46

پلیز مجھے عزت سے جینے دو (پارٹ2 )

میں نے جب دوستوں سے ایسی باتیں سنیں تو تمہارا اتا پتا دریافت کیا اور یہاں تک آگیا ۔جب پہلی نظر تم پر پڑی تو تمہاری اچھی صور ت سے متاثر ہوا۔مگر تم سے بات کرتے ہی معلوم ہوگیا کہ تمہیں طوائف ضرور بنا دیا گیا ہےمگر تمہارے اس سجے ہوئے جسم کے اند رایک شریف عورت ابھی تک زندہ ہے۔

اچھا بتائو تم یہاں تک کیسے پہنچیں اور کون لایا تھا تم کو یہاں؟تبھی میں نے اپنی ساری کہانی فہیم کو سنا دی ۔ میری کہانی سن کر اس کے دل میں رحم جا گ گیا۔اس نے کہا فریحہ اگر واقعی تم سچی ہو اور اس گندگی سے چھٹکارا پانا چاہتی ہوتو یہاں سے اسی وقت نکل چلو۔میں تم سے شادی کروں گا ۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہاتھا۔ مگر میں راضی ہوگئی ، اور پھر رات کے بارہ بجے وہ مجھے وہاں سے کسی طرح نکال کر اپنے فلیٹ میں لے آیا۔صبح ہم نے نکاح کیا اور میاں بیوی جیسے مقدس بندھن میں بندھ گئے۔چند دن بعد فہیم نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا اور ان کو خوش خبری دی کہ اس نے شادی کر لی ہے۔وہ اس فعل پر ان سے اس لئے معافی کا طلب گار تھا کہ اپنوں سے اجازت لی تھی اور نہ اپنی شادی میں ان کو شامل کیا تھا۔بہرحال اپنے تو اپنےہوتے ہیں۔انہوں نے فہیم کو نہ صرف معاف کر دیا بلکہ کہا کہ اپنی دلہن کو ساتھ لے کر گھر آجائو۔ وہ جیسی بھی ہے ہمیں قبول ہے ۔ ہماری بہوبن  گئی ہے تو قبول کرنا ہی ہے۔

اس امید افزا جواب ملتے ہی فہیم خوش ہوگیا اور مجھے لے کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا ۔ جیسا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بہو بن گئی ہے تو جیسی بھی ہے ہم قبول کر لیں گے۔  فہیم کے ماں باپ بہن بھائیوں نے مجھے قبول کرلیا اور وہی عزت دی جیسی کہ ایک بہو کو ملنی چاہئے تھی۔اب میں فہیم کے گھر والوں کے ساتھ ان کے گھر رہنے لگی ۔ فہیم اور میں بہت خوش تھے کہ ہم اپنوں میں آگئے ہیں اور اکیلے جیون کی سختیاں سہنے سے بچ گئے ہیں ۔ شادی کو چاربرس بیت گئے لیکن میں اولاد کی نعمت سے اب تک محروم تھی۔ساس لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں ، اس ن ے بتایا کہ ان کے اولاد نہیں ہو سکتی ۔  اولاد نہ ہونے پر بھی فہیم مجھے بہت چاہتے تھے ۔ میں ان سے کہتی تھی کہ میری طرف نہ دیکھواور دوسری شادی کر لو  اولاد تو اللہ کی نعمت ہے ، آپ کیوں میری وجہ سے اس نعت کو ترسیں ۔

تب وہ کہتے تھے کہ میں تم پر کبھی سوتن نہ لائوں گا اور کبھی دوسری شادی نہ کروں گا ۔ تمہارا کیا قصور ہے، میں کیوں تم پر ظلم توڑوں پہلے کیا تم نے کم دکھ اٹھایا ہے ۔ آپ نے  ایک بار قربانی دی ہے ، اس احسان کو نہیں بول سکتی ۔ اب دوسری قربانی نہ دیں، تو فہیم کہتے تھے ۔ جب قربانی دی ہے تو پوری طرح دوں گا ورنہ قربانی ضائع ہوجائے گی۔وہ مجھ سے جو اتنا پیار کرتے تھے ، میں بھی دل و جان سے انہیں چاہنے لگی تھی۔ وہ بھی اچھے انسان تھے ، میں بھی اچھے دل کی تھی۔ اللہ تعالٰی نے ہماری جوڑی خوب ملائی تھی اور ہم بہت خوش و خرم زندگی گزاررہے تھے کہ ایک با رپھر میری زندگی میں قیامت کی گھڑی آگئی۔ ایک با ر جبکہ فہیم  گھر پر نہ تھے ،ان کے ایک دوست اسلم اپنی بیوی کے ساتھ ہمارے گھر آئے ۔ میں انجانے میں ان کے سامنے چلی گئی ۔اسلم نے مجھے دیکھ کر پہچان لیا۔ وہ کئی بار “اس بازار” میں آچکا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو بتادیا کہ فہیم کی بیوی کا تعلق بازار حسن سے ہے۔

خداجانے  فہیم کی عقل کو کیا ہوا تھا جو ایک طوائف کو بیوی بنا کر گھر لا بٹھایا ہے ۔ اس اپنی والدہ اور بہنوں کا بھی پاس نہ رہا کہ یہ عورت کیسے ان کے درمیان رہے گی ۔ اسلم کی بیوی نے میری ساس کی بھانجی عظمٰی کو سارا قصہ بتایا کیونکہ  عظمٰی سے اس کی دوستی تھی۔ عظمٰی بھی پیٹ کی ہلکی نکلی اور یوں بات ہوتے ہوتے سارے خاندان میں پھیل گئی ۔ میری ساس اور نندوں کو جب یہ قصہ پتا چلا انہوں نے فہیم سے پوچھا،تب حقیقت انہوں نے بتا کر کہا کہ حالات نے فریحہ پر ستم کیا ہے ، اس کا تو کوئی  قصو ر نہیں ہے ۔میں اسے گنا ہ گار نہیں سمجھتا ، نیکی سمجھ کر اس کے ساتھ نکاح کیا ہے۔کوئی کچھ بھی کہے،مجھے ہر گز اس کی پرواہ نہیں ہے۔ہم  اپنے گھر میں خوش ہیں ، کوئی ہم سے ناتا رکھے یا نہ رکھے ۔

میری ساس نے اعتراض کیا کہ اگر طوائف کو بیوی بنا لیا تھا تو پہلے بتانا تھا۔ہم تم کو یہاں اسے لا بسانے کا نہ کہتے ۔اب تم لوگ ہم سے الگ ہوجائو اور علیحدہ رہو کیونکہ میری بچیوں کی ابھی شادی نہیں ہوئی۔ان کے رشتے ہونے ہیں  اور جس گھر کی بہو طوائف زادی ہو،اس گھر کی بچیوں کے رشتے کون لے گا۔میری بیٹیاں تو بن بیاہی رہ جائیں گی۔کون سا شریف گھرانہ میری لڑکیوں کو رشتہ دے گا۔ جب میں نے  ساس کے منہ سے  یہ الفاظ سنے تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ۔ وہ کہہ رہی تھیں، میں تو ساس ہوں، اگر فریحہ کے والدین بھی اس کے حالات جان لیں تو اسے بیٹی کہہ کر بلانا پسند نہ کریں گے۔یہ اور ایسی باتیں میر ے لئے سوہان روح ہوگئیں ، تبھی مجبور ہو کر فہیم نے کرایہ کا مکان تلاش کیا اور ہم علیحدہ ہوگئے۔

میں اب اپنے شوہر کے والدین کے گھر نہیں جاتی ، ان کے بہن بھائی اور رشتہ دار بھی مجھ سے نہیں ملتے۔اتفاقا مل جائیں تو کترا کر نکل جاتے ہیں ۔تب بہت دکھ ہوتا ہے ، میں سوچتی ہوں اگر طوائف ہونا  قابل نفرت ہے تو پھر اس معاشرے کے کچھ افراد بھی قابل تعزیر ہیں،صرف طوائف سے ہی نفرت کیوں ۔ ان لوگوں سے بھی نفرت کی جانی چاہئے جو عورت کو طوائف بناتے ہیں ، اسے خریدتے اور بیچتے ہیں۔وہ لوگ تو شرفاء کی ٍسوسائٹی میں ایسے گھل مل کر رہتے ہیں کہ پہچانے نہیں جاتے مگر عورت ہی قابل نفرت ٹھہرتی ہے، وہی گناگار سمجھی جاتی ہے ، وہی سزاوار ہوتی ہے ۔آخر یہ بے انصافی کیوں؟افسوس تو یہ ہے کہ جس شخص نے مجھے دلدل سے نکالا ، مجھے شریفانہ زندگی دی ، نیکی اور ثواب کا کام کیا ، اسے بھی لوگ میرے ساتھ سزا دینے لگے۔فہیم  کو موردالزام ٹھہراتے ہیں کہ اس نے فریحہ سے کیوں شادی کی ۔کیا دنیا میں شریف لڑکیوں کی کمی تھی جو یہ گندگی میں جا گرا ، اور میں کہتی ہو کہ شریف گھرانے کی اچھی لڑکیوں کو تو سبھی اپناتے ہیں۔آفرین تو اس شخص پر ہے جو گنا ہ کی دلدل میں پھنسی کسی ایسی عورت کو اس دلدل سے نکالتا ہے جو دل سے شریفانہ زندگی کی آرزو مند ہوتی ہے۔ا

اگر واقعی کوئی عورت ایسی ہو اور وہ شریفانہ زندگی کی آرزومند ہو تو اس کو شریفانہ زندگی دینا اور گناہ آلود زندگی سے نکال لینا ایک بڑی نیکی ہے۔معاشرہ چاہے فہیم سے جتنی بھی نفرت کرے مگر میں تو یہی کہوں گی کہ فہیم نے مجھے اپنا کر جو نیکی کی ہے ، اس کا اسے بڑا اجر ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں