83

اس بڑھاپے میں بھی کوئی حال تک پوچھنے نہیں آتا

میں اور سجاد ایک ہی بینک میں کا م کرتے تھے ۔ جب ٹریننگ پر تھے تو سجاد کی نشت میرے برابر تھی۔میری انگریزی زیادہ اچھی نہ تھی۔ سجاد نے محسوس کر لیا کہ کسی لمحے میرا قلم رک جاتا ہے اور میں سوچنے لگتی ہوں۔وہ نہایت ذہین آدمی تھا، فورا بھانپ جاتا اور جو لفظ میں ذہن کے نہاں خانوں میں ڈھونڈ رہی ہوتی ، فورا کاغذ پر لکھ کر آگے کر دیتا۔اس امتحان میں سجاد نے میری کافی مدد کی۔میں اس کی ازحد مشکور ہوگئی۔ٹریننگ ختم ہوگئی ۔ ہم اپنے آفس میں لوٹ آئے ۔ ہماری تعیناتی ایک ہی فلور پر ہوئی ۔ میری سیٹ عین اس کی سیٹ کے سامنے تھی۔ میں ایک پاکیزہ خیال ، سیدھی سادی اور سادہ لوح لڑکی تھی۔فیشن کی الف۔ ب نہ جانتی تھی۔ڈیوٹی کے اوقات میں سارا دن سر پر دوپٹہ اوڑھے رہتی۔

چست لباس نہ پہنتی تھی۔میک اپ کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ دور جدید میں جہاں چمکتی دمکتی لڑکیاں کھٹ کھٹ کرتی آتیں ، میں پائوں میں سادہ چپل ڈالے، خاموشی سے اپنی کرسی پر آکر بیٹھ جاتی ۔سر جھکائے تمام وقت کام کرتی رہتی ،کسی سے بات نہ کرتی اور کینٹین تک نہ جاتی ۔ پرس میں بسکٹ یا گھر سے سینڈوچ بنا کر لاتی اور اسی پر گزارہ کرلیا کرتی ۔سجاد کو اپنا محسن سمجھتی ۔ سامنے گزرتے ہوئے اسے اسلام ضرور کرتی لیکن اس سے زیادہ راہ و رسم نہ رکھی ۔ جب کبھی آفس ورک میں کچھ دشواری محسوس کرتی ، سجاد سے پوچھ لیتی اور وہ پوری توجہ سے میری رہنمائی کردیتا۔ پہلے وہ میرا محسن تھا، اب میں نے اسے اپنا استاد بھی تسلیم کرلیا تھا اور زیادہ ادب اور لحاظ کرنے لگی۔نرمی اور انکساری سے بات کرتی ۔

وہ کہتا یہاں اچھے لوگ کم اور برے زیادہ ہیں۔ جانتی نہیں ہو یہ اپنے ساتھ کام کرنے والی لڑکیوں کے بارے میں بعد میں کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ اگر سن لو تو دفتر آنا چھوڑدو ۔ میں آنا کیسے چھوڑ سکتی تھی۔ اتنی مشکل سے مجھے ملازمت ملی تھی ، وہ بھی مرحوم والد کے ایک دوست کی سفارش پر …! مجھے اپنی بیوہ ماں ، دو چھوٹی بہنوں اور ایک بھائی کی کفالت کرنی تھی جو ابھی اسکول میں پڑھ رہے تھے ۔ سجاد کی ہر ہدایت پر عمل کرتی رہتی ۔ کسی سے دفتر میں بلا ضرورت بات نہ کی ۔ میری فطرت ہی نہ تھی غیر مردوں سے بلاوجہ باتیں کرنے یا فری ہونے کی۔

برانچ میں ایک اچھی اور نیک نام لڑکی جانی جانے لگی۔ کچھ دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ آفس کی چھٹی کے بعد وہ سڑک پر کھڑا ہوجاتا ہے ۔میں نے دیگر لڑکیوں کے ساتھ وین لگوالی تھی۔جب تک وین میں سوار نہ ہوجاتی ، وہ وہاں کھڑا رہتا۔ایک روز میری ساتھی لڑکی  نے کہا ، عتیقہ ! یہ سجاد کو کیا ہوگیا ہے، آدھ گھنٹے تک دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ۔ جب تک ہماری وین نہیں چل پڑتی ، تب تک یہ اپنی گاڑی میں نہیں بیٹھتا ۔لگتا ہے جیسے یہ ہم لڑکیوں میں سے کسی کی نگرانی کرتاہے۔ اس لڑکی کے اشارے پر بھی مجھ بے وقوف کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ میری نگرانی کرتا ہے۔

ایک روز امی کی طبیعت خراب ہوگئی ۔میں نے چھٹی کرلی ۔ دو روز بعد دفتر آئی تو اسے بے تاب پایا ۔ پوچھا کیوں غیر حاضرتھیں؟امی بیمار ہیں۔  میں نے بتایا۔ کیا میں ان کی عیادت کے لئے تمہارے گھر آسکتا ہوں؟ امی سے پوچھ کر بتائوں گی ۔میں نے جواب دیا ۔ اگلے روز امی کے لئے پھر چھٹی کرنا پڑی ۔ آفس ٹائم کے بعد وہ ہمارے گھر آگیا ۔ میراپتا اس نے میری آفس فائل سے نجانے کب نوٹ کر کے رکھا ہوا تھا۔دروازے پر اسے کھڑا دیکھا تو حیرا ن رہ گئی ۔ کیا اند آنے کو نہی کہوگی ، اب اتنی تو بد اخلاق نہیں ہو تم …!مجھے کہنا پڑا۔ آجائیے ۔تمہاری والدہ کی وعیادت کرنے آیا ہوں ، ان سے ملوائو۔میں امی کے کمرے میں لے گئی ۔ ان کے پاس کرسی پر بیٹھ کر سجا دنے باتیں شروع کردیں ۔باتوں کا وہ ماہر تھا،امی کو خوب اپنی باتوں سے لبھایا ۔ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھے۔ آپ کا بیٹا ابھی چھوٹا ہے ۔ یہ میرا فون نمبر ہے ۔ جب ضرورت پڑے ، ڈاکٹر کے پاس جانا ہو، اسپتال جانا ہو، مجھے فون کرد یجئے ، حاضر ہو جائوں گا۔

امی اس کی با توں سے کافی متاثر ہوئیں۔ میں نے  چائے پلائی اور رخصت کیا ۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ میں افس میں اور وہ آفس ٹائم میں میر ے گھر امی کے پاس بیٹھا دکھ سکھ کررہا ہوتا ۔ ان سے باتیں کرکے ان کو شیشے میں اتار لیا ۔ میں چھٹی کے بعد گھر پہنچتی ۔امی بتاتی سجا د آیا تھا ۔ یہ کیک لایا ہے، میری عیا دت کےلئے چھٹی کر لی تھی اس نے ! حیرت سے میں تصویر بن جاتی ۔ میں تو چھٹی نہیں کرتی ۔ اسے میری ماں کی زیادہ فکرتھی کہ چھٹی کر کے آبیٹھا تھا  میری ماں کے پاس …! ایک روز اس نے اپنا مدعا بیان کرہی دیا۔والدہ سے میرا ہاتھ مانگ لیا وہ بھی میری غیر موجودگی میں ! وعدہ کیا کہ میرے بھائی کی نوکری لگوادے گا ۔ ہمارا مکان خستہ حال تھا ، بینک سے لون لے کر دیا اور مرمت کے وقت مزدوروں کے ساتھ کھڑا رہا۔

والدہ اس کے بھرے میں آگئیں ۔ مجھے سمجھاتی بہت شریف انسان ہے ، رشتہ مانگ رہاہے تمہارا عزت سے ، تمہاری شادی کی عمر یہی عمر ہے ۔کہیں عمر نہ نکل جائے ۔ وعدہ کیا ہے کہ ملازمت سے منع نہیں کرے گا اور تنخواہ سے ایک پائی نہ لے گا ۔ تم میرے  پاس ہی رہوں گی ۔  ہر شرط ماننے کو تیا ر ہے بس تم ہاں کہہ دو ۔ غرض امی نے میرا پیچھا پکڑ لیا ، مجھے ہاں کہتے بنی۔اس کی صرف ایک مجبوری تھی کہ بزرگوں کو نہیں لا سکتا تھا۔دوستوں کو نکاح کے وقت لے آئوں گا، نکاح سادگی سے ہوگا۔فی الحال بینک میں بھی ہم کسی کو نہ بتائیں گے کہ ہماری شادی ہوگئی ہے،الگ الگ  رہیں گے، جب تک بھائی برسر روزگا نہیں ہوجاتا۔ہم ماں بیٹی بے وقوف یا حد درجہ سادہ دل تھے کہ گہرائی میں سوچاہی نہیں کہ یہ آدمی شادی شدہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس کےبارے  میں کسی سے معلوم تو کرنا چاہئے وہ کیوں شادی کو اس قدر خفیہ رکھنے پر اصرار کر رہا ہے ۔

امی بیچاری زمانے کے چلتر کیا جانیں ۔ ان کو تو بس اس بات کی پڑی تھی میری بیٹی کی جلد شادی ہوجائے ، لڑکا بینک آفیسر ہے، خوبصورت اور مہذب ہے۔ اچھے خاندان کا لگتا ہے۔ ہر شرط پر راضی ہے ، بیٹی بھی میرے ساتھ رہے گی ۔ سجاد کو پیسے کا لالچ نہیں ہے۔ہماری کفالت بھی کرتی رہے گی ، مرد کا سہارا مل جائے گا ۔ امی کے گھر پر نکاح خواں اور اپنے چار دوست لے آیا اور اس کا مجھ سے سادگی سے نکاح ہوگیا۔ واقعی اس نے مجھے ماں سے جدانہ کیا، بہنوں کی شادیوں میں بھی مدد کی ، بھائی کی نوکری لگوادی لیکن امی کی وفات کے بعدبتایا کہ میں شادی شدہ ہوں،پانچ بیٹوں کا باپ ہوں ۔تم کو عمر بھر گھر نہیں لے جاسکتا ۔ شادی کو بھی خفیہ رکھنا پڑے گا۔اپنے شناختی کارڈ پر تم مسز سجاد کبھی نہ لکھ سکوں گی اور نہ اپنے”بے”فارم میں ، پہلی بیوی جو حشر میرا اور تمہارا کرے گی، تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔

تم ہمیشہ اپنی ماں کے گھر رہوں گی اور میں کبھی کبھی آیا کروں گا، وہ بھی دن میں…! رات کو کبھی یہاں نہیں رہوں گا۔بیوی اس کی اجازت نہ دےگی۔ اسے شک میں نہیں ڈال سکتا۔ تمہاری ذمہ داریاں پوری ہوچکی ہیں،اب تم میری ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹائوگی ۔میرےلڑکو ں کی تعلیم کا بہت خرچہ ہے، وہ مہنگے اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور میں پانچ لڑکوں کی فیسیں نہیں دے سکتا۔میرے تین لڑکوں کی فیسیں تم دو گی اور اپنا خرچہ بھی خود اٹھا ئوگی ، کیو نکہ میرے پاس اتنا پیسہ ہی نہیں ہوتا کہ اپنی دوائیں لے سکوں۔اگر یہ سب منظور ہے تو میری بیوی رہو ورنہ آزادی کا پروانہ لے سکتی ہو۔ اس گھا گ شخص نے کتنی دور کی سوچی تھی ، کیا زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔سجا د کے اس انکشاف پر میں حیران رہ گئی۔ بہت دکھ ہوا کہ کتنے دنوں تک مجھے دھوکے میں رکھا ، جھوٹ بولتا رہا اور اب حقیقت آشکار کی تو آزادی کا پروانہ دینے میں بھی نہیں ہچکچاہٹ…۔

میں ایک شریف لڑکی تھی۔ ہمارے خاندان میں کبھی کسی لڑکی نے طلاق نہیں لی تھی ۔ طلا ق لے کر کیا کرتی۔ اس نے اولاد پیدا نہ کی ۔ کہا کہ میری اولاد ہے اور تم سے اولاد ہوگئی تو اپنے خاندان والوں اور بچوں پر ظاہر نہ کر سکو گا۔جب تمہیں بیوی ظاہر نہیں کر سکتا تو اولاد کو باپ کا نام کیونکر دے سکتا ہوں ۔ دل میں ایک گونسا سا لگا۔ سوچا کہ جو شخص اولاد پیدا کرنا نہیں چاہتا ، وہ میرا کیسے ہو سکتا ہے لیکن طلاق لے کر بھی کیا کرتی۔جیسی زندگی ملی، اسے قبول کرلیا۔اس کے تین بچوں کی فیسیں دیتی رہی۔سجا د کے تمام لڑکے پڑھ لکھ کر اعلٰی عہدوں پر فائز ہوگئے ،ان کی شادیاں ہو گئیں۔وہ اپنی بیوی ، بچوں ، پوتے، پوتیوں میں گم ہو گیا اور میں اپنے گھر میں کسی سائے کی طرح گم ہوگئی۔

ریٹائر ہونے کے بعد بڑھاپے کی لاچا ر عمر میں چار دیواری میں قید ہر آہٹ پر انتظار  کرتی ہوں۔کبھی سجاد آجائے گا ، دکھ سکھ پوچھے گا، مجھ بیمار کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے مگر اس کو اپنوں سے فرصت نہیں ہے بھائی امریکہ چلا گیا وہ جیسے ہمیں بول گیا ،بہنیں  کبھی کبھی آجاتی ہیں تو لگتا ہے زندہ ہوں ورنہ جیتے جی مرچکی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں