63

عامراورثریا کی سبق آموز کہانی

انسان فطری لحاظ سے بہت عجیب ہے،ایک نعمت جب اٗسے میسر ہوتی ہے تو اس کی قدر بلکل نہیں کرتا،مگر جب وہ نعمت اس سے دو ہوجاتی ہے تب اسے اس کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مگر تب افسوس کرنے کا ست کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جب ہم صیح وقت پر ایک چیز کی قدر نہیں کریں تو بعد میں پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

میری کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ میرا نام ثریاہے، میرے والد ریلوے میں ملازم تھے، ہم 6 بہنیں تھیں اور ہمارا کوئی بھائی نہیں تھا۔ مگر ابا نے ہماری پرورش شہزادیوں کی طرح کی تھی،انتی آمدن نا ہونے کے باوجود وہ ہماری ہر چھوٹی بڑی خواہش کو پورا کرتے تھے- ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس ہی نہیں ہونے دی۔ بہنوں میں میرا نمبر سب سے آخری ہے اس لیے میں مطمین تھی کہ میں ابا کے زیر سایہ باقی بہنوں کی نسبت زیادہ عرصہ تک رہوں گی ، ابا مجھ سے بہت پیار کرتے تھے ۔ میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے ان کی لاڈلی تھی، میری سب بہنوں کی شادیاں بڑے دھوم دھام اور اچھے گھروں میں ہوئی تھیں-

آخر وہ وقت بھی آہی گیا جب ہر بیٹی اپنے باپ سے جدا ہو جاتی ہے، میر لیے وہ دن بہت مشکل تھا۔ کیونکہ میرے بعد ابا کا خیال رکھنے والا اور کوئی نہیں تھا،میری ماں کی وفات میرے بچپن میں ہی ہوگئی تھی۔ میری شادی عامر نامی لڑکے سے طے پائی جو بینک میں کام کرتا تھا۔ وہ بہت سلجھاہوا  اور اخلاقی لحاظ سے ایک اچھا انسان تھا۔  شادی کے بعد عامر میرا بہت خیال رکھتا مگر پھر بھی مجھے ایک چیز محسوس ظرور ہوتی تھی۔ عامر کا بھائی کاروباری لوگ تھے، انھوں نے اپنے کاروبار کے ذریعے کافی ترقی کرلی تھی۔ اچھا گھر اور گاڑیوں کے مالک تھے میں نے عامر سے کہا کہ آپ بھی اپنے بھائیوں کی طرح کاروبار کر لیتے تو آج اپنے بھائیوں کے برابرہوتے۔

عامر نے کہا میرے بھائیوں نے شروع سے کاروبار میں دلچسپی رکھی جبکہ مجھے پڑھنے کاشوق تھا ، میرے بھائیوں کی بہت خواہش تھی کہ میں ایک بڑاآفسر بنو، میں ایک افسر تو نہ بن سکا لیکن میں بینک میں ایک اچھی پوسٹ پر ہوں اور ایک سال بعد میری پروموشن بھی ہو جائے گی۔ تم فکر مت کرو، میں اپنی زندگی میں تجھے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا۔ عامر کی باتوں سے میرے دل کو اطمینان حاصل ہوا اور مستقبل میں اچھا سا گھر اور گاڑی کے خواب دیکھ ہی رہی تھی۔ کہ اچانک ایک ایسا واقع ہوا جس نے عامر اور میری زندگی بدل دی، عامر کے بینک میں کرپشن کے الزام کے نتیجے میں 8 ملازموں کو نوکری سے نکال دیا گیا جس میں عامر بھی شامل تھا۔

عامر نے ان کے سامنے قسم اٹھائی کہ میں کسی کرپشن میں ملوث نہیں مگر انھوں نے عامر کی ایک بھی نہ سنی۔ عامر دوبارہ صفر پر آچکاتھا۔ اسی دوران ہمارے بچے کی پیدائش ہوئی۔ بچے کی پیدائش ان حالات میں ہوئی کہ عامر کے پاس اتنی زیادہ رقم نہیں تھی، عامر نئی جاب کی تلاش میں لگ گیا مگر  عامر کو کوئی بھی جاب نہیں مل رہی تھی۔ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے عامر نے مزدوری شروع کر دی، میں ہر روز عامر سے یہی کہتی کب ملے گی آپ کو نوکری، دیہاڑی سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو پائیں گے۔ کل کو ہمارے بچے نے سکول بھی جانا ہے، ہم تو اس کے سکول کی فیس بھی نہیں دے پائیں گے، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ تجھے اپنے کاروبار میں شامل کر لیں۔

عامر میرے کہنے پر بھائیوں کے پاس گیا تو انھوں نے کہا، کہ ہم نے تجھے پڑھانے میں اپنا پیسہ برباد کیا،یہ کاروبار تمھارے بس کی بات نہیں ہے۔ عامر خاموشی کے ساتھ گھر واپس آگیا پتہ نہیں کیوں مجھے عامرسے نفرت ہونا شروع ہوگئی تھی میں اسے گھر میں برداشت نہیں کرتی تھی۔ بینک میں اے سی کمروں میں بیٹھنے والا عامر جب مزدوری کرنا شروع ہوگیا تو اس کا حلیہ ہی بدل چکا تھا۔ اب وہ اپنی صحت کا خیال بھی نہیں کرتا تھا، اور نہ ہی لباس کا، ایک دن ہمارے بچے کو سخت بخار ہوگیا۔عامر اس وقت کمانے گیا ہواتھا،میرے پاس اس وقت صرف 100روپے موجود تھے۔

 میں اپنے بچے کو ہسپتال لے گئی تو رکشے والے نے 100روپیہ کریا لے لیا، ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں کاغذ پر لکھ کر دےدیں مگر میں اس وقت خالی ہاتھ تھی۔ میں بغیر کوئی دوائی لیے گھر واپس آگئی، عامر گھر آیا تو میں اس سے لڑنا شروع ہوگئی، میں نے اسے بہت باتیں سنائی جو پہلے کبھی نہیں سنائی تھی۔  وہ بھاگتا ہو میڈیکل سٹورگیا اور بچے کے لیے دوائیاں لے آیا، صبح ہوئی تو میں نے سامان پیک کیا اور اپنی بڑی بہن کے گھر چلی گئی، میں نے عامرسے کہا کہ اب اس وقت واپس آؤں گی جب تجھے اچھی سی نوکری ملے گی۔

جب میں اپنی بہن کے گھر آئی تو ان کا گھر اور میں موجود آسائشیں دیکھ کر میرے پیروں تلے زمیں ہی نکل گئی، تین کمروں میں اے سی لگے ہوئے تھے حتٰی کہ کچن میں بھی اے سی تھا، ان کی ایک بڑی سی گاڑی تھی۔ میری سب بہنوں کی شادی کھاتے پیتے گھروں میں ہوئی تھی۔ مجھےاپنی بہنوں سے بھی جلن ہونا شروع ہوگئی تھی۔   جب ہم ایک ہی والدیں کی اولاد تھیں تو وہ اتنی خوشحال اور میں تنگ حال کیوں؟ میری اسی سوچ نےمجھے پاگل کر دیا تھا۔ عامر اپنے بیٹے سے ملنے باربار میری بہن کے گھر آجاتاتھا ۔  میرے بہنوئی کو یہ بات پسند نہ تھی اس لیے اس نے گیٹ کیپر سے کہا کہ عامر کو گھر میں داخل نہیں ہونےدینا۔

میرا بہنوئی اپنی جگہ سچاتھا، عامر کا عجیب سا حلیہ تھا، مگر مجھے پھر بھی بہنوئی کی بار پر غصہ آیا اور میں اپنے گھر واپس آگئی۔  میری ایک قریبی دوست کو جب میرے ان حالات کا پتا چلا تو اسے بہت افسوس ہوا، اسنے مجھ سے کہا کہ تم عامر سے طلاق لےلو،تین سال سے تم ایک اذیت سے گزر رہی ہو، تم آج بھی بہت خوبصورت ہو، اور کسی بھی اچھے گھرانے میں تمھارا رشتہ ہوجائے گا۔ میری دوست نے مجھے نیا راستہ دکھادیا جو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا، ایک دن جب عامرآدھی رات کو گھر واپس آیا تو چارپائی پر آکر بیٹھ گیااور مجھے آواز دی کہ ثریا میرے لیے کھانا لے آؤ میں اس کی آواز سن رہی تھی لیکن پھر بھی نہ اُٹھی۔

اس نے دوبارہ مجھے آواز دی، میں بت بن کر لیٹی رہی، عامر چارپائی سے اٹھا اور خود ہی کچن میں چلاگیا۔ اندر سے برتنوں کی آواز آرہی تھی، وہ کھانا تلاش کر رہا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ کچن میں کچھ سوکھی روٹیوں کے علاہ کچھ موجود نہیں تھا۔ عامر نے ایک سوکھی روٹی لی اور نمک کے ساتھ کھانا شروع کردی۔اس نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور بھر سوگیا۔

صبح ہوئی تو میں نے عامر سے کہا کہ میں آپ کت ساتھ اب نہیں وہ سکتی، مجھے آپ سے طلاق چاہیے۔ یہ بات سن کر عامر بلکل چپ ہوگیا۔ میں بولتی رہی اور وہ چپ چاپ سنتا رہا، جب میں بول بول کر تھک گئی تب اس نے مجھ سے کہا کہ کچھ دن صبر کرلو، میں نے ایک اچھی کمپنی میں انٹرویو دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ مجھے اپنے پاس جاب پر رکھ لیں گے، پلیز مجھے تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے۔ تمہارے علاوہ تو میرا اس دنیا میں اور کوئی بھی نہیں ہے۔

 میں نے کہا بھاڑ میں جاؤ تم، میں تمہارے وجود کو برداشت ہی نہیں کر سکتی، اللہ کرے جب تم مزدوری پر جاؤ تو واپس گھر ہی نہ آؤ۔ بہت منحوس دن تھا جب میری تم سے شادی ہوئی تھی۔ میں اسے برا بھلا کہتی رہی اور وہ چپ چاپ گھر سے چلا گیا۔ کچھ دہر بعد ہی محلے والوں نے ایک چارپائی کو ہمارے دروازے پر رکھ کر مجھے آواز دی،میں نے دیکھا تو چارپائی پر عامر کی لاچ پڑی تھی۔

عامر کے ایک دوست کی بیوی نے مجھے بتایا کہ کل مزدوری کے دوران عامر کے سر پر ایک اینٹ گرگئی تھی۔  جسکی وجہ سے عامر کا سر پھٹ گیا، اس کے سر پر8 ٹانکے لگے تھے۔ ڈاکٹر نے عامر کو گھر پر ایک ہفتہ آرام کرنے کو کہا تھا۔ آج صبح جب عامر سڑل پار کر رہا تھا ۔ توکمزوری کی وجہ سے اس کا سر چکراگیا اور وی سڑک کے درمیان میں ہی گر پڑا، ایک تیز رفتار ٹرک نے عامر کو کچل دیا اوروہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ میں یہ سن کر اپنا سر پیٹنے لگ گئی، میں عامر کی لاش پر بین کرنے لگی کہ ایک دفع واپس آجاؤ، میں تم سے کسی قسم کی شکایت نہیں کروں گی ۔

   روکھی سوکھی کھالوگی مگر چپ رہوں گی، مگر اب تو وہ ہمیشہ کےلیے مجھ سے دور ہوچکاتھا۔   میں زندگی بھر یہ بات نہ بھول پائی کہ وہ زخمی سر کے ساتھ گھر میں آیا تھا، اور سوکھی روٹی نمک کے ساتھ کھا کر سوگیا تھا۔  مجھے اس کی خدمت کرنی چاہیئے تھی جبکہ میں چپ چاپ سوئی رہی۔

دودن بعد ہی ایک کمپنی کی طرف سے ہمارے گھر ایک خط آیا، اصل میں وہ عامر کا جائنگ لیٹر تھا۔   عامر کو ایک کمپنی کی طرف سے جاب کی آفرآئی تھی۔     خط میں ابتدائی تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے لکھی ہوئی تھی، اور ساتھ میں کمپنی کی طرف سے ایک گاڑی بھی دی گئی تھی۔        مجھے اپنے آپ سے نفرت ہورہی تھی۔   وہ مجھ سے بے حد پیار کرتاتھا۔

اس بات کا مجھے اس دن پتا چلا جب مجھے اس کی ایک ڈائری ملی تھی۔ ڈائری کی آخری لائن پر لکھاتھاکہ میرے سر میں شدید تکلیف ہے، ڈاکٹرنے آرام کا مشورہ دیا ہے مگر مجھے کام پر جاناہے۔   میں ثریا کو ناراض نہیں کر سکتا،وہ مجھ سے ناراض ہے مگر میں اسے جلد راضی کرلوگااور اس کے تمام گلےشکوے دور کردوں گا۔

میں نے عدالت میں اپنے آپ کو پیش کردیا اور کہا کہ میں نے اپنے شویر کو قتل کر دیا ہے۔  جب انھوں نے میری بات تفصیل سے سنی تو عدالت نے مجھے یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ آپ نے اپنے شوہر کو براہ راست قتل نہیں کیا۔ میں جتنے دن زندہ رہوں گئی ہر عورت کو یہی مشورہ دیتی رہوں گی کہ اپنے رویے سے اپنے شوہر کو اذیت کبھی نہ دینا،اس کا ساتھ ہر مشکل میں دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں