فرحا نہ سے دوستی کے طعنے دیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تم نے کیوںایسی سہیلیاں بنائی تھیں ۔جبکہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہےاور اس طعنے کا میں انہیں آج تک جواب نہیں دے سکی ۔لیکن میں آج بھی سوچتی ہوں کہ اگر میری دوستیں اسی تھی تو اس میں میرا کیا قصور تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں