ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا ۔ تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہوجائے گی ۔ اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا ۔ جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا تو سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لیے ۔ سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں ۔ تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لیے میری ہو جائے ، بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھا رہا تھا اور اپنے آس پاس ہورہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
اسی وقت اس بھیڑ میں ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا ۔ بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہوگیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہو گئی ۔ جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کی ۔ ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے ۔ افسوس ہم عقل کے اندھے لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں ۔ ہم اللہ کو حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں ۔
لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پالیا جائے ۔ اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز ہماری ہوجائے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں