101

پلیز مجھےعزت سے جینے دو (پارٹ 1 )

میں قابل نفرت نہ تھی لیکن لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگےاوراب یقین ہے کہ اگر ماں باپ زندہ ہوتے تواپنی بیٹی کہنا پسند نہ کرتے۔ اس لئے تقدیر نے وطن چھینا،بھر ایک غیرت مند مرد نے جسے عرف عام میں “دلال” کہتے ہے، مجھے معصوم لڑکی سے طوائف بننے ہر مجبور کر دیا۔

میری کہانی سیدھی سادی سی ہے، مگر زندگی اور وقت کے دائو پیچ اتنے سیدھے نہیں ہیں۔ بس ذرا سا پیر پھسلنے کی دیر ہے۔ نادان عورت تو سیدھی حقارتوں کی دلدل میں جاگرتی ہے۔حالات کے ہاتھوں یہ تباہ حال عورت پھر چاہے جتنا پکارپکار کر کہے کہ مجھے بچالو،اس دلدل سے نکال لو ۔لوگ اسے طوائف ہی جانتے تھے اور اسے بچانے کے لئے ہاتھ بڑھانے سے ڈرتے ہیں۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ گناہ سے نفرت کرنے کے باوجود “اس بازار” کی زینت بنوگی کہ جہاں عصمت کا کاروبار کیا جاتا ہے۔

میں بنگلہ دیش، کھلنا کے قریب  ایک گاؤں کی رہنے والی تھی ۔جب ہوش سنبھالا والد کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا۔ہم تین بہنیں تھیں اور میں ان میں بڑی تھی۔ غربت کی وجہ سے جب رشتہ داروں نے آنکھیں پھیر لیں تو دوسری شادی کرنے کی بجائے ماں نے دوسروں کے گھروں میں برتن مانجھنے کو ترجیح دی۔ان حالات میں بڑی مشکل سے میٹرک مکمل کیا۔ماں تو انتھک محنت سے جلد ہی بوڑھی نظر آنے لگی تھی۔ میں نے میٹرک اسی لئے کیا تھا کہ کہیں نوکری کر سکوں، اپنی ماں اور چھوٹی بہنوں کا سہارا بن جائوں۔

اب میں نوکری کی تلاش میں دردر بھٹکنے لگی ، کہیں لوگ عزت کے بدلے نوکری کی پیش کش کرتے تو کہیں رشوت اور سفارش طلب کرتے۔اب پتہ چلا کہ ملازمت تلاش کرنا کتنا مشکل کام ہے۔یہ دکھ وہی لڑکیاں جانتی ہیں جو ان حالات سے گزرتی ہیں ۔جس محلے میں ہم رہتے تھے  وہاں ایک گھرانہ آباد تھا جو میاں بیوی اور دو بچوں پر مشتمل تھا ۔ گھرانے کے سربراہ کا نام صابر تھا۔ ان دنوں جب میں نوکری کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی اور ہمارے گھریلو حالات بہت خراب تھے،ایک روز صابر ہمارے گھر آیا۔پڑوسی ہونے کے ناتے ماں نے اسے اپنا دکھ سنایا اور التجا کی کہ میری بچی کو نوکری دلوادو۔ صابر نے ماں کو تسلی دی اور کہا کہ اگر تم مجھ پر اعتبار کرو تو میں تمہاری لڑکی کو دبئی میں ملازمت دلواسکتا ہوں،بہت اچھی تنخواہ ملے گی ۔

میں خود وہاں جارہا ہوں اور بیوی بچے بھی ساتھ جارہے ہیں۔تمہاری بیٹی فریحہ وہاں میر ے گھر پر رہے گی۔ میں ہر ہفتےتمہاری اس سے فون پربات کروادیا کروں گا۔ غربت سے مجبور ماں اس کی باتوں میں آگئی اور ہامی بھر لی ۔ صابر کچھ دن کے لئے بنگلہ دیش سے چلا گیا۔ جب واپس آیا تو ماں کوخوش خبری سنائی کہ اپنی فیملی کے ساتھ وہ میرا بھی ویزا لے آیا ہے۔اب پاسپورٹ اور ٹکٹ کا بندوبست کرنا ہے۔ماں نے اپنے کانوں سے بالیاں اتار کر اسے دے دیں اور تمام مراحل مکمل ہوگئے ۔بالآخر رو انگی کا وقت آگیا۔میں صابر اور اس کی فیملی کے ساتھ ہوئی جہاز پر بیٹھ گئی اور ہم دبئی آگئے۔یہاں چند دن اس نے مجھے اپنی فیملی کے ساتھ رکھا اور پھر وہ مجھے ایسی جگہ لے آیا جہاں مجھ سی بدنصیب لڑکیاں تھیں ۔ان سے ملی تو پتہ چلا کہ صابر نے جھوٹ بولا تھا۔

وہ ہمیں لے کر پاکستان آگیا اور یہاں ایک شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہ بازار حسن کا دلال تھا جو بظاہر جعلی نکاح نامے پر دستخط کرکے مجھے  بیوی بناکر لایا تھا لیکن اس کا کام عورتوں کو خرید کر بازار حسن کی زینت بنانا تھا۔میں جس عزت کی حفاظت میں اتنی دور آئی تھی، یہاں اس کا نیلام ہونے لگا ۔ میرا کوئی پرسان حال نہ تھا۔موت کی دعا کرتی تھی لیکن موت بھی نہیں آتی تھی۔میں ہر روز جیتی ہر روز مرتی تھی۔گڑگڑا کر دعا کرتی تھی کہ اے خدا کسی شریف انسان کو میر ے پاس بھیج دے جو مجھے اپنی بیوی بنا لے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس دلدل سے نکال لے۔بالآ خر خدا کو مجھ پر ترس آگیا اور ایک روز ایک شخص آیا جو شکل سے شریف اور اطوار سے بااخلاق لگتا تھا

۔اس نے آتے ہی مجھ سے سوال کیا۔تم مجبور ہو یا خوشی سے اس کانٹوں بھی سیج پر بیٹھی ہو۔میں نے اس کی طرف چونک کر ایسے دیکھا جیسے کسی نے بجلی کا جھٹکا دیا ہو ۔ سال بھر سے جیسے کہ میں بس اسی سوال کے انتظار میں بیٹھی تھی ، تبھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ گئیں ۔جیسے ساون بھادوں کا مہینہ اپنی پوری آب و تاب سے برستا ہے۔

جب رو کر دل کا غبار نکال چکی تو اس نے کہا ۔سچ کہا تھا میرے دوست نے ، میں صیح لڑکی کے پاس پہنچا ہوں۔کیا کہا تھا آپ کے دوست نے اور کون ہے وہ آپ کا دوست ؟ میں نے رندھی ہوئی آواز میں دریافت کیا تو فہیم نے بتایا۔ میں اس بازار کا شوقین نہیں اور نہ ہی  میرا و تیرہ ہے کہ یہاں آکر خود کو رسوا کروں۔ تاہم میرے چند دوست ایسے ہیں جو اس جگہ سکون تلاش کرنے آتے ہیں۔ایک روز وہ میرے گھر پر بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور میں حیرت سے ان کی باتیں سن رہا تھا ۔ اسلم نے کہا کہ یار طبیعت بوجھل ہے ۔ ادھر جانا چاہئے دوسرا بولا اس بار مشاہد سے کہنا ،

پھر اسی لڑکی سے نہ ملا دے جس کا نام ہم نے “روتی صورت “رکھا ہے ، ہر وقت روتی رہتی ہے۔ ارے ہاں یار وہ فریحہ وہ تو نفسیاتی مریض ہے۔ خوبصورت تو بے حد ہے لیکن ابھی تک اس نے  ماحول کو قبول نہیں کیا ہے۔کوئی دل بہلانے جاتا ہے اور یہ رورو کر غموں کو دگنا کر دیتی ہے۔ دل خراب ہو جاتا ہے ۔آفتاب نے بھی تائید کی ۔ سروش نے کہا ، یار ترس آتا ہے اس پر ، کم بخت ایک دلال اسے دھوکے سے یہاں لایاہے ۔نوکری کا جھانسا دیا تھا ۔ وہ بے چاری شریف لڑکی ہے ۔ جب ہی روتی ہے۔

(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں